احتساب شب برات کو

22 مئی 2016
احتساب شب برات کو

آج کی رات 15 ویں شعبان کی رات ہے… یہ عظیم رات‘ عبادت کی رات‘ اللہ کی عظمتوں کی نشانیوں کی رات‘ رحمتوں کی رات‘ مغفرتوں کی رات‘ مانگنے کی رات‘ عطا کی رات‘ انعام کی رات‘ دکھیوں کے دکھوں کے مداوے کی رات‘ رزق کے حصول کی رات‘ راحتوں کی رات‘ فرحتوں کی رات‘ یہ عظیم رات کہ جس کی حکمت بندہ خدا سمجھ نہیں سکتا۔ شب برات اپنی تمام تر عظمتوں اور رفعتوں کے ساتھ ہمارے لئے عطاؤں کے خزانے لے کر زمین پہ اتر رہی ہے۔ شب برات کی فضیلت عام راتوں سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ راز خالق کائنات ہے‘ یہ حکمت خداوندی ہے۔ یہ مرضیٔ رب جلیل ہے کہ بعض کو بعض پر فضیلت دی گئی۔ لیلۃ القدر کو عزت والی رات بنایا تو شب برات کو چھٹکارے کی رات بنایا… برات نجات و چھٹکارا کے معانی میں آتا ہے۔ 15 ویں شعبان کی رات کو برات اسلئے کہتے ہیں کہ اس رات اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی مخلوق اور اپنے بندوں کو دوزخ کی آگ سے نجات اور چھٹکارا عطا فرماتا ہے۔ شب برات کو جب بندہ اپنے خالق کے آگے سر تسلیم خم کر کے‘ پشیمانی کا اظہار کر کے‘ اپنے لئے دعاگو ہوتا ہے تو وہ اپنے رب کی عبودیت‘ رحمت اور رفعت و عظمت کا اقرار کرتا ہے۔ وہ اپنے خالق کو رب مانتا ہے۔ اپنی تقصیروں‘ اپنی بے اعتنائیوں اور اپنے گناہوں پہ اشکبار ہوتا ہے تو اللہ کا راز عیاں ہو جاتا ہے کہ اللہ یہی چاہتا ہے کہ وہ اپنے بندے کو معاف کر دے‘ اپنے بندے کو بخش دے‘ اپنے بندے کی مغفرت فرما دے کیونکہ وہ رب بھی رب کریم ہے‘ رب رحیم ہے‘ وہ اپنی مخلوق سے محبت میں خود بھی گرفتار ہے۔ وہ اپنے بندے سے پیار کرتا ہے… وہ اپنے پیار میں آ کر اپنے بندے کو موقع دیتا ہے‘ اپنے بندے کو پاک کرتا ہے اور پھر بہانے بناتا ہے۔ بیان کرتا ہے کہ یہ شب برات ہے چلو اس دن پاک صاف ہو جاؤ میں تمہیں موقع دیتا ہوں کہ تمہیں عذاب نہیں دینا چاہتا کہ میری چاہت اے بندے تیری بخشش اور تجھے عذاب سے چھٹکارا ہے۔ آ آ … تو مانگ … مانگ تو سہی … کہ … میں دیتا ہوں… ہاں … وہ داتا ہے… وہ دیتا ہے … وہ دینے والا ہے… اس کے پاس تھوڑا نہیں… اس کے خزانے بھرے ہیں… آج 15 ویں شعبان کی رات جب اپنے نصف پہ پہنچ جائے گی تو اللہ تبارک و تعالیٰ… جل جلالہ… سات آسمان کے پردوں سے باہر ہمارے آکاش پہ خود ہویداں ہو جائیں گے… اور ندا دیں گے…
’’ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ میں اس کی جھولی بھر دوں‘ ہے کوئی ایسا رونے والا کہ میں اس کی بدبختی خوش بختی میں بدل دوں‘ ہے کوئی ایسا تنگدست کہ میں اس کے رزق کو فراخ کر دوں۔ ہے کوئی مجھ سے بخشش چاہنے والا کہ میں اس کی بخشش کر دوں۔ ہے کوئی؟ ہے کوئی؟ مانگنے والو؟ مانگو؟ میں آج تمہاری حاجتیں پوری کر دوں۔‘‘
یہ کیسا سماں ہے‘ یہ کیسی رات ہے‘ یہ کیسی ساعتیں ہیں کہ رب خود پوچھ رہا ہے کہ کچھ چاہئے؟ بتا تیری رضا کیا ہے؟ مانگ در قبولیت کھلا ہے… تیرے اشک بھی پیارے ہیں‘ میرے بندے تیرا جاگنا بھی عزیز ہوا… تو نے ماں دیکھی ہے کہ جس کی آغوش میں تو اپنا منہ چھپا کر دکھ اور غم بھلا دیا کرتا ہے اس ماں کی 70 مائیں لا اور پھر میرا پیار‘ میری محبت دیکھ کہ کیسی ہے؟
مگر میں … کہ … بندہ بشر … غافل‘ کاہل اور تساہل کا شکار … خود کو خود میں رحم کے قابل نہیں بناتا۔ جھوٹ‘ فریب‘ لالچ‘ چغلی بلکہ شیطانی کی دوستی‘ شیطانی کے پیارے مجھے تیری بندگی سے ناآشنا کر دیا۔ میں حرص و طمع‘ ذاتی اغراض‘ مال و متاع‘ زمین و جائیداد‘ سونے چاندی کے ڈھیر پہ ڈھیر ہو گیا۔ اچھا نظر آنے کا خیال کیا اچھا بننا بھول گیا… تیری شکر گزاری تو درکنار تیرا نام بھی لینا نہ یاد رہا… پر … کیا ہے کہ فرمایا تیرے گناہ زمین سے آسمان تک بھی ہو جائیں تو معاف کر دیئے جائیں گے… ہاں اے اللہ ہم تجھے وحدہ لا شریک سمجھتے ہیں‘ مانتے ہیں‘ دل سے اقرار کرتے ہیں ہم شرک نہیں کرتے‘ پھر تو تو ہمیں بخش دے گا کہ شرک کرنے والا تیری بخشش کا حقدار نہیں کہ ہم تیری بخشش چاہتے ہیں۔ گناہ بنو قریظہ کی بکریوں کے بالوں کے برابر بھی ہو جائیں تو تو معاف فرما دے گا…اے اللہ تو کتنا رحمان ہے‘ تو کتنا کریم ہے‘ تو کتنا رحیم ہے‘ مجھے بخش دے‘ اپنے رسولؐ کی امت کو بخش دے‘ آج کی رات بخش دے‘ شب برات کی عظمت کے واسطے ہمیں بخش دے لیکن ٹھہرو کہ ندا ہے… نہیں بخشا جائے گا کہ ایک شخص جو دل میں کینہ رکھتا ہو اپنے جیسے کسی دوسرے شخص کیلئے… اس کے بعد پھر ہم… ہم سب سوال کرتے ہیں کہ ہم عبادتیں کرتے ہیں‘ ہم دعائیں مانگتے ہیں اور ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں۔ تو سنو اور سمجھو کہ اللہ کے حقوق کا تعلق معافی سے ہے لیکن بندوں کے حقوق کا تعلق تلافی سے؟ تو آج رات شب برات کی عبادت ضرور کیجئے پہلے اپنی دعاؤں کو قابل قبولیت بھی بنا لیجئے… کہیں اس کا کوئی بندہ ہم سے تنگ تو نہیں۔