گروتھ ریٹ تنازعہ‘ اسحاق ڈار‘ آصف باجوہ‘ ڈاکٹر اشفاق حسن پر برس پڑے

22 مئی 2016

اسلام آباد (عترت جعفری) رواں مالی سال میں گروتھ ریٹ پر تنازعہ شروع ہوگیا ہے۔ وزارت خزانہ کے سابق مشیر اور ’’نسٹ‘‘ کے سکول آف اکنامکس کے ڈین ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے 4.7 فیصد گروتھ کو چیلنج کیا اور کہا کہ گروتھ 3.5 فیصد تک ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار اس پر برہم ہوئے اور ڈاکٹر اشفاق حسن خان کو ’’سپن‘‘ ڈاکٹر قرار دیا اور کہا وہ انکو ڈاکٹر نہیں مانتے‘ وزیر خزانہ نے شماریات بیورو کے سربراہ آصف باجوہ کو فوری پریس کانفرنس منعقد کرنے کی بھی ہدایت کی۔ یہ تنازعہ ایک بجٹ سیمینار سے شروع ہوا۔ جس میں ڈاکٹر اشفاق حسن اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار دونوں مدعو تھے۔ ڈاکٹر اشفاق حسن نے گروتھ کا ایشو اٹھایا اور اپنا خطاب مکمل کرکے چلے گئے۔ مہمان خصوصی اسحاق ڈار تو اپنے طویل خطاب کے آخری مرحلہ میں ڈاکٹر اشفاق حسن پر برس پڑے اور نام لئے بغیر کہا ان کو پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹر کا ممبر بنا دیتے تو مخالفت نہیں کریں گے وہ آرٹیکل پر آرٹیکل لکھ رہے تھے، معیشت مستحکم نہیں ہوگی۔ اتنا جھوٹ نہ بولیں، انہیں ٹویٹ میں اعلی اجلاس میں شرمندگی اٹھانا پڑی تو جہاں انہیں ایک شخصیت نے کہا تھا کہ آپ معیشت کے متعلق کیا بتا رہے ہیں جبکہ آرٹیکل چھپ رہے ہیں ان میں کچھ اور بتایا جارہا ہے۔ اس معاملہ میں جب ڈاکٹر اشفاق حسن خان سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے کہا 2013ء میں جب موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی تو وزارت خزانہ سے بھی منسلک تھے۔ انہوں نے شجاعت عظیم اور ان کے بھائی طارق عظیم کے کہنے پر اپنے کوائف دئیے تھے۔ شجاعت عظیم نے انہیں فون کیا آپ کے ممبر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں خبر ٹیلی ویژن پر بھی چل گئی، تاہم نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ انہوں نے سینیٹر اسحاق ڈار سے گلہ ضرورکیا تھا اور اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ وہ معاملہ کو دیکھیں گے۔ وہ 2013ء کی بات تھی اور آج 2016ء ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نے 18 مئی کو شماریات بیورو کے سربراہ اور دیگر افسروں کو پری زینٹیشن کیلئے وزارت خزانہ میں بلایا اور جب انہیں کم جی ڈی پی گروتھ بتائی گئی تو وہ برہم ہوئے اور تمام افسروں کو کمرے میں بند رکھا اورکہا ہے جب تک جی ڈی پی گروتھ کو زیادہ ظاہر نہیں کرتے جا نہیں سکتے۔ ڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا میرے علاوہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کا تجزیہ بھی یہی ہے کہ رواں سال میں گروتھ 3.5 فیصد ہوئی ہے۔ اس معاملہ پر شماریات بیوروکے سربراہ آصف باجوہ نے کہا کہ ڈاکٹر اشفاق حسن خان کی باتیں درست نہیں ہیں۔ انہوں نے 18 مئی کو وزیر خزانہ کو کوئی پری زنٹیشن نہیں دی تھی۔ ڈاکٹر اشفاق کو غیرذمہ دارانہ باتیں نہیں کرنا چاہئیں۔
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) شماریات بیورو کے سربراہ آصف باجوہ نے کہا ہے کچھ نام نہاد ماہرین معاشیات غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں جن کو شک ہے وہ آئیں اور ہماری میتھاڈولوجی اور ڈیٹا دیکھ لیں یا ہمیں بتائیں وہ کس ڈیٹا اور میتھاڈولوجی کے تحت اپنے نتائج اخذ کر رہے ہیں۔ رواں سال جی ڈی پی کی گروتھ 4.71 فیصد ہوئی ہے۔ زراعت کی گروتھ منفی رہی ہمارے پاس کوئی ایسی سہولت موجود نہیں جس کے ذریعہ اعداد و شمار کو اوپر نیچے کیا جا سکے۔ آصف باجوہ نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز شماریات بیورو میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ پریس کانفرنس وزیر خزانہ کی ہدایت پر منعقد کی گئی اور شماریات بیورو کے دفتر کو چھٹی کے روز متحرک کیا گیا۔ آصف باجوہ نے کہا گزشتہ روز نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ کمیٹی کا اجلاس ہر سال ہوتا ہے۔ یہ بجٹ کے عمل کا حصہ ہے۔ اجلاس میں ہم طے کرتے ہیں جی ڈی پی کی گروتھ کتنی ہوئی اور فی کس آمدن کتنی ہے۔ سارا ڈیٹا ان اداروں کی ویب سائیٹ پر بھی ہوتا ہے۔ اس میں سے کچھ اوپر نیچے نہیں کیا جا سکتا۔ زراعت میں گروتھ منفی 0.19 فیصد رہی۔ صنعت میں 6.8 فیصد اور سروسز میں 5.71 فیصد گروتھ ریکارڈ ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا زراعت میں کپاس کی پیداوار کی وجہ سے مار پڑی۔ 4 ملین بیلز پیداوار کم ہوئی۔ 14 ملین بیلز کی بجائے 10 ملین بیلز پیداوار ہوئی اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گندم کی ’بمپر کراپ‘ کی بات کی گئی تھی مگر کسی صوبے نے گندم کی بڑی فصل ہونے کی اطلاع نہیں دی۔ چاول کی پیداوار منفی 2.7 فیصد رہی۔ صنعتی سیکٹرز گروتھ 6.8 فیصد تھی۔کانکنی کی گروتھ 6.8 فیصد رپورٹ ہوئی تاہم کروڈ آئل کی پیداوار منفی 2.8 فیصد تھی۔ انہوں نے کہا ملک میں فی کس آمدن میں 8 ہزار 948 روپے کا اضافہ ہوا۔