اقتصادی راہداری سے پاکستان کا ایشین ٹائیگر بننے کا خواب پورا ہوگا: چینی سفیر

22 مئی 2016
اقتصادی راہداری سے پاکستان کا ایشین ٹائیگر بننے کا خواب پورا ہوگا: چینی سفیر

اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان میں چین کے سفیر سن وی ڈونگ نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ دونوں ممالک کے مابین سدابہار دوستی میں عملی تعاون کا مظہر ہے، را ہداری نہ صرف دو نو ں مما لک بلکہ خطے کی ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کی حقیقی ضمانت ہے، دونوں ممالک کے مابین دوستی کی شمع نسل درنسل منتقل ہو رہی ہے۔ سفارتی تعلقات کے قیام کی 65ویں سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں تقریب سے خطاب اور سرکاری میڈیا کو انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ نے کہا کہ آج سے 65سال قبل 21 مئی 1951کو قائم ہونے والی دوستی تناآور درخت بن چکی ہے جسے مستحکم اور سدابہار بنانے میں ہمارے آبائو اجداد نے دانشمندانہ فیصلے کرتے ہوئے اہم کردار ادا کیا۔ مثالی تعلقات کسی بھی مفاد سے بالاتر نسل درنسل منتقل ہو رہے ہیں اور اس دوستی کے محافظ بہترین طریقے سے اسے آگے بڑھا رہے ہیں۔ دوستی باب آج دونوں ریاستوں کے فخر کی علامت بن چکا ہے، باہمی تعلقات دونوں اطراف کی عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں کامیاب رہے ہیں۔ دوستی کا یہ تاریخی سفر سیاسی تعلقات سے عظیم تر معاشی تعلقات میں تبدیل ہوا ہے جس کی واضح مثال پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ہے۔ اب یہ دوست ملک کیلئے روشنیوں کی علامت بن رہا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین دوستی باہمی احترام، اعتماد، تعاون اور سمجھ بوجھ کے تحت فروغ پارہی ہے جسے عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ سرکار ی ریڈیو اور ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ چینی عوام بھی پاکستان کو اپنا بہترین دوست قراردیتے ہیں ۔ قراقرم ہائی وے کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ ہے۔ کراچی سے لاہور موٹروے تعمیر پر بھی کام کیا جائے گا۔ راہداری منصوبہ سے ایشین ٹائیگر بننے کا خواب پورا ہوگا۔ دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم 18ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے ۔ چین پاکستان میں سب سے بڑی سرمایہ کاری کرنے والا سب سے پہلا ملک ہے۔ شراکت داری آزمائش کی ہر گھڑی پر پوری اتری ہے۔ پاکستان نے اپنے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے جو بھی فیصلے کئے ہمیشہ ان کا احترام کرتے رہیں گے۔ پاکستان اور چین افغانستان میں امن اور مفاہمتی عمل میں تعاون بھی کررہے ہیں۔سفیر نے کہا کہ دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان انسداد دہشت گردی کے شعبے میں انتہائی خوشگوار تعلقات ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیاب کوششوں پر اس کی تعریف کی انہوں نے عالمی برادری پر زوردیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرے اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مکمل تعاون کرے۔