حیات نو

22 نومبر 2009
ایم ایم حسن (کراچی) ...................
شام کے وقت ساحل سمندر پر سیر کرنا میری عادت تھی۔ ”مبارک مسجد“ میرے گھر کے قریب ساحل سمندر کے قریب واقع ہے۔
چنانچہ میں وہاں پر عصر کی نماز ادا کر کے چہل قدمی کےلئے نکل جاتا تھا اور مغرب کے وقت واپس لوٹتا تھا۔ چنانچہ ایک روز میں حسبِ معمول تفریح کےلئے نکل گیا تھا اور جب میں مسجد سے تھوڑے فاصلے پر تھا تو مجھے اذان کی آواز سنائی دی اور مجھے اپنی رفتار تیز کرنی پڑی۔
مجھے کیا خبر تھی کہ اس پگ ڈنڈی پر دو موٹر گاڑیاں آپس میں دوڑ لگا رہی تھیں۔ میں نے واپسی پر ”مبارک مسجد“ سے مغرب کی اذان کی آواز سُنی۔
چنانچہ مجھے اپنی رفتار مسجد کی طرف تیز کرنی پڑی اور میں دنیا اور مافیہا سے بے خبر مسجد کی طرف چلا جا رہا تھا۔ فرشتوں کو بھی یہ علم نہ تھا کہ اس پتلی پگڈنڈی پر دو موٹر کاروں میں دوڑ ہو رہی تھی اور میں ان کی زد میں آ گیا۔
جب میری آنکھ کھلی تو میں نے اپنے آپ کو آغا خان ہسپتال میں اس حال میں پایا کہ میرے بدن پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں اور میرے عزیز و اقربا میرے اوپر جھکے ہوئے تھے۔
میری جلد شفایابی کی خاطر مجھے وقتاً فوقتاً سر سید اور ضیاالدین ہسپتالوں کے ہڈیوں کے شعبہ میں بھی لے جایا گیا مگر میرے معالج نے طرح طرح کی ورزشیں کرانا شروع کر دیں جن سے میری ٹوٹی ہوئی ہڈیوں میں جان آنے لگی اور میرے بائیں ہاتھ میں چَھڑی دے کر مجھے چلنا سکھایا۔
کراچی میں تین بڑے ہسپتال ہیں‘ جہاں ہڈیوں کے شعبے میں یعنی سر سید ہسپتال، ضیاالدین ہپستال اور آغا خاں ہسپتال جا کر انسان کو بڑی عبرت ہوتی ہے‘ وہاں پر ملک کی چند نامور شخصیات بھی رسیوں سے تختوں سے بندھی ہوئی استادہ نظر آتی ہیں۔
ایک صاحب جو بڑے شوق سے میرے کالم پڑھتے ہیں‘ میری مزاج پُرسی کےلئے تشریف لائے اور انہوں نے فرمایا کہ:
” ایک ان کے دوست ہیں وہ بھی میری تحریروں کے بڑے مداح ہیں اور فی الحال عمرے کےلئے تشریف لے گئے ہیں ‘جب ان سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا تو موصوف طواف کر رہے تھے اور یہ یقیناً ان کی دعا کا اثر ہے کہ میری طبعیت بہتر ہے۔ “