موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رُخ دوست

22 نومبر 2009
پاکستان کی نظریاتی، قومی، دینی، اساسی، تہذیبی، نفسیاتی، اسلامی اور جغرافیائی حیثیت و کیفیت اور پاکستان کی بابرکت تخلیق اس کی تعمیر و ترقی، سالمیت و استحکام عظمت و وقار کی ضمانت دیتا ہے۔ حضرت علامہ اقبالؒ اور حضرت قائداعظمؒ اس حوالے سے بار بار تلقین فرماتے رہے کہ اگر برصغیر میں ایک مرکزی استعماریت پسندانہ ہندو حکومت معرض وجود میں آ گئی تو اسلامیان ہند، قومی دینی، اسلامی، نظریاتی، تاریخی طور پر نابود ہو جائیں گے اور پھر اس کے اثرات صرف اسلامیان ہند پر ہی مرتب نہیں ہوں گے، البتہ اس سے تمام عالم اسلام تباہی اور بربادی سے ہمکنار ہو جائے گا دراصل تاریخ ایک آئینے کی طرح ہوتی ہے جس سے کسی قوم کی تمام تقدیر واضح ہوجاتی ہے۔ یہاں ایک اہم سوال ابھرتا ہے کہ اگر حضرت قائداعظمؒ کے ان خیالات و نظریات کو بے نظیر غائیر پرکھا جائے تو ہمیں 1492ءکے عالم اسلام کے قومی دلدوز احوال و کیفیات انتہائی اہم طریقے سے سوچنا اور پرکھنا پڑے گا کہ جب سلطنت غرناطہ برباد ہوئی جہاں مسلمانوں نے تقریباً 9 سو سال حکمرانی کی اور ان کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا گیا پھر ہمیں 1512ءکی تاریخ کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے جب یورپ کی خطرناک صلیبی قوتوں اور طاقتوں نے شام کے ساحل پر حرمین شریفین، بیت المقدس اور عالم اسلام کی طرف بدنیت انداز سے دیکھنا شروع کر دیا تھا پھر ہمیں 1517ءکو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے، آپ کا کیا خیال ہے کہ دنیائے انسانیت کے دو جنگوں اور پاکستان اور ہندوستان کی تین جنگوں نے کس طرح کا جغرافیہ پیش کیا ہے۔ پاکستان کے مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ اگر پاکستان نہ بنتا تو اسلامیان ہند کا کیا حشر ہوتا۔ تخلیق پاکستان کے بعد جو مسلمان بھارت میں رہ گئے ہیں ان کی حالت زار اور ان کے دلدوز اور دل فگار حالات، کن کن مسائل اور مصائب کی ترجمانی کرتے ہیں یہ بھی ایک علیحدہ موضوع بحث ہے۔ حضرت قائداعظمؒ نے واضح طور پر قیام پاکستان کے بعد بھارت کے مسلمانوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کے لئے فرما دیا تھا کہ ہم پاکستان میں ان کے ذمہ دار ہوں گے لیکن آنے والی حکومتوں نے اپنے ہی مفادات و مقاصد کی آبیاری فرمائی لیکن وہ بھارتی مسلمانوں کا کچھ خیال نہ کر سکے۔ لہٰذا پاکستانی قوم کو اپنے عصر حاضر کے زہر ناک بیرونی مخالفین اور دشمنوں کے منصوبوں سے آگاہ رہنا ہے اور پوری قوم کو ہر دم، ہر ساعت یہ دھیان رہنا چاہئے اور ان کے اذہان اور قلوب میں تاریخ زوال غرناطہ موجزن رہنی چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری قومی لغزشیں، حماقتیں اور کوتاہیاں ہمیں لے ڈوبیں پھر یہ خطرہ ہے کہ کہیں داستان تک بھی نہ ہو داستانوں میں۔
چھپا کر آستینوں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے
عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں
اشد فکر کرنے کی ضرورت اس لئے ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر ”را“ ”موساد“ اور ”سی آئی اے“ کی نظریں ہیں اور اس ضمن میں Dyncorp اور بلیک واٹر کی کارروائیاں اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ آج ہمیں حضرت قائداعظمؒ کا ہر فرمان ہر حکم روز روشن کی طرح نظر آ رہا ہے جب انہوں نے فرمایا ”میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ انڈین کانگریس حکومت بنانے کے بعد برطانوی ٹھگوں کو تو یہاں سے نکال دے گی مگر خود ٹھگ بن جائے گی۔ اس لئے ہم سب کو پاکستان کے قیام کے لئے زبردست کوشش کرنی چاہئے ذرا خیال فرمائیے کہ اگر لاالہٰ الا اللہ پر مبنی حکومت قائم ہو جائے تو افغانستان، ایران، ترکی، اردن، کویت، حجاز، عراق، فلسطین، شام، تیونس، مراکش، الجزائر اور مصر کے ساتھ مل کر یہ کتنا عظیم الشان بلاک بن سکتا ہے۔
(قائداعظمؒ کا مذہب و عقیدہ از منشی عبدالرحمن خان صفحہ 188)
یہی وہ اسلامی نظام تھا جس کی تشریح اور ہدایت حضرت قائداعظمؒ نے فرمائی اور یہی اسلامی نظام نظریہ پاکستان کی روشنی میں اجاگر ہوا حضرت قائداعظمؒ اسلامی جمہوریت اقدار اور اصولوں کے زبردست علمبردار تھے، قائداعظمؒ نے آل انڈیا مسلم لیگ میں بھی انہی اصولوں اور روایات کو قائم رکھا۔ اسلامی جمہوری روح قائداعظمؒ کے رگ و پے میں سرایت کر چکی تھی غیر جمہوری عمل نہ پسند تھا اور نہ کسی کو اجازت تھی۔ لیکن عصر حاضر میں ہم نے پاکستان عزم عالی شان کو کس طرح بربادی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ حضرت علامہ اقبالؒ کا فرمان ہے
موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رُخ دوست
زندگی تیرے لئے اور بھی دشوار کرے