مودی آج ایران پہنچیں گے، چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر و توسیع کے معاہدے کا امکان

22 مئی 2016

نئی دہلی (آن لائن+اے این این) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آج اتوار کو ایران پہنچیں گے جہاں وہ ایران کے صدر ڈاکٹرحسن روحانی کے علاوہ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کریں گے۔ بھارت چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر و توسیع کے معاہدے پر دستخط کر سکتا ہے۔ دونوں ممالک فرزاد بی تیل کے خطے میں بھارتی کمپنیوں کے شامل ہونے سے متعلق بھی ایک سمجھوتے پر دستخط کریں گے۔ چابہار خطے کے فری ٹریڈ زون میں متعدد بھارتی کمپنیاں سرمایہ کاری کرینگی۔ پاکستان میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر بھارت افغانستان اور ایران کے ساتھ وسط ایشیا تک رسائی کے لئے ایک متبادل راستہ تلاش کر رہا ہے۔ بھارت میں ایران کے سفیر غلام رضا انصاری نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کے دورہ تہران میں دونوں ملکوں کے درمیان مجموعی طورپر تعاون کی دس سے زائد دستاویزات پر دستخط ہوں گے جبکہ ایران، افغانستان اور بھارت کے درمیان ٹرانزیٹ کے شعبے میں سہ فریقی معاہدے پر بھی دستخط ہوں گے۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ بھارت، ایران کے ساتھ تعلقات اور ہمارے ملک کے راستے افغانستان اور وسطی ایشیا تک دسترس کا خواہاں ہے۔دوسری جانب ایرانی خبررساںادارے سے گفتگو میں مودی نے اپنے مجوزہ دورہ ایران کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دورہ ایران سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں نئے باب کا اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ان کے دورے سے چابہار کی بندر گاہ خطے میں ٹرانزٹ، انرجی اور تجارتی حب میں تبدیل ہوجائے گی۔ چاہ بہار میں پائے جانے والے سرمایہ کاری کے مواقع ، ایران و بھارت ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے سود مند ثابت ہوں گے۔ پابندیوں کے خاتمے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور بھارت تجارت ، ٹیکنالوجی ، انفرا اسٹریکچر اور توانائی کی سلامتی کے شعبوں میں بھی ایک دوسرے کے تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔ نریندر مودی نے کہا کہ بھارت میں ایرانی سرماریہ کاری کے لیے حالات پوری طرح سازگار ہیں اور ان کا ملک ایرانی سرمایہ کاروں کو خوش آمدید کہتا ہے۔