بڑی طاقتوں کی سیاسی و ثقافتی اجارہ داری! میڈیا کا کردار

22 نومبر 2009
پروفیسر راشدہ قریشی ۔۔۔
دی نیشن کی ایڈیٹر ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ اجارہ داری کا تصور یہ ہے کہ کوئی قوم ذہنی طور پر کسی دوسری قوم کے سیاسی نظریات و ثقافتی روایات کو قبول کرلے اور اپنی عملی زندگی میں اسے اپنانے میں تامل محسوس نہ کرے جبکہ اشعر صاحب کا کہنا ہے کہ ہمیں اجارہ داری کیلئے کوشاں طاقت کے ساتھ برسرپیکار ہونے سے بچنا چاہئے اگر ہمارا رویہ ترش و تیز ہو گا تو بڑی طاقتیں بھی ہمارے ساتھ تلخ ہو جائیں گی۔ ”ڈائیلاگ کی راہ مسائل کے حل کا بہترین طریق کار ہے۔ ڈاکٹر حسن عسکری رضوی صاحب کا خیال ہے کہ گلوبلائزیشن کے موجودہ سیٹ اپ میں محض ترقی پذیر جماعت ہی تغیر و تبدل کے مراحل سے نہیں گزر رہے بلکہ یورپ بھی اب ویسا نہیں جیساکہ تیس سال قبل وہ ہوا کرتا تھا اوریا مقبول جان کے مطابق طاقتور ملک اگر ہم پہ اجارہ داری کا خواب دیکھتے ہیں تو ہم اپنی سنہری تاریخ و عالیشان دین کے سبب ان کی اجارہ داری کو رد کر سکتے ہیں۔
ہم نے بھارت سے اپنی تہذیب میں کچھ بھی مستعار نہیں لیا۔ حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے گذشتہ روز منعقد ہونے والے پر معز پروقار سیمینار میں درج بالا دانشوروں کی گفتگو یقیناً فکری جلا کا باعث تھی۔ میں سمجھتی ہوں کہ گلو بلائزیشن کے تصور سے جس ماس سوسائٹی کا تصور ابھرا ہے اس میں یقیناً مختلف النوع معاشروں میں برابری و مساوات کا ہونا ناممکن ہے خصوصاً اس وقت جب دنیا ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے دو الگ الگ خانوں میں تقسیم ہو اور قانون قدرت ہی ہے کہ بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو ہڑپ کرنے کیلئے تیار رہتی ہیں۔ ڈائریکٹر ایچ این پی آئی پی العباد عبدالعلی صاحب کا خاصہ ہے کہ وہ ہمیشہ حالات کے تقاضوں کے پیش نظر سیمینارز و فورمز کیلئے ایسے ہی اچھوتے موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس سیمینار میں ایک مقررہ کی حیثیت میں مدعو تھی۔ میں نے مغربی و بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈہ کا تجزیہ دیا۔ میرا خیال ہے کہ چونکہ پروپیگنڈہ غیر محسوس طریقے سے کیا جاتا ہے اس لئے میڈیا کے مغربی و بھارتی پروپیگنڈہ کی زد سے پاکستانی قوم کو بچانے کیلئے پاکستانی قوم کو اتنا باشعور ہونا پڑے گا کہ وہ میڈیا کا پروپیگنڈہ میں مخفوف کنٹنٹ سمجھ سکیں۔ کیا ہماری قوم کا اتنا وژن وسیع ہو چکا ہے؟ خصوصاً بھارتی میڈیا دن رات اپنے موسیقی پروگراموں اور فلموں کے ذریعے پاکستان کے خلاف غیر مرئی زہر فشانی کرتا رہتا ہے۔ عذر اور باڈر ایسی فلموں میں پاکستانی کلچر کی براہ راست نفی کی جاتی ہے۔ بھارت اپنے میڈیا کے توسط سے عالمی برادری میں پاکستان کو جارح اور جنگجو جبکہ خود کو پرامن ملک قرار دینے میں مصروف ہے خصوصاً 9\\\\11 اور ممبئی حملوں کی اوٹ میں پاکستان کو دہشت گرد کہہ کہہ کر بدنام کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ 1975ءسے جب سے وی سی آر مڈل ایسٹ سے پاکستان آیا اور 1998ءسے کیبل نیٹ ورک چینلز کا آغاز ہوا پاکستانی پوری طرح بھارتی فلموں و گانوں کے دلدادہ ہو چکے ہیں جس کا کہ بھارت بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے اور سونیا گاندھی کا تاریخی بیان کہ ”جو جنگ ہتھیاروں سے نہ جیت سکے وہ جنگ ہم نے میڈیا کی ثقافتی یلغار سے جیت لی“ درست ہو رہا ہے۔ اس مندرجہ بالا تناظر میں ہمارے میڈیا کی اپنے ثقافتی و نظریاتی حدود کے تحفظ کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ ہمارے میڈیا کو نہ صرف مغربی و بھارتی میڈیا کے پاکستان دشمن پروپیگنڈہ کے اثرات زائل کرنا ہے بلکہ ان کا بھرپور جواب بھی دینا ہے۔ حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان میں العباد عبدالعلی صاحب ”عالمی ایشوز پر میڈیا پالیسی کیا ہونی چاہئے“ یہ بھی دانشوروں کی آراءلینے کیلئے ایک نشست کا اہتمام کریں؟؟