شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال ایک قومی اثاثہ

22 نومبر 2009
ڈاکٹر فیصل سلطان۔۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر، شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال
پاکستان میں کینسر کے علاج کے لئے شوکت خانم میمو ریل کینسر ہسپتال کا قیام ایک ایسا کارنامہ ہے جس کی بدولت کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہزاروں مریضوں کو ِ علاج کی سہولت میسر آئی ہے۔ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد ہسپتال ہے جو گزشتہ پندرہ سالوں سے بڑی کامیابی کے ساتھ کینسر کے مریضوں کو بلا تفریق اعلیٰ درجے کی طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے اور اپنی اعلیٰ کارکردگی کی بدولت عالمی سطح پر ایک عظیم ادارہ بن گیا ہے۔ جدید مشینوں، آلات، عالمی معیار اور تجربہ کار سٹاف کی بدولت اس ہسپتال کا مقابلہ ترقی یافتہ ممالک کے کسی بھی بڑے ہسپتال سے کیا جا سکتا ہے۔کتنی خوش آئند بات ہے کہ ہسپتال میں 75فیصد سے زائد مریضوں کا علاج مفت کیا جاتا ہے اور اپنے قیام سے اب تک یہ ہسپتال کینسر کے ہزاروں مریضو ں کے علاج پر 6ارب روپے سے زائد خرچ کر چکا ہے۔ اس قدر مفت علاج کی مثال دنیا کے کسی پرائیویٹ ہسپتال میں نہیں ملتی۔ بقول عمران خان شوکت خانم کینسر ہسپتال بنانے کا خواب اللہ تعالیٰ کی مدد او دردِدل رکھنے والے دوستوں(پاکستان میں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں) کے تعاون سے ہی شرمندہ تعبیر ہوا۔ بلاشبہ اس قوم کے مردوزن اور بچوں نے نہ صرف ہسپتال کی تعمیر کے لئے چلائی جانے والی مہم میں اس کا بھر پور ساتھ دیا بلکہ اس کے بعد بھی جب جب ضرورت پڑی اس قوم نے اسے کبھی مایوس نہیں کیااور اس کارِ خیر میں سب نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر اپنا حصہ ڈالا ۔ اپنے قیام کے ساتھ ہی اس ادار ے نے اپنے لئے رہنما اصول مرتب کر لئے تھے جن پر یہ ادارہ نہ صرف آج تک قائم ہے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں بہتری آئی ہے۔ یہاںہسپتال میں داخلہ کے حوالے سے طریقہ کار کی وضاحت ضروری ہے کیونکہ بہت سے احباب یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کو یا ان کے رشتہ داروں کو ہسپتال میں داخلہ نہیں ملا۔ اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ پاکستان میںتقریباً 17کروڑ سے زائد آبادی کے لئے شوکت خانم ہسپتال، کینسرکی واحد مستند علاج گاہ ہے جہاں مریضوں کو ایک ہی چھت کے نیچے تمام اقسام کی تشخیصی اور معالجاتی سہولیات میسر ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباًڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کینسر کے مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ ہسپتا ل ا پنے محدود وسائل کے پیشِ نظر ان میں سے چند ہزار مریضوں کو ہی علاج کی سہولت فراہم کرسکتاہے۔ پھر بدقسمتی سے معاشرے میں کینسر کے مرض کے متعلق مناسب آگاہی نہ ہونے کے سبب (گو شوکت خانم ہسپتال کی مسلسل کوششوں سے اب اس میں بہتری آئی ہے) بیشتر مریض اس وقت ہسپتال آتے ہیں جب ان کا مرض کافی بڑھ چکا ہوتا ہے اور قابلِ علاج نہیں ہوتا۔ اس لئے ایسے مریضوں سے بھی معذرت کرنا پڑتی ہے۔ اپنے محدود وسائل کے پیشِ نظر ہسپتال ایسے مریضوں کو علاج کے لئے ترجیح دیتا ہے جن کا مرض قابلِ علاج ہو۔ یہ خیال کہ کسی بھی مریض کا علاج اس لئے نہیں ہو سکا کہ ان کے پاس پیسے نہیںتھے سراسر غلط ہے۔ ہسپتال کی انتظا میہ متعدد بار اخبارات اور ٹیلی وژن چینلوں کے ذریعے اس بات کا اظہار کرچکی ہے۔ کسی بھی مریض سے معذرت کرتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ کو بہت تکلیف ہوتی ہے لیکن محدود وسائل کے اندر مریضوںکی محدود تعداد کو ہی علاج کی سہولت فراہم کی جاسکتی ہیں۔ ہم کافی پرامید ہیں کہ ہسپتال کے جاری توسیعی اور نئے منصوبوں کی بدولت مستقبل قریب میں ہسپتال میں مریضوں کو لینے کے استطاعت میں بہت بہتری آئے گی۔ اگر ایک نظر ہسپتال کے بجٹ پر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ 2009 کے لئے ہسپتال کے بجٹ کا تخمینہ تقریباً33 ملین ڈالر (اڑھائی ارب روپے ) تھا۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ ہسپتال میں زیر علاج کینسر کے صرف25% مریض اپنے علاج کا خرچہ خود برداشت کرتے ہیں جبکہ باقی 75% مریضوں کے علاج پر اٹھنے والے اخراجا ت ہسپتال اپنے وسائل سے ادا کرتا ہے۔ ہسپتال بجٹ کا نصف اپنے وسائل سے جبکہ باقی نصف آپ جیسے مخیر حضرات کی دی ہوئی زکوٰة ، عطیات ، صدقات اور قربانی کی کھالوں سے حاصل کرتا ہے۔ عید الاضحی کے مقدس تہوار کے موقع پر مسلمان اللہ کی راہ میں مختلف جانوروں کی قربانی دینے کے ساتھ جانوروں کی کھالیں مختلف لوگوںاور اداروں کو فی سبیل اللہ دیتے ہیں تاکہ غرباءاور مساکین کواس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچ سکے۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال بھی ہر سال عیدِ قربان کے موقع پر قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے کی مہم چلاتا ہے اور ان کھالوں سے حاصل ہونے والی آمدنی زیرِ علاج نادار اور غریب مریضوںکی طبی نگہداشت پر خرچ کی جاتی ہے۔ یہ ادارہ اپنے غریب اور نادار مریضوںپرعلاج معالجہ کی مد میں، ایک شفاف عمل کے ذریعے، ہرسال اربوں روپے خرچ کرتا ہے( صرف اس سال جنوری سے ستمبرتک ہسپتال ناداراور مستحق مریضوں کے علاج پرنوے کروڑ سے زائد کی رقم خرچ کر چکا ہے ) اور یہ سب کچھ صر ف اور صرف ان محب وطن اور فیاض پاکستانیوں کے تعاون سے ہی ممکن ہو ا ہے جنہوں نے دامے درمے سخنے اس ہسپتال سے بھر پور تعاون کیا ہے اور متواتر کر رہے ہیں۔ یہ ہسپتال ایک قومی اثاثہ ہے۔ آئیے اس قومی اثاثہ کو قائم رکھنے اور مو¿ثر انداز میں چلانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کیجئے۔