کیا پاک فوج اور حکومت ایک صفحے پر ہیں؟

22 مئی 2016

میاں صاحب کا انتخاب بالکل درست تھا اور انہوں نے ایسے شخص کوفوج کی قیادت سونپی جو اپنی پیشہ ورانہ مہارت کیلئے مشہور ہے اور جسے اقتدار میں کوئی دلچسپی نہیں۔ بظاہرمیاں صاحب نے نفع بخش بندوبست کر لیا تھا۔افسوس کہ جلد ہی فوج اور حکومت میں اختلافات شروع ہو گئے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)کے دہشت گرد سوات اور جنوبی وزیرستان سے نکالے جانے کے بعد شمالی وزیرستان میں محفوظ ٹھکانے بنا کر مورچہ بند ہو چکے تھے۔ امریکہ، افغانستان اور نیٹو کے بار بار اصرار کے باوجود جنرل کیا نی شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن آغاز کرنے سے گر یزاں تھے۔ شائد ان کا خیال تھا کہ فو ج سوات اور جنوبی وزیر ستان میں آپر یشن کے بعد وہاں سے واپس نہیں آئی اور سول انتظامیہ کی کمزوریوں کے باعث داخلی معاملات میں الجھ کررہ گئی۔ علاوہ ازیں بھارت بھی مشرقی محاذ میں معاندانہ حرکتوں سے پاکستان کو پھنسائے ہوئے تھا جسکے باعث خاصی تعداد میں پاک فوج کے دستے بھارت کے ساتھ سرحد اور لائن آف کنٹرول پہ تعینات تھی۔ شائد انہی وجوہات کے باعث جنرل کیانی شمالی وزیرستان پہ حملہ کرنے سے کتراتے رہے۔
جنرل راحیل شریف نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالتے ہی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے منصوبے پہ نظرثانی کی اور حکومت سے اجازت مانگی کہ ملٹری آپر یشن کا آغاز کیا جائے۔ میاں نواز شریف نے فیصلہ کیاکہ وہ ٹی ٹی پی کے ساتھ امن مذکرات کا آغاز کرینگے۔ ہر ایک نے مشورہ دیا کہ ٹی ٹی پی سفاک قاتل ہیں اور وہ کبھی بھی دہشت گردی سے باز نہیں آئینگے۔ ماضی میں بھی امن مذاکرات کی کوشش کی گئی لیکن وہ اس وقفے کو اپنی عسکری قوت کے اضافے میں صرف کرتے رہے اور اسلحہ جمع کرنے اور تازہ دم ہو کر بھر پور قوت سے حملے جاری کرتے رہے۔ میاں صاحب کے کانوں پہ جوں تک نہ رینگی اور انہوں نے غیرمشروط جنگ بندی کا حکم دیا اور طالبان کو مذاکرات کی دعوت دی۔ ٹی ٹی پی خود تو نہ آئے لیکن حکومت کی جانب سے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے خود بھی سیزفائر کا اعلان کرتے ہوئے اپنے منتخب نمائندوں کو امن مذاکرات کے لئے نامزد کیا۔ بلآخروہی ہوا ادھر مذاکرات جاری تھے کی ٹی ٹی پی نے کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پہ حملہ کرکے 21افراد کو شہید کر دیا اور املاک کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ حکومت کے پاس اب کوئی چارہ نہ تھا اور فوج کو شمالی وزیرستان پہ حملے کا حکم دیا گیا۔ پاک فوج کے دستوں اور پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے ٹی ٹی پی کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ شرپسند یا تو ہلاک کر دئے گئے یا بھاگنے پہ مجبور ہوگئے۔ آپریشن ضرب عضب کامیاب ہوا لیکن ٹی ٹی پی نے بھی جوابی کاروائی میں آرمی پبلک سکول پشاور اور باچہ خان یونیورسٹی چارسدہ کے علاوہ لاہور میں گلشن اقبال پارک پہ حملوں کے دوران بچے، عورتیں اور بوڑھوں کو دہشت گرد حملوں کا ہدف بنایا ۔ آرمی پبلک سکول پشاور پہ حملے کے بعد حکومت نے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا۔ ماسوائے ان شقوں کے جنکی ذمہ داری فوج کی تھی، باقی کسی حصے پہ عمل درآمد نہ ہوا۔ فوج اور حکومت میں اختلاف کی وجہ دہشت گردوں کی معاشی معاونت کو روکنا تھی۔ کئی سیاست داں بھی اس گھناؤ نے فعل میں ملوث پائے گئے۔ دوسرے یہ کہ فوج پنجاب میں بھی آپریشن شروع کرنا چاہتی تھی لیکن حکومت اجازت نہیں دیتی تھی۔ گلشن اقبال پارک پہ حملے کے بعد یہ رکاوٹ بھی دور ہوگئی۔ چھوٹو گرفتار ہوا مگر اپنے سیاسی سپانسروں کو بے نقاب کر رہا ہے۔فوج اور حکومت میں اختلاف کیو جہ بھارت سے تعلقات بھی ہیں۔ میاں صاحب بھارت کے ساتھ دوستی کے لئے بے تاب تھے۔ یہ موقع انہیں نریندر مودی کی تقریب حلف برداری پہ سارک رہنماؤں کودعوت کے ذریعہ نصیب ہوا۔ مودی نے میاںصاحب کے لئے شرط مقرر کی کہ وہ آئیں ضرور لیکن مقبو ضہ کشمیر کے رہنماؤں سے ملاقات کی کوشش نہ کریں۔ فوج نے میاں صاحب کو سمجھایا کہ وہ نہ جائیں کیونکہ اس طرح پاکستان کشمیریوں کے حق کے حصول کی خاطر اپنی آواز بلند نہیں کر سکے گا۔ میاں صاحب نہ مانے وہ خوشی خوشی نئی دہلی تشریف لے گئے اور کشمیریوں کے بجائے بھارتی فولاد کے تاجروں سے ملے، برلا، مٹل، ٹاٹا اور سجن جندال سے اپنے مشترکہ لوہے کے کاروبار کے بارے میں سودے طے کر کے آگئے۔ کشمیریوں کو نظرانداز کر نے کا نتیجہ جلد سامنے آگیا جب پاک بھارت خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات سے قبل بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشز عبد الباسط نے مشاورت کی خاطر کشمیری رہنماؤں کو دعوت دی تو بھارت نے عذر بنا کر سیکرٹری خارجہ مذاکرات منسوخ کر دیئے۔ اسی عذر پہ قومی سلامتی مشیروں کی بھی ملاقات منسوخ کردی گئی۔
میاں نوازشریف کے جگری یار اور افغانستان میں فولاد کے نئے کار خانے لگانے میں بزنس پارٹنر سجن جندال نے نریندر مودی کی لاہور اور نواز شریف کے گھر رائے ونڈ اچانک دورے کا بندوبست کیا۔ نواز شریف کی سالگرہ اور نواسی کی شادی کی رسومات میں شرکت کی خاطر مودی ڈھیروں تحفے سے لیس پہنچے اور دونوں وزرائے اعظموں کی دوستی نئی نہج پہ پہنچ گئی۔ یہ آنے والے ڈرامے کا پیش خیمہ تھا۔ دو جنوری 2016 کو بھارت نے اپنی ائربیس پٹھانکوٹ پہ حملے کا ناٹک رچایا اور الزام پاکستان کے سر تھوپ دیا۔ میاں صاحب نے دوستی نبھاتے ہوئے حملے کے مبینہ مجرم مسعود اظہر کے خلاف پابندیاں لاگو کر نے کی درخواست دی جسکے پاکستان کے خلاف خوفناک مضمرات ہو سکتے تھے لیکن اللہ بھلا کرے پاکستان کے دیرینہ دوست چین کا جس نے ویٹو استعمال کر کے پاکستان کی ساتھ بچا لی۔
دوسری جانب پاکستان نے بھارتی خفیہ ایجنسی راء کے سینئر اہلکار کمانڈر کلبھوشن یا دو کوگرفتار کرلیا ہے لیکن میاں نواز شریف اس معاملے میں خاموش ہیں حا لانکہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کا یہ کھلا ثبوت ہے۔ حکومت کے اہلکاروں نے اس پہ خاموشی سادھ لی ہے کہ بھارتی لابسٹ کی کوششوں سے امریکہ سے ملنے والی امداد سے جو آٹھ ایف 16 لڑاکا طیارے ملنے تھے، وہ بھی رک گئی ہے۔ ان تمام معاملات کے ساتھ وزیراعظم کے صاحبزادے اور صاحبزادی پانامہ پییرزمیں مذکور ہیں کہ انہوں نے کروڑوں روپے خفیہ بنک اکائونٹ میں جمع کر رکھے ہیں۔ دوسرے ممالک کے صدر یا وزرائے اعظم جو اس سکینڈل میں ملوث تھے نے اپنا اپنا استعفے پیش کر دیا لیکن نواز شریف ڈٹے ہوئے ہیں۔ راحیل شریف کو برملا یہ اعلان کرنا پڑا کہ دہشت گردی اور بدعنوانی کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور بلاامتیاز احتساب لازمی ہے، ساتھ ہی فوج کے بارہ سینئر افسروں کو معطل کر کے تفتیش کے دائرے میں لے آیا گیا۔
حکومت کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنا احتساب غیر جانبدار اداروں سے کرائے اور بدعنوانی ترک کرے۔ اس کے بغیر بقاء ممکن نہیں۔ (ختم شد)