”دفاع وطن پر آرمی چیف کا تاریخ ساز خطاب“

22 نومبر 2009
آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پاکستان ایئرفورس اکیڈمی میں منعقدہ پاسنگ آو¿ٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے دفاع کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔ پاکستان آرمی جنگجوو¿ں اور انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے، قائداعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان قائم رہے گا پاکستان کو اپنے مہم جو ہمسایہ سے مستقل خطرہ ہے، دشمن ہمسایہ توسیع پسندانہ عزائم رکھتا ہے۔ پاک فوج ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو ناکام بنانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی انفارمیشن سیکرٹری فوزیہ وہاب نے ایک ٹی وی پروگرام میں آرمی چیف کے مذکورہ خطاب کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال پر کہا ہے کہ صدر آصف زرداری اور آرمی چیف کے درمیان وطن عزیز کو لاحق سیکورٹی خطرات سے متعلق نقطہ نظر میں واضح فرق ہے۔ صدر آصف زرداری کا اس سلسلہ میں بعینہ وہی موقف ہے جو امریکہ کا ہے۔ یعنی پاکستان کو خطرہ القاعدہ اور طالبان سے ہے نہ کہ بھارت سے ، انڈیا کی طرف سے پاکستان کی سالمیت و خودمختاری اور آزادی کو تسلسل کے خطرات لاحق ہیں جن کے باعث نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں بلکہ انڈیا نہایت ڈھٹائی کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو ان کی مرضی کے مطابق حق خودارادیت کو دینے سے انکاری ہے جس کو اقوام متحدہ اپنی قراردادوں کے ذریعے منظور کر چکی ہے اور اس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا کی ڈیڑھ ارب آبادی کے امن کو خطرات کا سامنا ہے۔ تاہم آرمی چیف نے اپنے مذکورہ بیان کے ذریعے حتمی طور پر واضح کر دیا ہے کہ وہ بھارت کو پاکستان کی خودمختاری و آزادی کے لئے بدستور ایک سنگین خطرہ سمجھتے ہیں سنٹ کام کے کمانڈر جنرل پیٹریاس امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی ترجمانی کرتے ہوئے حال ہی میں پاکستان کو درپیش خطرات کو ایک عجیب و غریب تشبہیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پاکستان کی سالمیت و آزادی کو اس وقت مختلف النواع مسائل و خطرات نے گھیر رکھا ہے لیکن ان سب میں سے سنگین خطرہ القاعدہ اور طالبان سے لاحق ہے۔ وائٹ ہاو¿س کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل جیمز جونز نے حال ہی میں پاکستان کے اپنے حالیہ دورے کے دوران صدر پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی قائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان بھارت کی طرف سے کسی خطرہ سے بے فکرو بے پرواہ ہو کر اپنی افواج کا سارا رخ و توجہ صرف پاکستان کی سرحدوں کے اندر تحریک طالبان پاکستان اور دہشت گردوں کے قلع قمع کی طرف مرتکز کرنا چاہئے۔
پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کا تازہ ترین یہ بیان کہ وطن عزیز کو مہم جو ہمسائے بھارت سے مستقل خطرہ ہے جس کی بناءپر پاکستان کی خود مختاری اور ملکی سلامتی کےلئے ہماری افواج دفاع وطن کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہےں۔ تاریخ ساز اہمیت کا حامل بیان ہے۔ مجھے یہ وضاحت کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ ”کسی بھی حد تک“ جانے کی حدود ایک نیر کلیئر صلاحیت حامل طاقت کےلئے کیا معنی و نتائج اپنے اندر پنہاں رکھتے ہیں۔ سمجھنے والے کیلئے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اتمامِ حجت کیلئے جنرل اشفاق پرویز کیانی نے یہاں تک کہہ دیا کہ ”ملک کے دفاع کےلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے کسی کو ہماری دفاعی صلاحیت کا غلط اندازا نہیں لگانا چاہئے۔ پاکستان ہر خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دشمن نے مجبور کیا تو مقابلے کےلئے تیار ہے۔ مزید برآں یہ کہ جنرل کیانی نے پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے کہ انشاءاللہ حضرت قائداعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔ قائداعظم اور علامہ اقبال کے نظریات کے مطابق پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بنایا گیا ہے اور یہی نظریہ ہمارے قومی وجود کی بنیادی اساس ہے۔“
راقم نے پاکستان نیشنل فورم کی طرف سے گذشتہ روز قومی سلامتی پر ایک جرÉت مندانہ مضبوط موقف پر آرمی چیف کو مبارک باد کا مراسلہ بھی ارسال کیا ہے۔ راقم کے تجزیہ کے مطابق پاکستان کی فوج کے سربراہ نے نہ صرف بھارت کو اپنے پاک دشمن عزائم سے باز رکھنے کیلئے خبردار کیا ہے بلکہ امریک کی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ اور وائٹ ہا¶س کے قومی سلامتی کے مشیر دونوں کو بالواسطہ طور پر اپنی حدود کے اندر رہنے کا مناسب اور بروقت مشورہ دیا ہے۔ پاکستان کو کسی ”بھیڑیے“ سے خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی افواج ہر دشمن کو پہچانتی اور ہر ”بھیڑیے“ کا مقابلہ کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہے۔ خواہ وہ دہشت گرد اور انتہا پسند خود کش بمبار ہوں یا ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپنے والا ہمارا ازلی دشمن۔