بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے میں ملا اختر منصور مارے گئے، سینئر طالبان کمانڈر، شوریٰ کی تردید

22 مئی 2016 (19:25)

سینئر طالبان کمانڈر نے طالبان سربراہ ملا اختر منصور کے امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے کی تصدیق کر دی۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینئر طالبان کمانڈر ملا عبدالرف نے بتایا ہے کہ ملا اختر منصور پاک افغان سرحد پر امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں جبکہ افغان طالبان شوریٰ نے ملا اختر منصور کی ہلاکت کی خبروں کی تردید کی ہے۔ ترجمان پینٹاگان پیٹر کک کا کہنا ہے کہ امریکی فضائی کارروائی میں افغان طالبان سربراہ ملا اختر محمد منصور کونشانہ بنایا گیا۔ ملا منصورکوپاک افغان سرحدی علاقے میں امریکی فوج نے فضائی حملے میں نشانہ بنایا۔ امریکی عہدیدار کے مطابق حملے کی اجازت امریکی صدر اوباما نے دی تھی۔ بلوچستان میں پاک، افغان سرحدی علاقے احمد وال میں متعدد ڈرونز نے کارروائی کی اور ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ گاڑی میں مبینہ طورپر افغان طالبان سربراہ ملا منصور اور دیگر اہم رہنما موجود تھے۔ عہدیدار کے مطابق حملے پاکستانی وقت کے مطابق ہفتے کی دوپہر 3 بجے کئے گئے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ملا اختر منصور افغان مفاہمتی عمل کا مخالف تھا اور مذاکرات سے انکار کرکے مستقل خطرہ بن چکا تھا، پاکستان اورافغان قیادت حملے سے آگاہ تھی۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق میانمار میں صحافیوں سے گفتگو میں امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ملااختر منصور مستقل خطرہ بن چکا تھا، حملہ واضح پیغام ہے کہ ہم پرامن، خوشحال افغانستان کیلئے کام کرتے رہیں گے۔ امریکی وزیرخارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نوازشریف سے بھی ٹیلیفون پربات ہوئی ہے۔ ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے بتایا کہ حملے سے متعلق پاکستان اور افغانستان کو آگاہ کر دیا تھا تاہم یہ واضح نہیں کہ دونوں حکومتوں کو حملے سے پہلے آگاہ کیا گیا یا بعد میں بتایا گیا؟ عہدیدار نے کہاکہ امریکہ کوملامنصورجیسے خطرے کوختم کرنےکا ایک موقع ملاجس سے فائدہ اٹھایا گیا۔ افغان طالبان شوریٰ نے ملا اختر منصور کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی خبروں کی تردید کردی۔ نجی ٹی وی کے مطابق افغان طالبان شوریٰ نے ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی اور اہم طالبان رہنماﺅں نے میڈیا پر چلنے والی خبروں کی تردید کی ہے۔ افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کے امیر ملا اختر منصور کو کوئٹہ میں ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا۔ اتوار کو افغان میڈیا کے مطابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کا کہناہے کہ طالبان کے امیر ملا اختر منصور کو کوئٹہ کے علاقے میں شام ساڑھے چار بجے کے قریب ڈرون حملے میں نشانہ بنایاگیا۔ عبداللہ عبداللہ کا مزید کہنا تھا کہ ملااختر منصور کو کوئٹہ کے علاقے دالبنڈی میں ہلاک کیا گیا۔ عبداللہ عبداللہ کاکہنا ہے کہ ملااختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد کچھ طالبان لیڈر امن عمل میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس سے قبل افغان انٹیلی جنس این ڈی ایس کی طرف سے ٹویٹر پر جاری بیان میں طالبان کے امیر ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی۔ امریکہ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان مکین نے کہا ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ملا منصور اپنے انجام کو پہنچا جبکہ آرمڈ سروسز کمیٹی کے ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسکیف نے کہا ہے کہ ہمیں چوکنا رہنا چاہئے اور سیاسی حل کے لئے ماحول ساز گار بنانے کی کوشش جاری رکھنی چاہئے۔ ایڈم اسکیف نے مزید کہنا تھا کہ ہمیں افغانستان میں وسائل کے ساتھ موجود رہنا چاہئے ۔ امریکی عہدے دار نے دعوی کیا ہے کہ ملا منصور پر حملے کی اجازت امریکی صدر اوباما نے دی۔