گرمی کی شدید لہر جاری‘ لو لگنے سے مزید گیارہ افراد جاں بحق ‘ لوڈشیڈنگ لوگ پریشان‘ پانی بھی غائب

22 مئی 2016
گرمی کی شدید لہر جاری‘ لو لگنے سے مزید گیارہ افراد جاں بحق ‘ لوڈشیڈنگ لوگ پریشان‘ پانی بھی غائب

لاہور/ ساہیوال/ واشنگٹن (نیوز رپورٹر+ نمائندہ خصوصی+ نامہ نگاران) ملک بھر میں گرمی کی شدید لہر جاری ہے جس کی وجہ سے ساہیوال میں لو لگنے سے 11 افراد جاںبحق ہوگئے۔ درجہ حرارت رواں سال کی بلند ترین سطح 48 سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ 15 سالہ ثمن، 60 سالہ ریاض، 30 سالہ رحمت بی بی، 90 سالہ شگفتہ اور 60 سالہ ظہور لو لگنے سے بے ہوش ہوگئے، جنہیں سول ہسپتال ساہیوال لایا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے جبکہ کھیتوں میں کام کرنے اور زیر تعمیر عمارتوں میں مزدوری کرنے والے درجنوں افراد گرمی کے سبب بیہوش ہوگئے، رامے ٹاﺅن کا ٹرانسفار مر بھی جل گیا، بجلی کی سپلائی کئی گھنٹے سے معطل ہے۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران گرمی کی شدت میں اضافہ کا امکان ہے۔ٹھنڈے مشروبات اور شربتوں کی مانگ میں اضافہ ہوگیا، گرمی کی شدت کے ساتھ ہی بجلی کی بندش کے دورانیے میں بھی اضافہ ہوگیا جس کی وجہ سے کاروبار زندگی بھی متاثر ہوا۔ سرکاری سکولوں میں بچوں کا برا حال تھا والدین نے حکومت سے فوری طور پر تعطیلات کا مطالبہ کر دیا۔ سیالکوٹ سے نامہ نگار کے مطابق گرمی میں شدت آنے کے ساتھ ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ سے شہری مشکلات کا شکار ہیں۔ دیہات میں 10 سے 11 گھنٹے بجلی بند ہورہی ہے۔ ٹیوب ویل نہ چلنے کی وجہ سے پانی کی بھی متعدد علاقوں میں قلت ہے۔ سمبڑیال سے نامہ نگار کے مطابق گرمی کے باعث سڑکیں، بازار، گلی محلے سنسان رہے، سکولوں میں بچوں کی حاضری بھی معمول سے کم رہی۔ نوجوانوں نے نہروں، دریاﺅں، ٹیوب ویلز اور سوئمنگ پولز کا رُخ کرلیا ہے۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق گیپکو کے تمام تردعوﺅں کے باوجود بجلی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بے قابو‘کئی علاقوں میں گھنٹوں طویل بریک ڈاﺅن سے کاروبار زندگی ٹھپ‘ پینے کاپانی نایاب ہوگیا‘ ہفتہ کے روز شہر کے بیشتر علاقوں میں تقریباً 6 گھنٹوں کا بریک ڈاﺅن رہا۔ گرمی کی شدت نے جہاں معمولات زندگی کو مفلوج کیا وہاں پاکستان ریلویز کے انجنوں نے بھی جواب دینا شروع کردیا۔ لاہور میں گرمی کی شدت کی وجہ سے گیسٹرو اور ڈائریا کی وبا پھیلنے سے سرکاری ہسپتالوں میں ان بیماریوں میں مبتلا مریضوں کا رش بڑھ گیا گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ان بیماریوںمیں مبتلا 2 ہزار کے قریب مریض مختلف ہسپتالوں میں آئے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج شام کے بعد درجہ حرا رت میں کمی اور بارش کے امکانات ہیں۔ لاہور میں گرمی کی شدت کے بعد بجلی کی بندش کا دورانیہ بڑھ گیا۔ بجلی کا خسارہ بڑھنے کی وجہ بجلی کی جنریشن میں کمی ہے۔ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 10 گھنٹے تک ہوگیا۔ لاہور میں بجلی کی وولٹیج میں مسلسل کمی بیشی سے صارفین کی قیمتی الیکٹرونکس اشیاءجلنا شروع ہوگئی ہیں۔ مریدکے سے نامہ نگار کے مطابق گرمی سے سکولوں کے متعدد بچے اور اساتذہ بے ہوش ہوگئے جس پر والدین نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور فوری چھٹیوں کا مطالبہ کیا ہے اور کہا اگر بچوں کو کچھ ہوا تو مقدمہ درج کرائیں گے۔ شیخوپورہ سے نامہ نگار خصوصی کے مطابق آسمان سے آگ برستی رہی، اس دوران سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں لوڈشیڈنگ کے دوران مجموعی طور پر 43طلباءو طالبات کے بے ہوش ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ نارنگ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق کئی مقامات پر شدید گرمی کے باعث بجلی کے ٹرانسفارمر جل گئے۔ پتوکی سے نمائندہ خصوصی کے مطابق غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے صنعتی و تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئیں۔ واشنگٹن میں نمائندہ خصوصی کے مطابق امریکی قومی ادارے نیشنل اوریشئن اینڈ ایٹمو سفیئر ایڈمنسٹریشن (NOAA) کے مطابق دنیا بھر میں درجہ حرارت میں فروری 2015 سے مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ادارے کے مطابق دنیا میں زمین اور ساحل سمندر کا اپریل 2016 میں درجہ حرارت 1.10 ڈگری سینٹی گریڈ 1.98 فارن ڈگری جو 20 صدی کا اوسطاً زیادہ درجہ حرارت ہے اس سے قبل 137 سال قبل 1880 میں درجہ حرارت میں ایسا اضافہ دیکھا گیا تھا۔ شدید گرمی کی تاب نہ لاکر نواحی گاﺅں پیر بخش کھوسو کا رہائشی 65 سالہ ساون بھیلاور گاﺅں جاجی چروار کی رہائشی خاتون حسینہ میانو جاں بحق ہو گئی۔ ٹنڈو جام میں گرمی سے ایک شخص ہلاک اور درجنوں بے ہوش ہو گئے۔ خیرپور میں شدید گرمی 3 سالہ بچی فوت ہو گئی۔ ادھر شہداد کوٹ میں شہر گرمی کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہو گئے۔
گرمی/ لوڈشیڈنگ