اتوار ‘4 ذی الحجہ 1430 ھ‘ 22 نومبر 2009ئ

22 نومبر 2009
آئندہ دس برسوں میں یورپ میں حلال فوڈ کا کاروبار 28 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔
حرام کھانے والے کیسے حلال مال کا کاروبار کرینگے‘ یہ تو حرام خور ہی جانے‘ لیکن اب بات قابل ستائش ہے کہ وہ ہمارے حلال رزق سے بھی مال کمانے کی کوشش میں ہیں۔ کمانے میں وہ یہ نہیں دیکھتے کہ یہ حرام ہے کہ حلال‘ اہل یورپ پیسہ کمانا جانتے ہیں اور ہم پیسہ لٹانا جانتے ہیں۔ کاروبار سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد یورپ جانے والی ہے‘ اس وقت بھی ایک بھیڑچال جاری ہے۔ ظاہر ہے وہ وہاں گھاس تو نہیں کھائیں گے‘ رزق حلال ہی کھائیں گے اور اس کا بندوبست یورپ والے کرینگے۔ اس لئے کہ فن ان کو آتا ہے‘ یعنی یورپ کا پیسہ ہی یورپ کو واپس مل جائیگا۔
وہ بھی زمانے تھے کہ یورپ کے لوگ علم‘ دولت‘ روشنی‘ تیل‘ سونا‘ عالم اسلام سے حاصل کیا کرتے تھے‘ تیل اور وسائل تو اب بھی عالم اسلام سے حاصل کررہے ہیں مگر عالم اسلام خواب خرگوش کی طرح سو رہا ہے۔ اس لئے اسے کوئی اٹھائے نہ۔ یورپ اس طرح سے لیتا ہے جیسے کوئی دیتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ ہمارے تھنک ٹینک کو سمجھ نہیں آتی‘ ایک وہ ہیں کہ کہاں سے کہاں تک دیکھتے ہیں اور ایک ہم ہیں کہ اپنے لئے خوبصورت قبریں بناتے ہیں۔
٭....٭....٭....٭
ایرانی سفیر ماشاءاللہ شاکری نے نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مہنگی بجلی پیدا کررہا ہے‘ ہم سے سستی لینے کو تیار نہیں۔ کوئی نادیدہ قوت پاکستان اور ایران کے تعلقات خراب کرنا چاہتی ہے۔
ایرانی سفیر ماشاءاللہ شاکری نے ماشاءاللہ ایسا بیان دیا ہے کہ جن کے کان اور ناطقے بند ہیں‘ وہ کھل جائیں گے۔ ہم یہ تو نہیں جانتے کہ نادیدہ قوت کونسی ہے‘ اس لئے کہ نادیدہ قوتیں کئی ہیں‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران اور پاکستان کے درمیان کوئی کبڈی کھیل رہا ہے‘ اب اس سوال کا کوئی کیا جواب دے کہ انسان منڈی سے سستی چیز چھوڑ کر مہنگی خریدے اور اپنوں کو چھوڑ کر پرائیوں کے سائباں تلے بیٹھے۔
آج بھی اگر یہ نادیدہ قوتیں کسی دیدہ ور کی فکر کا نشان بن جائیں تو یہ دونوں ممالک خوشحال ہو سکتے ہیں۔ اگر ایران سستی بجلی دینے کو تیار ہے تو غیرکی مہنگی بجلی کیوں خریدی جاتی ہے؟ ایران یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ کوئی دونوں ملکوں کے درمیان کون حائل ہے۔
کیا ہمارے حکمران یہ سب کچھ نہیں جانتے؟ دونوں ملکوں کے درمیان گیس منصوبے پر بھی پیشرفت ختم ہو چکی ہے‘ جو لوگ برصغیر میں قبضہ جمائے بیٹھے ہیں‘ انکے مقاصد کا سبھی کو پتہ ہے مگر غلاموں کو آزادی کب راس آئی ہے؟ وہ اپنا کام کررہے ہیں‘ صرف ہماری آنکھیں اندھی ہیں‘ پاکستان نے اگر کھلی آنکھوں کے ساتھ اپنے مفادات کا تحفظ نہ کیا تو یہ ملک بنجر ہو جائیگا۔
٭....٭....٭....٭
صدر آصف زرداری نے افغانستان میں نئی پالیسی کے حوالے سے جو حقائق بیان کئے ہیں‘ وہ ساری قوم کی آواز ہیں‘ اس لئے کہ امریکہ کی جنگ لڑتے لڑتے پاکستان کنگال ہوتا جا رہا ہے اور صدر نے بذات خود مدد کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ افغانستان کے حالات اور دہشت گردی کیخلاف جنگ کی پاکستان کو بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ ہلیری نے صدر کو یقین دہانی تو کرائی ہے مگر امریکی ٹائپ کی یقین دہانیاں ہم ماضی میں بھی دیکھ چکے ہیں اور مستقبل میں بھی کوئی خاص امید نہیں۔ اور نوبت آج یہاں تک آپہنچی ہے کہ صدر صاحب عالمی برادری سے مدد مانگ رہے ہیں۔
پاکستان سنگین حالات سے گزر رہا ہے‘ بالخصوص اسکی معیشت پاﺅں پر کھڑی نہیں ہو سکتی جبکہ ہمسایہ ملک کی حالت یہ ہے کہ وہاں کے ارب پتی کھرب پتی بن گئے ہیں‘ اس لئے ضروری ہے کہ وہاں سرمایہ کاری ہے‘ مضبوط معیشت ہے اور حکومتی اخراجات میں تعیش نہیں ہے۔ جسے ہم افغانستان کی نئی پالیسی کہتے ہیں‘ وہ افغانستان کیلئے اس کا پاکستان کو کیا فائدہ؟
صدر پاکستان نے بین السطور جو باتیں کی ہیں‘ ان کو سمجھنا چاہئے۔ ہم سے تو افغانستان بھلا کہ صدارت کی دوسری باری میں پہنچ گیا‘ جبکہ ہمارے ہاں جمہوریت کو تاحال استحکام نہیں مل سکا۔
٭....٭....٭....٭
ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ ملی بینڈ کی پرکشش شخصیت سے متاثر ہوں‘ جبکہ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ امریکی وزیرخارجہ کو دیکھ کر ”کچھ کچھ“ ہوتا ہے۔
یوں لگتا ہے کہ ہلیری کلنٹن اپنے شوہر کلنٹن سے بدلے لے رہی ہے‘ ملی بینڈ پر یہ گانا صادق آتا ہے ”اب تو میرا دل جاگے نہ سوتا ہے‘ کیا کروں ہائے کچھ کچھ ہوتا ہے“۔ امریکہ اور برطانیہ کے درمیان یہ رومانس کیا رنگ لائیگا اور ملی بینڈ کا بینڈ نئی نئی دھنیں بجائے گا۔
کیسی عجیب بات ہے کہ امریکہ برطانیہ عیش و نشاط میں غرق ہیں اور پاکستان اسکی جنگ لڑنے کی قیمت ادا کررہا ہے اور مدد بھی مانگ رہا ہے۔ یہ بات مردوں کے عالمی دن کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ کا امریکی جریدے کو دیئے گئے انٹرویو میں سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ چوالیس سالہ برطانوی وزیر خارجہ کی پرکشش شخصیت سے متاثر ہیں۔
اگر کلنٹن پاکستانی شوہر ہوتے تو وہ اس بیان پر کیا ردعمل ظاہر کرتے اور اگر ہلیری پاکستانی ہوتیں تو بھی بینڈ کی بیوی کا کیا ردعمل ہوتا؟ بہرحال یہ مغربی معاشرے کی ایک جھلک ہے۔