حمیت نام تھا جس کا ....

22 نومبر 2009
وہ بال ٹھاکرے کے غنڈوں کے ہاتھوں اپنی دھنائی کرائے جا رہے تھے، لہولہان ہو رہے تھے اور اپنے آفس کا حلیہ بگڑتے دیکھ رہے تھے مگر بس ننگی غنڈہ گردی کو ہندو انتہا پسندی تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے۔ یہ ہے سیکولر بھارت میں ہندو راج کی اصل گواہی کہ ہندو انتہا پسندی کے ہاتھوں بے شک اپنی درگت بنوا لو۔ بے شک اپنی جان بھی ضائع کرا لو مگر دنیا کو بھارت کا سیکولر چہرہ ہی دکھاتے رہو۔ ایک ہمارے کچھ ایسے بدبخت بھی ہیں جنہیں پاکستان کا اسلامی جمہوریہ ہونا بھی گوارا نہیں اور یہاں بھی ہندو ذہنیت کو غالب کرنے کی سازشوں میں مصروف رہتے ہیں۔ممبئی کے ایک نجی ٹی وی چینل آئی بی ایم۔ 7 کے اندر بال ٹھاکرے کے پندرہ بیس غنڈوں نے گھس کر جو اودھم مچایا اور اس کے کارکنوں کو چن چن کر گھسیٹتے، کپڑے پھاڑتے انہیں لاتوں گھونسوں کی زد میں رکھا۔ وہ ایسی ننگی غنڈہ گردی کی واردات تھی کہ اس کے خلاف پورے بھارتی میڈیا کو احتجاجاً سڑکوں پر آ جانا چاہئے تھا۔ ہمارے ٹی وی چینلز کے بیشتر اینکرز تو ہندو انتہا پسند تنظیم شیوسینا کے کارکنوں کی چینل آئی بی ایم۔ 7 میں غنڈہ گردی کے مناظر کو بار بار دکھاتے ہوئے پیچ و تاب کھا رہے تھے۔ دہائی دے رہے کہ یہ تو آزادی اظہار اور آزادی صحافت پر حملہ ہے جس پر صرف بھارت ہی نہیں پوری دنیا کے صحافیوں کو احتجاج کرنا چاہئے۔ ہم تو ابھی سے احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے ہمارے کئی اینکرز کے چہروں پر رقت کی کیفیت طاری ہو گئی مگر جن کے لئے اس دردمندی کا اظہار ہو رہا تھا وہ تو اس واردات کو ہندو انتہا پسندی تسلیم کرنے کو ہی تیار نہیں تھے۔ بال ٹھاکرے کے غنڈوں کے ہاتھوں خود اپنا حلیہ بگڑوانے اور اپنے آفس کی الٹ پلٹ کے مناظر دیکھنے والے اس ٹی وی چینل کے رکن سے جب ہمارے ایک ٹی وی چینل کے اینکر نے بڑے جذباتی انداز میں استفسار کیا کہ یہ ایک متعصب ہندو تنظیم کی انتہا پسندانہ کارروائی ہے۔ اس نے بڑے سکون کے ساتھ جواب دیا ”میں اس بات کو ہرگز تسلیم نہیں کرتا۔ یہ ہندو انتہا پسندی قطعی نہیں بلکہ دو جماعتوں کی سیاسی مقابلہ بازی کا نتیجہ ہے“ ہمارے اینکر نے پوچھا کہ اس غنڈہ گردی کے خلاف کیا بھارت کے تمام صحافیوں کو متحد ہو کر احتجاج نہیں کرنا چاہئے، جواب آیا ”ہم نے اس واقعہ سے ہوم منسٹر اور انفرمیشن منسٹر کو آگاہ کر دیا ہے، وہ ابھی ادھر آ رہے ہیں، پھر دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے“ہمارے جذباتی اینکر نے معروف بھارتی صحافی اور پارلیمنٹیرین کلدیپ نیئر کو لائن پر لیا اور پہلا سوال یہی داغا کے آپ کے ملک کے ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ غنڈہ گردی ہوئی ہے، کیا آپ نہیں سمجھتے کہ یہ ہندو انتہا پسندی کا عملی مظاہرہ ہے۔ کلدیپ نیر نے بھی بڑے اطمینان کے ساتھ یہی جواب دیا کہ ہرگز نہیں۔ میں اسے ہندو انتہا پسندی بالکل نہیں سمجھتا بلکہ یہ بال ٹھاکرے کی جماعت کے حالیہ انتخابات میں بری طرح ہارنے کا ردعمل ہے۔جناب یہ ہے ہندو ذہنیت۔ منہ پہ رام رام ہوتا ہے، بغل میں چھری ہوتی ہے۔ پرچار سیکولرازم کا کیا جاتا ہے۔ درس انسانیت کا دیا جاتا ہے مگر ہندو راج کا دفاع کرنے کا بھی کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیا جاتا۔ بال ٹھاکرے اور اس کی تنظیم اتنی طاقتور تو ہرگز نہیں کہ وہ جسے چاہے اور جہاں چاہے اس کا حلیہ بگاڑ دے اور ریاستی مشینری تک کو اس کے خلاف حرکت میں آنے کی جرات نہ ہو۔ درحقیقت وہ حکومتی سرپرستی میں ہی ساری غنڈہ گردی کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو للکارتے ہیں، انہیں ادھیڑنے کا ہذیان بکتے ہیں۔ غنڈہ گردی کے عملی مظاہروں سے بھی گریز نہیں کرتے اور بدستور دندناتے پھرتے ہیں۔ ان کے خلاف کبھی، کہیں، کوئی قانون حرکت میں نہیں آتا۔ کیا ہندو راج کا اس سے بڑا ثبوت اور کوئی ہو سکتا ہے کہ ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں مار بھی کھاﺅ اور ”ہندتا“ پر حرف بھی نہ آنے دو۔ بھارت جانے والے ہمارے کھلاڑیوں اور فنکاروں کو شیوسینا کی کون کون سی غنڈہ گردی نہیں بھگتنا پڑی خود بال ٹھاکرے اپنی ”ٹھاکرانہ مستیوں“ کا اظہار و مظاہرہ کرتا نظر آتا ہے۔ مسلمانوں پر بھارت ماتا کی دھرتی تنگ کرنے کے دعوے صرف بال ٹھاکرے کی زبان پر نہیں ہوتے، اندرا کے پوتے ورون گاندھی نے تو اپنی انتخابی مہم میں مسلمانوں کی نسل کشی کے اعلانات بھی شروع کر دئیے تھے۔ کارروائی کیا ہوئی، محض انہیں حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا کہ کہیں کوئی مسلمان باشندہ اشتعال میں آ کر انہیں نقصان نہ پہنچا بیٹھے۔ بال ٹھاکرے بھی اسی طرح بڑھکیں لگاتا ہے۔ اس کے دس بیس غنڈے جہاں چاہتے ہیں ہندتا کی دھاک بٹھا دیتے ہیں مگر اس سے بھارت کے سیکولر چہرے پر کوئی ڈنٹ نہیں پڑتا کہ رام راج کے لئے سارے ہندو ایک ہیں جس میں اگر کوئی اکا دکا بے چارہ ہندو بھی اختلاف رائے کا اظہار کرے تو ”کرنل پروہت“ کے ہاتھوں اس کو بھی ”کرکرے“ بنا دیا جاتا ہے اور ہندو انتہا پسندی اپنی ایسے جرائم کی عام ہندو باشندے ہی نہیں، بھارتی ہندو سرکار بھی پردہ پوشی کرتی ہے۔پھر ایسا کیوں ہے کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ہماری مملکتِ خداداد بھی راسخ العقیدہ مسلمانوں کا جینا دوبھر کر دیا گیا ہے اور انہیں دہشت گرد بنا کر انسانیت کے ٹھیکیداروں نے انہیں کیڑے مکوڑوں کی طرح کچلنا اپنا اولین مقصد بنا لیا ہے اور ہمارے حکمران بھی مکر و فریب پر مبنی اس فلسفے کو سچ مان کر اپنے ہی مسلمان شہریوں کے قتل عام پر لگے ہوئے ہیں اور ہندو ذہنیت کی پروردہ جماعتوں کو اب اسلامی جمہوریہ کو عوامی جمہوریہ پاکستان میں بدلنے کا حوصلہ مل رہا ہے۔ ایک ہندو ٹی وی چینل اگر بال ٹھاکرے کے غنڈوں کی زد میں آ کر بھی اسے ہندو انتہا پسندی تسلیم کرنے کو تیار نہیں تو بھارت کے کے ساتھ دوستی کے شوق میں مبتلا ہمارے میڈیا اور سیاستکاروں کو بھی کیا اپنے وطن کے نام کی لاج نہیں رکھنی چاہئے۔ مگر ہمارا حبِ دین تو کجا، حب الوطنی بھی کبھی جوش نہیں مارتی
حمیت نام تھا جس کا، گئی تیمور کے گھر سے