سرمایہ کاروں کا رُخ امریکہ کی جانب، پاکستان سے 15 کروڑ ڈالر باہر منتقل: بی بی سی

22 مئی 2016

کراچی (نیٹ نیوز) ماہر معاشیات فیصل بنگالی کا کہنا ہے کہ چین میں جاری اقتصادی سست روی کی وجہ سے دنیا بھر کے بازار حصص میں سرمایہ کاری میں کمی ہوئی ہے۔ سرمایہ کار ایک بار پھر امریکہ کی جانب دیکھ رہے ہیں جہاں شرح سود بڑھنے کا قوی امکان موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان سے قریباً 15 کروڑ ڈالر کا سرمایہ منتقل ہوا ہے۔ گذشتہ سال قریباً 35 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری آئی تھی کیونکہ حکومت کے نجکاری پروگرام پر عمل ہو رہا تھا حکومت نے بینکوں اور پاکستان پٹرولیم کے شئیرز فروخت کے لیے پیش کیے تھے جبکہ اس سال نجکاری کا عمل مکمل طور پر رکا ہوا ہے۔‘ ملک میں براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں ہونے والے اضافے کے بارے میں فیصل بنگالی نے بتایا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری کے ضمن میں کافی بڑی سرمایہ کاری کی جاری ہے۔ حکومت کی مکمل توجہ اس وقت توانائی کے منصوبوں پر ہے جس پر سرمایہ کاری پر بہترین منافع کی توقع ہے۔ ان تمام عوامل کی وجہ سے طویل مدت کے لیے سرمایہ کاری کرنے والے افراد نے دلچسپی لی ہے اور براہِ راست سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی مقامی بازارِ حصص پر اس کا اثر زیادہ اس لیے محسوس نہیں ہوا کیا کہ پاکستان میں شرح سود میں بڑی کمی کی گئی ہے جس سے مقامی سرمایہ کار جائیداد اور دیگر بینکوں کی منافع اسکیم کے بجائے بازارِ حصص میں سرمایہ لگارہا ہے۔ بی بی سی کے مطابق پورٹ فولیو انوسٹمنٹ یعنی بازار حصص میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں 146 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ گذشتہ مالی سال میں پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 84 کروڑ ڈالر تھا لیکن رواں سٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ آنے کے بجائے سرمایہ کاروںنے سٹاک مارکیٹ سے 38 کروڑ ڈالر نکال لئے ہیں۔ اس کے علاوہ بیرونی نجی سرمایہ کاری میں بھی 64 فیصد کی مجموعی کمی دیکھی گئی۔