قومیں تعلیم سے ترقی کرتی ہیں میٹرو بس سے نہیں:عمران خان

22 مئی 2016 (20:55)

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو موٹر وے کی نہیں تعلیم کی ضرورت ہے، نواز شریف غلط جگہ نیا خیبرپختونخوا ڈھونڈ رہے ہیں۔میاں صاحب آپ رہیں گے تو سڑکیں اور ایئرپورٹ بنیں گے ،میاں صاحب نے نہ کبھی پہلے باری پوری کی ہے اور نہ ہی اس بار پوری کریں گے صوبہ خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں ہماری حکومت پوری طرح تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے ، 2016 میں اس سلسلے میں واضح تبدیلی آئے گی ، اب قوم نواز شریف کے دھوکے میں نہیں آئے گی، وزیراعظم کے احتساب سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی- مینگورہ کے گراسی گراونڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ' جس ملک میں ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہوں وہاں موٹروے سے ملک نہیں بنتا، جو قوم اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دیتی، ترقی نہیں کرسکتی'عمران خان نے نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ' میاں صاحب آپ نیاخیبرپختونخواغلط جگہ ڈھونڈرہے ہیں، پاکستان کوموٹروے نہیں تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے، میاں صاحب موٹروے سے قومیں نہیں بنتی۔'میاں صاحب آپ رہیں گے تو سڑکیں اور ایئرپورٹ بنیں گے ، انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہاں بڑی تعداد میں لوگ اس لئے آئے ہیں تاکہ وہ نواز شریف کو یہ پیغام دے سکیں کہ وہ کس کے ساتھ ہیں۔عمران خان نے بڑی تعداد میں لوگوں کے جلسہ گاہ آنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور پھر کہا کہ اسلامی احکامات کی روشنی میں تعلیم دینا ریاست کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے لیکن نواز شریف حکومت کا بنیادی فوکس موٹر ویز بنانے پر ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم کو معلوم ہی نہیں کہ کسی ریاست کی بنیادی ذمہ داری کیا ہوتی ہے۔عمران خان نے کہا کہ میاں صاحب کو ہیلی کاپٹر سے اس لئے نیا پختونخوا نظر نہیں آیا کیونکہ ہم نیا پختونخوا سکولوں میں بنا رہے ہیں، سڑکوں پر نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میاں صاحب نے نہ کبھی پہلے باری پوری کی ہے اور نہ ہی اس بار پوری کریں گے۔عمران خان نے اپنے خطاب کے دوران اعتراف کیا کہ صوبہ خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں ان کی حکومت پوری طرح تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ 2016 میں اس سلسلے میں واضح تبدیلی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پختونخوا حکومت کا بنیادی فوکس سکولوں اور ہسپتالوں پر ہے۔ ہم نے صوبے میں صحت اور تعلیم کا نظام بدل دیا ہے، ہمیں دیر اس لئے لگی کیونکہ ہم اسپتالوں کو ٹھیک کرنے کیلئے نئے قوانین لا رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے وعدہ کیا کہ اس سال کے آخر تک صوبے کے ہسپتالوں کے حالات بہتر ہو چکے ہونگے۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے اسپتالوں کومثالی بنائیں گے جبکہ خیبرپختونخوا کو ماڈل صوبہ بنایا جائے گا۔صوبے کی پولیس کی تعریف کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سورن سنگھ کے قاتلوں کو صوبائی پولیس نے 24 گھنٹے میں پکڑلیا۔انہوں نے کہا کہ کے پی کے پولیس میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہے جبکہ عمران خان نے خیبر پختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کا بھی اعلان کیا۔عمران خان نے کہا کہ پنجاب کی پولیس سے چھوٹو کو سنبھالا نہیں گیا جبکہ خیبرپختونخوا پولیس نے طالبان سے مقابلے میں شہادتیں پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئے گی توالزام نہیں لگائیں گے بلکہ جیلوں میں ڈالا جائے گا، اگرہم کرپٹ ہیں تو ہمیں حکومت نے پکڑا کیوں نہیں۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ اب قوم نواز شریف صاحب کے دھوکے میں نہیں آئے گی، وزیراعظم کے احتساب سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی،ان کا کہنا تھا کہ ایماندار قیادت ہی لوٹا گیا پیسہ واپس لاسکتی ہے، 200ارب روپیہ واپس آگیاتو ٹیکس لگانے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی اور قرضے بھی اتارے جاسکیں گے۔عمران خان نے نواز شریف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارلیمنٹ میں جھوٹ بولنے والے کو وزیراعظم رہنے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن سے الگ ہوکر اکیلے بھی سڑکوں پر آسکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ انہوں نے دعوی کیا کہ ہم صوبے میں شجر کاری کرکے اپنے علاقے کو گلوبل وارمنگ کے اثرات سے بچائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام کی ترقی کے لئے ادارے مضبوط کرنا ناگزیر ہوتا ہے اور ہم نے اپنے صوبے کے اداروں کو بہتر کر دیا ہے۔ ۔ انہوں نے کہا کہ ہم انسانوں پر پیسے خرچ کرکے، اداروں کو مضبوط بنا کے اور بہتر بلدیاتی نظام کو نافذ کرکے صوبے کے نظام کو بہتر بنا رہے ہیں اور صوبے میں حقیقی جمہوریت لا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسا بلدیاتی نظام لائے ہیں جس کے ذریعے لوگ اپنے فیصلے خود کر سکیں گے۔ عمران خان نے مزید کہا کہ نواز شریف ادارے تباہ کرنے والے ہیں، وہ ادارے بنا نہیں سکتے۔ عمران خان نے مزید کہا کہ ہم نے سب سے اہم کام یہ کرنا ہے کہ ملک کے چوروں اور ڈاکوں کا احتساب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم پاکستان کے وزیر اعظم کا احتساب کر لیں گے اور ان سے لوٹے ہوئے پیسے نکلوا لیں گے اور انہیں لوٹے ہوئے پیسے واپس لانے پر مجبور کر دیں گے تب ہی ہم قوم کو اس کا حق واپس دلوا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب میڈیا کے لوگوں کو حقائق دکھانے سے روکنے کیلئے انہیں خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر وہ جانتے نہیں کہ میڈیا کے لوگ باشعور ہیں، وہ بکیں گے نہیں۔انہوں نے کہا کہ اب میاں صاحب پختونخوا میں جلسہ کرنے آئیں تو لوگ ان سے تین مطالبات جرور کریں۔ ایک یہ کہ میاں صاحب پختونخوا کو اس کے حصے کی بجلی دیں کیونکہ پختونخوا زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے۔ دوسرا یہ کہ میاں صاحب پختونخوا کے لوگوں کو ان کے حصے کی گیس دیں۔ تیسرا یہ کہ میاں صاحب پختونخوا کو اس کے حصے کا پانی دیں، اگر ہمارے پاس اپنے حصے کا پانی ہو تو چشمہ رائٹ بینک کینال سے لاکھوں ایکڑ زمین سیراب ہو سکتی ہے