قومی حکومت .... واحد راستہ

22 نومبر 2009
پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک نہایت ہی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ قارئین آئیے ہم دیکھیں کہ معروضی حالات کیا ہیں انکے کیا مضمرات ہو سکتے ہیں اور ان مضمرات سے بچنے کیلئے ہمارے پاس کیا حل ہے ۔ سب سے پہلے Prevailing Environment یا موجودہ حالات کے خدو خال کا ایک خاکہ ملاحظہ ہو:۔
٭امریکہ افغانستان میں بہت بری طرح پھنس چکا ہے اب اگر وہ اپنی فوج گھٹائے یا بڑھائے ، شکست نوشتہءدیوار ہے۔ امریکہ سمجھتاہے کہ افغانستان میں انکی شکست یا موجودہ بے بسی کا ذمہ دار پاکستان ہے جو ان لوگوں پر ہاتھ نہیں ڈال رہا جو اتحادی فوجوں کی افغانستان میں موجودگی کےخلاف ہی نہیں بلکہ ان بیرونی افواج کا مقابلہ کرنے کو اللہ کی راہ میں جہاد تصور کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ کی افغانستان میں جنگ کو جاری رکھنے کا تقریباً سارا دارومدار پاکستان کے ہوائی اڈوں ، بندرگاہوں اور پاکستان کی ریلوے لائن اور سڑکوں کے ذریعے پہنچنے والی کمک پر ہے۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بدولت امریکہ کی پالیسی دورخی ہے ۔ کمک کو جاری رکھنے کیلئے وہ پاکستان کی ظاہراً تعریف کرتا ہے اور ہر طرح کی مدد دینے کیلئے بھی تیار ہے خواہ وہ فوجی امداد ہو یا کیری لوگر ایکٹ والی خیرات ہو لیکن ساتھ ہی امریکہ کی پالیسی کا دوسرا اور زیادہ گھناونا رخ ہندوستان اور اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی وساطت سے پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دے کر قتل و غارت کا بازار گرم کرنا ہے اور اس دہشت گردی کا مقصد افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کو سخت ترین سزا دینا مقصود ہے تا کہ افغانستان میں جو کچھ اتحادیوں کےساتھ ہو رہا ہے اس کا بدلہ لیا جائے، جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی کا نشانہ بننے کی بالکل یہی وجہ ہے ۔ افواج پاکستان کی مالاکنڈ ، سوات اور وزیرستان میں شاندار کامیابیوں کے باوجود امریکی صدر اوباما کا تازہ خط بھی اسی لیے یہی کہتا ہے کہ اب افواج پاکستان شمالی وزیرستان پر بھی چڑھائی کریں۔ افواج پاکستان کا موقف یہ ہے کہ ہم فوجی ایکشن صرف ادھر کرینگے جہاں نہایت ضروری ہو گا اور جس کی پوری قوم تائید کرےگی اور یہ ایکشن کم سے کم مدت کیلئے ہو گا۔
٭امریکہ کا آخری ہدف پاکستان کے ایٹمی ہتھیار ہی ہیں اس میں اب ذرا برابر بھی شک نہیں۔ اس لیے امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا اب اسی وقت ہو گا جب پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر امریکہ کی گرفت مکمل ہو جائےگی چونکہ ہنود و یہود کا یہی مطالبہ ہے۔
٭روس، چین اور ایران اگرچہ امریکہ کی افغانستان میں موجودگی کے مخالف ہیں لیکن وہ افغانستان میں ایک پرو پاکستان طالبان حکومت کو بھی برداشت نہیں کر سکتے کیلئے ان کا رویہ Confused اور ملا جلا ہے بلکہ ان میں سے کچھ ممالک تو بدقسمتی سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کی پشت پناہی بھی کر رہے ہیں۔
٭پاکستان کی معاشی حالت دگرگوں ہے صنعت زوال کا شکار ہے اور آٹا چینی اور بجلی جیسی ضروری اشیائے استعمال نایاب ہیں جس سے پوری قوم پریشان ہے اسکے علاوہ دھماکے اور جانی و مالی نقصان پاکستانی قوم کے مصائب میں اضافہ کر رہے ہیں۔
٭حکمرانی برئے نام ہے کرپشن کی داستانوں کا صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں چرچا ہے اور سیاسی قیادت بالکل مکمل مفلوج ہے ۔ کوئی ایوب خان یا ذوالفقار علی بھٹو نہیں جو ٹی وی سکرین پر آکر بتائے کہ پاکستان کو کیا خطرات لاحق ہیں اور ان کا مقابلہ حکومت کیسے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور کتنی مدت کے اندر دہشت گردی کی کمر ٹوٹے گی اور کب آٹا چینی اور بجلی میسر ہوں گے۔
٭اچھی بات یہ ہے کہ ملک میں آمریت کی بجائے جمہوریت ہے ، میڈیا کافی حد تک آزاد ہے اور عدلیہ کی چوٹی کی قیادت ناقابل فروخت ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سارے دھماکوں کے باوجود زندگی زور شور سے جاری ہے، پاکستانی قوم میں ناقابل یقین Resilience ہے ۔ قارئین اب ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ حالات کے کیا مضمرات ہیں:۔
٭اس غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ یہ ٹھیک بات ہے کہ اچھی آمریت سے بدترین جمہوریت بہتر ہے لیکن اگر حکومتی ارکان ریاست کے ساتھ غداری کے مرتکب ہوئے تو ایسی صورت میں ملک بچانے کیلئے آئین کی بساط لٹنے کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے جو بدقسمتی سے ملک کو اور پیچھے لے جا سکتا ہے چونکہ پھر جمہوریت تقریباً 8 سے 10 سال اور پیچھے چلی جائےگی
٭اگر اسی رفتار سے امریکن پاکستان کے اندر ویزوں کے بغیر اور اسلحہ سمیت داخل ہوتے رہے تو ان کا ملکی سیکورٹی ایجنسیوں اور عوام کےساتھ خونی تصادم بھی ہو سکتا ہے ۔ ملک کے اندر موجود غیر ملکی ایجنٹ سیاسی یا فوجی کسی بھی اہم شخصیت کو ضیاءالحق جیسے اندوہناک انجام سے دوچار کر سکتے ہیں یا بے نظیر کی طرح راستے سے ہٹا سکتے ہیں
٭اگر امریکہ کو ساری امداد دینے کے باوجود پاک امریکہ بدگمانی کی فضا قائم رہی تو امریکہ پاکستان پر مزید دباو¿ ڈالنے کیلئے ہندوستانی افواج کو بھی استعمال کر سکتا ہے اس وقت جب کہ ہمارے بہت سے فوجی ڈویژن مغربی سرحدوں پر تعینات ہیں مشرقی سرحدوں پر مشکل حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔
٭ملک میں موجود سی آئی اے، را ، اور مصاد کے ایجنٹ ہماری کسی ایٹمی تنصیب پر بھی حملہ آور ہو سکتے ہیں چونکہ ڈالروں سے ہر چیز خریدی جا سکتی ہے۔
ان حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ اس سلسلے میں چند معروضات پیش کر رہا ہوں
٭اوبامہ کے تازہ خط کے بعد افواج پاکستان کی قیادت کابینہ کی دفاعی کمیٹی کی میٹنگ کا مطالبہ کرے اور اس میٹنگ میں ملکی سلامتی کو درپیش سارے خطرات کی تفصیل کھل کر پیش کی جائے‘اسکے بعد کابینہ کی دفاعی کمیٹی پوری کابینہ کو بھی مکمل اعتماد میں لے اور کابینہ کی منظوری کے بعد اسمبلی کے ان کیمرہ اجلاس میں ضروری نکات پر یہی کمیٹی پوری پارلیمنٹ کوبریف کرے
٭اسکے بعد ملک کا وزیر اعظم قوم سے خطاب کر کے پوری صورتحال واضح کرے اور یہ بتائے کہ ان مشکل حالات سے ملک کو نکالنے کیلئے حکومت کی داخلی اور خارجی پالیسی کے خدو خال کیا ہیں۔
٭ساتھ ہی ایک کل جماعتی کانفرنس افواج پاکستان سے بریفنگ لینے کے بعد یہ فیصلہ کرے کہ آئین کی حدود میں رہ کر مندرجہ ذیل اقدامات میں سے کونسے ضروری ہیں جو پاکستان کو موجودہ گھمبیر ترین حالات سے نکا ل سکتے ہیں۔
۱۔ سترھویں ترمیم کا خاتمہ ہو جائے اور اسمبلی ایک نیا وزیر اعظم اور تقریباً 25 وزراءچنے جو اہل، قابل اعتبار اور دیانت دار ہوں۔
ب۔اگر کل جماعتی کانفرنس یہ سمجھتی ہے کہ اس طرح بھی حالات کو قابو میں کرنا مشکل ہو گا تو پھر موجودہ اسمبلیوں کو برقرار رکھتے ہوئے ایک قومی حکومت تشکیل دی جائے جس کو پوری قوم کی سپورٹ ہو ۔ صدر آئین کے مطابق صرف ریاستی سربراہ ہو اور وزیر اعظم اور اسمبلیاں با اختیار ہوں۔ افواج پاکستان قومی حکومت کی بھرپور مدد کریں۔
ج۔عدلیہ نہایت دیانت داری سے احتساب کا عمل جاری رکھے اور NRO کی زد میں آنےوالے لوگوں کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے اور اسکے بعد اگر وہ مجرم ثابت ہوں تو قانون ان کی گرفت کرے۔
د۔اپوزیشن اسمبلی میں حکومت کا کڑا احتساب کرے اور ان اسمبلیوں کی پانچ سالہ مدت پوری ہونے کا انتظار کرے اور اگر وزیر اعظم حکومتی امور چلانے میں ناکام ہو تو اس کےخلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے۔
قارئین ! موجودہ حالات میں ایک دیانت دار اور اہل قومی حکومت ہی معاملات کا واحد حال ہے اس میں تاخیر سے ملک کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اس میں دیر نہ کی جائے اس سلسلے میں میاں نواز شریف اور افواج پاکستان کی قیادت حکومت سے مشورہ کر کے ایک کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں ۔ سعودی عرب ہمار ا ایک نہایت مخلص دوست ملک ہے اور امریکہ سے بھی ہمارے بہت دیرینہ تعلقات ہیں لیکن اگر ان ممالک کی قیادت ہمیں ایسے مشورے دے رہی ہے جو پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرناک ہیں تو پھر وہی کچھ کیا جائے جو پاکستان کو اس خطرناک بھنور سے نکالنے کیلئے ضروری ہے۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ ہندوستان کو علاقائی طاقت دیکھنے کا خواہشمند امریکہ اب پاکستان کو بنگلہ دیش یا بھوٹان بنانا چاہتا ہے جو پاکستانی قوم کو نامنظور ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد ہم نے پڑوسی افغانستان کےساتھ اس خطے میں رہنا ہے ۔ ہمیں ابھی یہ سوچنا ہو گا کہ پوسٹ امریکہ افغانستان کےساتھ برادرانہ تعلقات کیلئے ہمارے ہاتھ میں کیا ہوگا۔ 16 نومبر کی خلیج ٹائمز کا یہ فقرہ ملاحظہ ہو:۔
\\\"Not one Afghan officer of the rank of captain or major has been killed in battle in six years, since Afghans do not consider this their war.\\\"