A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

پاکستان میں سی آئی اے کی مذموم مداخلت

22 نومبر 2009
امریکی سی آئی اے کے سربراہ لیون پینٹا نے گزشتہ روز صدر آصف علی زرداری‘ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ڈی جی‘ آئی ایس آئی جنرل احمد شجاع پاشا سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی نے لیون پینٹا کو پاکستان میں سی آئی اے کی مداخلت اور دہشت گردوں کی معاونت کے ثبوت پیش کئے جبکہ صدر آصف علی زرداری نے بعض امریکی اخبارات اور خفیہ اداروں کی طرف سے پاکستان میں القاعدہ اور طالبان قیادت کی موجودگی کے پروپیگنڈے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن‘ جیمز جونز اور ہالبروک کے علاوہ سی آئی اے کے سربراہ لیون پینٹا کی پاکستان آمد بذات خود اہم واقعہ ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ امریکی عہدیداروں کے تسلسل کے ساتھ دوروں کو افغانستان کے بارے میں اوبامہ انتظامیہ کی تشکیل پذیر حکمت عملی اور پاکستان پر دباﺅ بڑھانے کی نئی کوششوں کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ ان دوروں میں القاعدہ اور طالبان قیادت کی کوئٹہ اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں موجودگی کا ذکر بھی ہوتا رہا جبکہ امریکی ذرائع ابلاغ نے بھی ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر طالبان قیادت کی موجودگی کو ہدف تنقید بنایا۔ ہلیری کلنٹن نے تو اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ حکومت پاکستان ملاعمر اور طالبان شوریٰ ارکان کی کوئٹہ میں موجودگی سے بے خبر ہے؟ جیمبز جونز اوبامہ کا جو خط صدر آصف علی زرداری کے نام لے کر آئے‘ اس میں بھی ڈومور کا مطالبہ کیا گیا تھا حالانکہ پاکستان اس وقت اپنی سلامتی اور خودمختاری کو داﺅ پر لگا کر امریکی جنگ میں شریک ہے‘ نہ صرف دہشت گرد گروپ پاکستان کی سلامتی کے درپے ہیں اور انہیں بھارت کھلم کھلا مالی و اسلحی مدد فراہم کررہا ہے بلکہ ڈرون حملوں کے ذریعے امریکہ بھی اسکی خودمختاری کو پامال کررہا ہے۔ گزشتہ روز صدر آصف علی زرداری نے بھی لیون پیٹنا سے ملاقات میں یہ مسئلہ اٹھایا‘ اس کے باوجود امریکہ کی طرف سے پاکستان کی کارکردگی اور نیت پر شکوک و شبہات کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ اوبامہ انتظامیہ بھی بش کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور پاکستان کے بارے میں اس کے اصل عزائم کچھ اور ہیں۔
یہ حقائق منظر عام پر آچکے ہیں کہ سوات اور جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے دوران شدت پسندوں کے زیر استعمال امریکی ہتھیار ملے‘ مبینہ طور پر ایک امریکی ہیلی کاپٹر کے ذریعے شدت پسند قیادت کو ریسکیو کرکے افغانستان پہنچایا گیا جبکہ بلوچستان کی علیحدگی پسند قیادت کابل میں سرکاری میزبانی سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ ”را‘ موساد‘ رام اور سی آئی اے کا اشتراک عمل بھی کسی سے مخفی نہیں جبکہ پاکستان میں ایک نجی امریکی تنظیم بلیک واٹر کی سرگرمیاں بھی مشکوک ہیں‘ اسلام آباد میں اعلیٰ فوجی افسروں کی ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے اس تنظیم کے ارکان پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ پشاور میں کئی بم دھماکوں کے بعد دو امریکی مسلح باشندے پکڑے گئے جن سے محب وطن حلقوں کی طرف سے ظاہر کئے گئے خدشات کی تصدیق ہوتی ہے کہ سی آئی اے پاکستان کے ایٹمی پروگرام تک رسائی کیلئے کسی گہری اور دوررس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے علاوہ سیاسی بدامنی میں کسی نہ کسی حد تک اس سازشی تنظیم کا ہاتھ ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس آئی نے اگر واقعی سی آئی اے کے سربراہ کو دہشت گردی کے واقعات میں سی آئی اے کے ملوث ہونے کے ثبوت پیش کئے ہیں‘ تو اسے جرا¿ت مندانہ اور دور اندیشانہ اقدام قرار دیا جائیگا۔ امریکہ بھارت کے ساتھ جس قسم کے تعلقات قائم کر چکا ہے‘ اس کے پیش نظر یہ بعیداز قیاس امر نہیں کہ پاکستان میں طالبان اور القاعدہ کے کاندھے پر رکھ کر بندوق بھی سی آئی اے اور ”را“ کے ایجنٹ چلا رہے ہوں اور بلوچستان کے علاوہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرکے مذموم مقاصد کا حصول یقینی بنایا جا رہا ہو۔ پاکستان اپنے اسلامی تشخص‘ ایٹمی پروگرام‘ مسئلہ کشمیر کے یو این قراردادوں کے مطابق حل پراصرار اور چین کے ساتھ گہرے روابط کی وجہ سے بھارت کی طرح امریکہ کا ٹارگٹ ہے اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں شرکت کے باوجود امریکہ کی اسلام و پاکستان دشمنی میں کسی قسم کی کمی نہیں لا سکا‘ البتہ امریکہ کو اس جنگ کی وجہ سے یہ موقع مل گیا ہے کہ وہ پاکستان کو مزید کمزور اور مفلوج کر سکے۔ جو عناصر پاکستان کی سلامتی کے درپے ہیں‘ وہ امریکی سی آئی اے کیلئے نعمت غیرمترقبہ ہیں‘ اس طرح وہ پاک فوج کو اپنے ہی شہریوں کے ساتھ لڑا کر کمزور کرنے کا ہدف بھی حاصل کررہا ہے اور دنیا کو پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر انتہا پسندوں کے قبضے کا ہوّا دکھا کر خود کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
اب جبکہ پاکستان سی آئی اے کی مداخلت کے ثبوت امریکہ کو پیش کر چکا ہے‘ تو ایک طرف نہ صرف دشمنی پر مبنی اس پالیسی کی وجہ سے ہمیں امریکہ سے تعلقات اور دہشت گردی کیخلاف نام نہاد جنگ میں ”گوڈے گوڈے“ دھنسی پالیسی پر نظرثانی میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے بلکہ ملک کو امریکی سی آئی اے کے ایجنٹوں سے پاک کرنے کیلئے بھی موثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ پاک فوج کو فی الفور یہ ٹارگٹ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ بلوچستان و قبائلی علاقوں کے علاوہ اسلام آباد میں سی آئی اے ایجنٹوں کےخلاف آپریشن کلین اپ کرے اور امریکہ پر واضح کردیا جائے کہ اب کسی غیردوستانہ مخاصمانہ حکمت عملی کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائیگا‘ یہ ہماری آزادی‘ خودمختاری‘ سلامتی اور اقتدار اعلیٰ کا معاملہ ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ آئی ایس آئی کو کمزور کرنے کی امریکی کوششوں کا مقصد بھی سی آئی اے کی اصل اور مکروہ سرگرمیوں پر پردہ ڈالنا اور اس کی مداخلت سے توجہ ہٹا کر کارروائیاں جاری رکھنا تھا اس لئے حقیقی مقاصد اور عزائم سامنے آجانے کے بعد ہمیں کسی خوش فہمی کا شکار نہیں رہنا چاہئے اس میں ہماری بقاءہے‘ ورنہ امریکی سی آئی اے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی پالیسی جاری رکھے گی جس کا تلخ تجربہ پاکستان کو 1971ءمیں بھی بخوبی ہو چکا ہے۔ جب امریکی سفیر فارلینڈ نے بھارت کی مدد کی اور پاکستان دولخت ہو گیا۔
مذاکرات کیلئے بھارت کی بلاجواز شرائط
بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے ایک بار پھر اپنی فطرت کے عین مطابق الزام لگایا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کررہا ہے‘ پڑوسی ملک کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے تمام تنازعات کا حل نکالنا چاہتے ہیں لیکن اس سے پہلے اسے اپنی سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ منموہن سنگھ نے پاکستان کیخلاف اپنے خبث باطن کا مزید اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان سے فوری نکلے اور پاکستانی طالبان سے نمٹے۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے منموہن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات چاہتے ہیں‘ فوٹو سیشن نہیں۔ پیشگی شرائط منظور نہیں‘ ایسا اقدام نہیں کیا جس پر یقین دہانیاں کرائیں‘ بھارت بات چیت کیلئے سنجیدہ نہیں تو ہمارا وقت ضائع نہ کرے۔
پاکستان اور بھارت کے مابین سب سے بڑا تنازعہ مسئلہ کشمیر ہے جس کے باعث جنوبی ایشیا کا امن داﺅ پر لگا ہوا ہے۔ دنیا میں انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں مقبوضہ کشمیر میں ہوتی ہیں‘ سات لاکھ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر میں انسانی زندگی محفوظ ہے نہ کسی کی عزت و آبرو۔ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے جس میں بھارت کے ملوث ہونے کے مسلمہ ثبوت موجود ہیں۔ بھارت اپنے کرتوت چھپانے اور مسئلہ کشمیر کو لٹکائے رکھنے کیلئے پاکستان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کے الزامات لگاتا رہتا ہے لیکن ثبوت کبھی فراہم نہیں کئے۔ منموہن سنگھ تمام تنازعات پر مذاکرات کیلئے شرائط لگارہے ہیں جبکہ پاکستان اور بھارت کے مابین ایک ہی تنازعہ مسئلہ کشمیر ہے‘ باقی چھوٹے موٹے اسی سے منسلک ہیں‘ یہ حل ہوتا ہے تو باقی تنازعات خودبخود حل ہو جائیں گے۔ دونوں ممالک کے مابین تعلقات بھی بہتر ہونگے اور خطے میں امن بھی قائم ہوجائیگا۔ اس سب کیلئے پاکستان اپنا کردار ادا کررہا ہے‘ بھارت بہانہ سازی اور ٹال مٹول سے کام لیتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کا حل خود نکالیں۔ جب بھارت مذاکرات کی میز پر نہیں آتا اور مقبوضہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے تو اس کا حل تو مذاکرات سے نہیں نکل سکتا ۔ بہترین حل تو اقوام متحدہ نے کشمیریوں کےلئے رائے شماری قرار دیا ہے‘ اب اس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ امریکہ چاہے تو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرا سکتا ہے‘ اس کا یہ مشورہ کہ پاکستان اور بھارت خود مسئلہ کشمیر حل کریں دانشمندانہ نہیں۔ تنازعہ کشمیر پر مذاکرات کے حوالے سے پاکستان نے ہمیشہ لچک اور رواداری کا مظاہرہ کیا‘ بھارت اسے کمزوری سمجھ رہا ہے۔ اب شاہ محمود قریشی نے جس لہجے میں بات کی ہے‘ یہی درست ہے اور یہی اپنائے رکھنے کی ضرورت ہے۔ بھارت اگر ہٹ دھرمی کا بدستور مظاہرہ کرتا ہے تو کشمیر اور کشمیریوں کی آزادی کیلئے پاکستان کو انتہائی اقدام کیلئے بھی تیاری کرنا ہو گی۔
غلام مصطفی جتوئی کا انتقال پُرملال
ملک کے ممتاز سیاستدان غلام مصطفی جتوئی گزشتہ روز مختصر علالت کے بعد لندن میں انتقال کر گئے۔ اِناللہ ِ واِنا اِلیہ راجعون۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 78 برس تھی۔ سیاست انہیں ورثے میں ملی تھی۔ وہ پی پی پی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی تھے۔ 1969ءمیں پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور 1970ءمیں وہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ 1973ءمیں انہیں جب وزیراعلیٰ سندھ نامزد کیا گیا تو انہوں نے قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے کر صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا۔ اس سے پہلے وہ 1958ءمیں مغربی پاکستان کی پہلی صوبائی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ مرحوم کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاءکے بعد مزاحمت کی تحریک ایم آر ڈی میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ اس تحریک کے دوران انہیں کئی بار گرفتار کیا گیا لیکن مارشل لاءکے خلاف ان کے عزم میں استقلال قائم رہا۔ 1988ءمیں پیپلز پارٹی سے اختلافات کے بعد انہوں نے پارٹی چھوڑ دی اور اپنی نیشنل پیپلز پارٹی قائم کی۔ 1990ءمیں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمہ کے بعد وہ تین ماہ کےلئے نگراں وزیراعظم بھی رہے۔ ان کا سیاسی کیریئر تقریباً نصف صدی پر محیط ہے لیکن روایتی سیاستدانوں کے برعکس وہ اعتدال پسند اور مثالی کردار کے حامل سیاستدان تھے۔ ان کے مخالفین بھی اس کے قائل ہیں اور انہوں نے اپنے مخالفین کا بھی ہمیشہ احترام کیا۔ ان کے دامن پر اس عرصے میں کوئی داغ نہیں لگا۔ انہوں نے پسماندگان میں چار بیٹے اور تین بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں جن میں ایک بیٹے طارق مصطفی جتوئی 6 برس قبل اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
قادیانیوں کی منفی سرگرمیاں
سیالکوٹ میں گورنمنٹ پولی ٹیکنیکل کالج کے طلبا اور اساتذہ نے پرنسپل کےخلاف احتجاج کے طور پر کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور مظاہرے کے دوران قریبی سڑک بلاک کر دی۔ طلباءو اساتذہ نے الزام لگایا کہ قادیانی پرنسپل کی وجہ سے کالج کا ماحول خراب ہو رہا ہے۔ دریں اثنا دو قادیانی استانیوں کے ایما پر ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ ننکانہ صاحب میں تلاوت قرآن اور اسمبلی ختم کر دی گئی۔ بتایا گیا کہ تلاوت اور اسمبلی ختم کرنے کا حکم ایریا منیجر نے دیا تھا۔
عقیدہ ختم نبوت ہر مسلمان کےلئے زندگی اور موت سے بڑھ کر ہے۔ قادیانیوں کےلئے آئین میں مذہبی سٹیٹس مقرر کر دیا گیا ہے۔ جسے وہ دل سے قبول کریں نہ کریں لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ایک اقلیت کے حوالے سے ان کے حقوق متعین ہیں جن کا ہر مسلمان احترام کرتا ہے۔ مختلف اقلیتوں کی اکثریت ملکی قوانین اور آئین کا احترام کرتی ہے لیکن کچھ شرارتی لوگ شرپسندی کو وطیرہ بنائے ہوئے ہیں۔ ان کی سرگرمیوں کے حوالے سے رپورٹیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں شائع اور نشر ہوتی رہتی ہیں۔ سیالکوٹ اور ننکانہ صاحب کے تعلیمی اداروں میں قادیانی پرنسپل، استانیوں اور ایریا منیجر نے جو کچھ کیا وہ مسلمان طلبا اساتذہ کی دل آزاری کا سبب بنا۔ ننکانہ صاحب میں معاملہ علاقے کے دانشوروں نے بخوبی حل کر لیا۔ سیالکوٹ میں بدستور حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ ہے۔ محکمہ تعلیم فوری طور پر انکوائری کرکے حالات کی خرابی کے ذمہ داروں کو کڑی سزا دے اور آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کےلئے اگر قانون سازی یا آئین میں ترمیم کی ضرورت ہو تو ترجیحی بنیادوں پر کی جائے۔ سیالکوٹ اور ننکانہ صاحبہ میں قادیانیوں کی منفی سرگرمیوں کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
