بدعنوانی ختم کرنے کیلئے دوسروں پر الزامات کی بجائے اپنا محاسبہ کرنا ہو گا‘ 60 فیصد مقدمات اداروں کی نااہلی بری حکمرانی کا نتیجہ ہیں : چیف جسٹس

22 مئی 2016

مظفر آباد (نمائندہ خصوصی+ ایجنسیاں) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے بدعنوانی کو ملکی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیماری ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے، جس کا خاتمہ ایک دوسرے پر الزام تراشی نہیں اصلاح اور خود احتسابی سے ہو گا، دوسروں پر تنقید کی بجائے اپنا محاسبہ کرنا ہو گا۔ ملکی عدالتوں میں موجود 60 فیصد مقدمات سرکاری اداروں کی نااہلی، بے حسی‘ بیڈ گورننس اور 20 فیصد بددیانتی کا نتیجہ ہیں، ججز ملک کے خادم ہیں، حاکم ہونے کی غلط فہمی نکال دیں۔ مظفر آباد میں آزاد کشمیر جوڈیشل کانفرنس 2016ءسے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں کرپشن کے خاتمے کیلئے بھرپور کوششوں کی ضرورت ہے، اسکے علاوہ گڈگورننس کا ماحول پیدا کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ملکی ترقی میں بڑی رکاوٹ کرپشن ہے۔ ہمیں ایک دوسرے پر تنقید اور الزام تراشی کے جائے اپنی اصلاح کرنے اور اپنے محاسبے کی ضرورت ہے، اسی سے کرپشن ختم ہوگی ، ملک اور معاشرہ ترقی کر ے گا۔ گڈگورننس کے عمل کو مضبوط بنانے کیلئے اسکے علاوہ اور کوئی صورت نہیں ہے کہ کرپشن کا خاتمہ کردیں۔ مہذب معاشرے کی تشکیل کے لئے انصاف کی فراہمی بنیادی چیز ہے۔ عدالتوں میں زیر التواءمقدمات میں 60 فیصد مقدمات سرکاری محکموں کی بے حسی، نااہلی اور بد انتظامی کا نتیجہ ہیں، 20 فیصد مقدمات بددیانتی پر مبنی ہوتے ہیں‘ کرپشن اور منفی سوچ ان معاملات کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ معاشرتی خامیوں پر قابو پانے تک خوشحال اور اسلامی معاشرے کا قیام ناممکن ہے۔ ججز عبادت سمجھ کر فرائض سر انجام دیں، ججز سائلین کی عزت و نفس کا خیال رکھیں۔ جج کو باکردار باصلاحیت اور معاملہ فہم ہونا چاہئے ۔ معاشرے میں انصا ف کی فراہمی لازمی جزو ہے، ججز یہ غلط فہمی دل سے نکال دیں کہ وہ حاکم ہیں ، ججز عوام کے خادم ہے جو عوام کے ٹیکسز سے تنخواہیں اورمراعات لیتے ہیں۔ ہمیں جدید سائنسی طریقوں سے مستفید ہونا پڑے گا۔ بنچ اور بار کو رابطہ نظام عدل کیلئے ضروری ہے۔ آزاد کشمیر میں انصاف کی فراہمی میں فعال نظام موجود ہے۔ اہل کشمیر اور پاکستان جسم ایک جان ہیں ان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں باہمی احترام اور محبت کے رشتے مضبوط ہیں کشمیر کی خوبصورت وادی ماضی میں سازش کا شکار رہی ہے ۔ آزاد کشمیر کی عدلیہ کا انصاف کی فراہمی میں تاریخ کردار ہے۔ میں 40سال سے پیشہ وکالت سے منسلک ہوں اس میں 18سال عدالتی عرصہ بھی شامل ہے۔ چیف جسٹس نے گڈ گورننس کیلئے رویوں میں تبدیلی اور خوداحتسابی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی اور نااہلی کی بیماری ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ ہمیں ملک سے کرپشن اور نااہلی کی بیماری ختم کرنےکی ضرورت ہے۔ اسکے علاوہ گڈگورننس کا ماحول پیدا کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایکدوسرے پر الزامات لگانے کے بجائے اپنا محاسبہ کرنا ہوگا‘ معاشرے میں انصاف کی فراہمی لازمی جزو ہے۔ مہذب معاشرہ میں انصاف کی فراہمی کیلئے نظام عدل کا غیر جانبدار اور مضبوط ہونا ضروری ہے۔موثر نظام عدل کے بغیر معاشرہ بدنظمی اور بربادی کا شکار ہو جاتا ہے۔ سماعت کے دوران جج صاحبان کو فریقین کے ساتھ اپنا رویہ مثبت رکھنا چاہئے اور خوف خدا، تحمل مزاجی اور خوش اخلاقی کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے۔ جب تک بنیادی معاشرتی بیماریوں سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا جا سکتا‘ فعال معاشرے کا قیام ناممکن ہے۔ جج کا منصب بڑے رتبے کا حامل ہوتا ہے یہ ججز کی ذمہ داری ہے کہ وہ رویوں میں ضروری تبدیلی لائیں اور آئین وقانون کے تقاضوں کو پورا کریں۔ عدالتوں میں آنے والوں کی زیادہ تر تعداد زیادتیوں کے شکار افراد کی ہوتی ہے انکے ساتھ نرمی سے پیش آنا چاہئے۔ عدالتی نظام میں جلد انصاف کی فراہمی اسی صورت ممکن ہے جب جج صاحبان لگن،تندہی اور عبادت سمجھ کر اپنے فرائض سرانجام دیں۔ بار عدالتی نظام کی بہتری کے لیے عدلیہ کے ساتھ تعاون کریں‘ ججز پر دباﺅ ڈالنے کی کوشش نہ کریں تاکہ عدالتی کارروائی خوشگوار ماحول میں مکمل ہوسکے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کو آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے سبزہ زار میں آزاد کشمیر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس محمد اعظم خان کے ساتھ گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔
مظفر آباد (اے این این) آزاد جموں کشمیر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اعظم خان نے کہا ہے کہ پرامن معاشرے کے قیام کےلئے فعال عدالتی نظام کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ ا نصاف کے معیار کا انحصار ججز کے کام کرنے کی صلاحیت، ججز کے رویے اور مجموعی عدالتی ماحول کے علاوہ بار سے ملنے والی معاونت پر بھی ہوتا ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، تاہم ججز کی تعداد میںاس تناسب سے اضافہ نہیں ہورہا، فنڈز کی کمی اور مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے نوٹسز اور سمن کی بروقت تعمیل نہیں ہوپاتی۔ آزادکشمیر جوڈیشنل کانفرنس 2016 ءاور سپریم کورٹ بارکی جانب سے چیف جسٹس جسٹس انور ظہیر جمالی کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آزاد کشمیر نے کہاکہ آزاد جموں وکشمیر کی عدلیہ آزاد جموںو کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ، آئین کی بالادستی، قانون کی عملداری اور انصاف کی فراہمی کے علاوہ فوری اور سستے انصاف کیلئے بار کے تعاون سے دن رات کوشاں ہے۔ بنچ اور بار گاڑی کے دو پہیوںکی طرح ہیں جن کی منزل صرف اور صرف انصاف کی فراہمی ہوتی ہے۔ دانشمند، باخبر اور تدبر سے لیس بار ہی آزاد و مضبوط عدلیہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جس کے گردتمام عدالتی نظام محو گردش ہوتا ہے۔ پاکستان و آزادکشمیر میں آزاد و مضبوط عدلیہ کیلئے ماضی میں کی گئی کاوشوں کو بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔ مضبوط اور اپنی ذمہ داریوں سے باخبر بار کی عدم موجودگی میں آزاد و مضبوط عدلیہ کا تصور محال ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بار مضبوط ہوگی تو عدلیہ بھی آزاد و مضبوط ہوگی، بصورت دیگر کمزور بار سے عدلیہ کی آزادی کا متاثر ہونا ممکنات میں سے ہے۔ انصاف کی فراہمی کیلئے آزاد عدلیہ کا وجود انتہائی ضروری ہے اور ایک مضبوط بار کی عدم موجودگی میں آزادعدلیہ کا تصور ممکن نہ ہے۔ جب بار مضبوط ہو گی تو عدلیہ بھی آزاد ہوگی۔ بار کمزور ہوئی تو عدلیہ کی آزادی بھی متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد جموں وکشمیر کے وکلاءنے ہر دور میں آئین کی بالادستی ، قانون کی عملداری اور انصاف کی فراہمی کے علاوہ لوگوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور عدلیہ کے وقار کیلئے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر جدوجہد کی اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ آزادکشمیر کی عدلیہ اور بار ایسو سی ایشنز کے درمیان ہمیشہ مثالی تعاون رہا ہے۔ جموں وکشمیر اور پاکستان کے عوام صدیوں سے لازوال رشتوں میں منسلک ہیں لیکن جو رشتہ شعبہ قانون سے وابستہ کشمیریوں کا پاکستان سے ہے وہ دیگر شعبوں سے بڑھ کر ہے۔ آج اعلیٰ عدالتوں میں موجود تمام جج صاحبان پاکستان کے تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر میں نافذ العمل بیشتر قوانین پاکستان سے لئے گئے ہیں۔ پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کے فیصلہ جات سے رہنمائی لی جاتی ہے۔ پہلے باضابطہ رابطہ کا کوئی موثر ذریعہ نہ تھا۔
چیف جسٹس/ آزاد کشمیر