مشرف غازی رشید قتل کیس میں بھی اشتہاری قرار

22 مئی 2016

اسلام آباد (ایجنسیاں+ بی بی سی) اسلام آباد کی مقامی عدالت نے مشرف کو لال مسجد کے سابق نائب خطیب مولانا عبدالرشید غازی کے قتل کے مقدمے میں اشتہاری قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے پولیس حکام کو حکم دیا ہے کہ ملزم کے خلاف اشتہارات کو نہ صرف اخبارات میں شائع کرایا جائے جبکہ اس کے علاوہ پاکستان میں موجود سابق فوجی صدر کی رہائش گاہوں کے باہر بھی اشتہار آویزاں کئے جائیں۔ یہ دوسرا مقدمہ ہے جس میں مشرف کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے آئین شکنی کے مقدمے میں بھی پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔ اسلام آباد چک شہزاد میں فارم ہا¶س کو سابق فوجی صدر نے اپنی اہلیہ کو گفٹ کر دیا ہے جبکہ ڈیفنس ہا¶سنگ اتھارٹی اور جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو ملنے والی زرعی اراضی کے بارے میں بھی اسلام آباد پولیس کے حکام لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم پرویز مشرف کی اسلام آباد میں جائیداد کی قرقی کا حکم دیا تھا بعدازاں عدالت کو بتایا گیا تھا کہ یہ جائیداد پرویز مشرف نے اپنی بیوی کو گفٹ کی ہے۔ عبدالرشید غازی کے قتل کے مقدمے میں پرویز مشرف واحد نامزد ملزم ہیں اور وہ اس مقدمے میں ایک بار بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ عدالت نے ان کی زر ضمانت ضبط کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
مشرف/ اشتہاری