”پہاڑوں پر ڈالروں کی بارش“

22 نومبر 2009
کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ ہم مکمل طور پر عقل سے عاری ہو چکے ہیں، ہمیں کچھ سجھائی نہیں دیتا، کیا ہمارے سےاسی رہنما اور حکمران۔۔۔ امریکہ کو اتنی سی بات بتانے کی بھی جرات نہیں رکھتے کہ انتہا پسندوں کو اتنا جدید اسلحہ کہاں سے اور کون مہیا کر رہا ہے؟ کیا انہوں نے ان پہاڑوں میں اسلحہ فیکٹرےاں قائم کر رکھی ہیں۔۔۔؟ مواصلات کا جدید نظام ، جدید ترین اسلحہ ، بارود اور ڈالر یہ سب کہاں سے مہیا ہوتا ہے ۔۔۔۔؟ کیا انہوں ان پہاڑی علاقوں ، وادیوں اور جنگلوں میں ڈالر بھی چھاپنے لگے ہیں ۔۔۔ آخر کوئی توغےر ملکی طاقت ہے نا جو ، ان مٹھی بھر لوگوں کو ”کمک “ پہنچا کر ہماری فوج سے مسلسل برسرِ پیکار رکھے ہوئے ہے ۔۔۔ ہمارے سیاسی رہنماﺅں سے امریکی نمائندے مسلسل ملاقاتےں کرتے ہیں ، لیکن انہیں یہ باتےں کوئی نہیں بتاتا ۔۔۔ اگر بتائی جاتی ہیں تو امریکہ ان باتوں پر توّجہ نہیں دیتا ۔۔۔ جنوبی وزیرستان کے آپریشن میں پاک فوج کامیابیاں حاصل کر رہی ہے اور شدت پسندوں کے پاﺅں اکھڑچکے ہیں۔ لیکن ان کی قیادت کہاں بھاگ گئی ہے۔۔ اگر انہیں ارد گرد کے سرحدی علاقوں میں پناہ نہیں دی گئی تو کیا انہیں آسمان کھا گےا ہے یا زمین نگل گئی ہے ؟؟۔۔۔ اب امریکہ وضاحتےں کر رہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی مدد نہیں کر رہا ۔۔۔ تو پھر امریکہ کو یہ بتانا چاہیے کہ وہ دہشت گردی کی اس جنگ میں ہمارا حلیف بنا ہوا ہے اسے یہ کھوج لگانے میں ہمارا ساتھ دینا چاہیے کہ ان مٹھی بھر دہشت گردوں کو ہر قسم کی امداد کہاں سے آتی ہے ؟ یہ سادہ سا سوال امریکی نمائندوں کو سمجھنا چاہیے اور خود ہمارے رہنماﺅں کو ڈالروں کی محبت سے بالاتر ہو کر اپنے وطن کی سلامتی کے لیے سوچنا چاہیے کہ آخر ہماری فوج کو کمزور کرنے کی سازش کیوں اور کہا ں ہو رہی ہے ۔۔۔؟ اس سلسلے میں جنرل اشفاق کیانی کا تازہ بیان بھی مدنظر رکھا جائے جس میں قوم کو یہ باور کرایا گےا ہے کہ ملک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے ۔۔۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا پڑوسی ملک سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے ؟ ہر روز دھماکوں سے ملک کو برباد کرنے کی سازش میں کون لوگ شریک ہیں ۔۔۔ وطن عزیز واقعتا نازک دوراہے پر کھڑا ہے ۔قوم کو ہر لحاظ سے خوف زدہ کیا جا رہا ہے ۔ لوگ چینی اور آٹے کو بھول کر اپنی جان کی سلامتی کی فکر کرنے لگے ہیں ۔ فوج اور پولیس فورس کے جوان شہید ہو رہے ہیں ۔ قانون کا یہ حال ہے کہ عدلیہ کے فیصلے کے باوجود چینی ۰۴ روپے فروخت کر نے پر عمل درآمد نہیں کرایا جاسکا ، امن عامہ کے مسائل گھمبیر تر ہوتے جارہے ہیں ۔۔۔ کتنے ناکے اور کتنے حفاظتی اقدام کیے جائیں گے ؟ خودکش حملوں سے بچنے کے لیے اب کوئی اور ہی چارہ کیا جائے ۔۔۔ بظاہر انہیں روکنا ناممکن ہے ۔۔۔ لیکن اب تو انہیں روکنے والا پولیس کا ہرسپاہی بھی جان ہتھیلی پر رکھ کر آگے بڑھتا ہے ۔۔۔ اب تو ان چیک پوسٹوں اور ناکوں پر سینہ تان کر کھڑے ہونے والے وطن کے بہادر سپوت ناکے پر نہیں، موت کے منہ میں کھڑے ہوتے ہیں۔۔۔
نجانے کیوں ہمیں یہ سب کچھ دیکھ کر ”ایسٹ انڈیا“ کا ابتدائی زمانہ یاد آرہا ہے۔۔۔ ایسٹ انڈیا کے لوگ بھی یہاں محض تجارت کے لیے آئے تھے۔۔۔ مگر دھےرے دھےرے وہ ریاستی معاملات میں آگے بڑھتے گئے۔۔ عوام بھی وقتی طور پر سڑکیں پل اور دیگر ترقیاتی کاموں سے خوش ہو سکتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ایسے تعلقات ، ایسا ”اثر و رسوخ“ قومی سطح پر ہمیں اپاہج اور معذور بنا کر مکمل طور پر غےر ملکی طاقتوں کے رحم و کرم پر لا کھڑا کر ے گا۔۔۔۔
حالانکہ ابھی ایسا وقت نہیں آیا کہ بقول شاعر
غم دوراں کے آگے سر جھکا دیں
اب اتنے بھی گئے گزرے نہیں ہیں
ہم تو کہتے ہیں امریکہ کو صاف صاف بتاےا جائے کہ :
یہ ٹھےک ہے کہ تےرے برابر بھی ہم نہیں
لیکن کسی کے رحم و کرم پر بھی ہم نہیں