D گریڈ ماحول اورشہری زندگی

22 مئی 2016

انگریزی کی ایک مختصر تحریر ’’یونیورسٹی پروفیسر کو نصیحت‘‘ Advice to a university professor کے نام سے بہت مشہور ہے۔ اس تحریر میں یونیورسٹی پروفیسر کو نصیحت کی جا رہی ہے کہ وہ علمی لیاقت کے اعتبار سے اپنے طلباء کے ساتھ سلوک کریں۔اس تحریر میں طلبا کو اے سے ڈی کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے A گریڈ سٹوڈنٹ ہیں انکے بارے میں استادکو باور کرایا گیا ہے کہ مستقبل میں ان میں سے کوئی ایک آپ کا Colleague ہو سکتا ہے یعنی امکان ہوتا ہے کہ یونیورسٹی ٹاپ کرنیوالا سٹوڈنٹ بحیثیت استاد متعین کر دیا جائے۔
B گریڈ سٹوڈنٹس سے متعلق خیال رہے یہ مستقبل کے آفیسر یعنی بیوروکریٹ ہو سکتے ہیں۔
C گریڈ سٹوڈنٹ زیادہ تر کاروباری بنتے ہیں اور ہو سکتا ہے آپکو ان کے پاس اپنے کسی سٹوڈنٹ یا ادارے کی مالی مدد کیلئے جانا پڑے۔
D گریڈ سٹوڈنٹ کے متعلق آپ کی توقع سے زیادہ چونکا دینے والا فقرہ درج ہے
Beware! they are future politicians
یہ تحریر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں پنجاب فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری لیول کے آفیسر ڈاکٹر افضل صاحب نے اس وقت کے وزیر ماحولیات آصف علی زرداری کی موجودگی میں پڑھی۔ ان دنوں ماحولیات کا پہلی دفعہ بہت شورمچا تھا اور یہ معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا جا رہا تھا۔ پاکستان میں اس منسٹری کو بہت ’’کمائو‘‘ وزارت سمجھا جاتا تھا جو بعد میں صحیح ثابت ہوا کیونکہ درخت لگانے کے نام پر آپ مہم شروع کریں بعد میں درخت کتنے لگے اور جو لگے وہ کتنے دن، ہفتے یا مہینے چلے کوئی پوچھنے والا نہیں تھا حالانکہ اس وقت صرف 10% حصہ لینے کی شہرت تھی۔ یعنی کوئی بھی بڑا منصوبہ لگے گا یا فائل پر دستخط کرانے ہوں تو 10% شوہرنامدار کی ذات کا حصہ بنے گا۔آج شہید بی بی کے اُس دور کو گزرے اڑھائی دہائیاں ہونے کو ہیں اور ہمارے ہاں ماحولیات حالتِ نزع میں ہے۔ جس طرح سعید آسی صاحب نے اپنے گزشتہ کالم میں ذکر کیا کہ لاہور میں زیر زمین پانی 400 فٹ تک کھدائی کرنے پر بھی میسر نہیں اور اگر میسر ہے تو آلودہ ہو چکا ہے۔ میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ کبھی یہ پانی سو فٹ کی گہرائی پر میسر ہوتا تھا۔ قارئین! کبھی روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کرتا تھا مگر اب پینے کو صاف پانی اور سانس لینے کو صاف ہوا اک جان بچانے والی دوا (Medicine)کی طرح ترجیح حاصل کر گئے ہیں۔ بالخصوص پانی جو کہ انسان کی بنیادی ترین ضرورت ہے، اس لئے پانی کو مستقبل کا تیل (oil of the future) کہا جا رہا ہے۔ وطن عزیز دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ڈیم بنانے کی عریاں مخالفت کی جاتی ہے حالانکہ یہ ڈیم پانی ذخیرہ کرنے سیلابوں کی شدت کم کرنے کے ساتھ ساتھ ایک روپیہ فی یونٹ کے حساب سے بجلی بھی پیدا کرتے ہیں۔ جمہوری حکومتوں میں کالا باغ ڈیم جیسے منصوبے کی تعمیر اتفاق رائے نہ ہونے کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے مگر ڈکٹیٹروں جیسے مشرف اور بالخصوص ضیاء الحق کو تاریخ اور عوام کبھی معاف نہیں کر سکتے جو ’’طاقت کل‘‘ تھے ، اگر چاہتے تو یہ منصوبہ پروان چڑھ سکتا تھا اور یقیناً آئندہ آنیوالی ادھوری جمہوریتوں کیلئے رستہ کھول جاتے اور پانی کے مزید منصوبے بن پاتے۔
اب آئیے موجودہ صورتحال پر تو پاکستان پانی کی کمی کے دبائو والے ممالک کی فہرست میں نمایاں ہے ۔ اس کمی کا شکار سب سے زیادہ کراچی شہر ہوا ہے جہاں پر پانی ناپید ہو چکا ہے۔ پورا شہر سیمنٹ اور لوہے سے بنے پلازوں کا وہ جنگل بن گیا ہے جس کی پانی کے لحاظ سے حالت اک صحرا سے بھی بری ہے۔ تعجب خیز امر ہے کہ کراچی میں ایک طرف پینے کا پانی ناپید ہے تو دوسری طرف ابھی کبھی بارش ہوجائے تو اس کو سنبھالنے کو کوئی بندوبست نہیں ہے۔اسکی نکاسی بھی ناممکن ہوجاتی ہے۔جس پانی کو کنٹرول کر کے آبِ زر بنایا جا سکتا ہے اس میں کہیں انسان ڈوب رہے ہوتے ہیں اور کہیں یہ بیماریاں پھیلاتا ہے۔ پختہ سڑکیں زمین کو ری چارج بھی نہیں ہونے دیتیں۔ مجوزہ وجوہات میں وطن عزیز کی آبادی میں سالانہ 35 لاکھ افراد کا اضافہ جو کہ انڈیا اور چین کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا اضافہ ہے‘ دوسری طرف سوائے صوبہ کے پی کے میں ایک ارب پودے لگانے کی مہم کے علاوہ کسی بھی بڑی پلاننگ کا تاحد نگاہ فقدان نظر آتا ہے۔ پاکستان اپنے قیام کے وقت بمشکل ساڑھے تین کروڑ آبادی کا ملک تھا اور اس وقت دنیا میں 14ویں نمبر پر تھا جو کہ اب بیس کروڑ کو عبور کرچکا ہے اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک بن چکا ہے۔ پوری دنیا آبادی میں اضافہ کو صفر کی شرح پر لانے کی کوشش کر رہی ہے اور تمام ترقی یافتہ ممالک یہ ہدف حاصل کرچکے ہیںاس سلسلے میں سب سے بڑی کامیابی چین نے حاصل کی جس نے 1979ء سے لیکر 2016ء تک ایک جوڑا ایک بچہ کی پالیسی کے تحت 40 کروڑ کی آبادی کو قابو کیا۔یعنی اگر وہ ایک بچہ کی پالیسی بلکہ قانون لاگو نہ کرتے تو انکی آبادی میں مزید چالیس کروڑ کا اضافہ ہوچکا ہوتا۔ مگر یہ سب انکی A گریڈ قیادت کی عملی ذہانت سے ممکن ہوا۔ بات ہو رہی تھی وطن عزیز میں قدرتی ماحول اور پانی کی تو قارئین کرام! ذرا غور کریں شہر میں کسی دکان سے آپ 50 روپے کی پانی کی بوتل (جس کے معیار کی کوئی ضمانت نہیں) خریدتے ہیں جبکہ گائوں میں 50 روپے کا لٹر خالص دودھ میسر ہوتا ہے۔ کہیں اس سے بھی کم قیمت پر۔ گویا شہروں کی زندگی کتنی ظالم، مہنگی اور آلودہ ہو چکی ہے جسے المختصر Dگریڈ کہا جا سکتا ہے۔