نسلوں کی بقاء کے بیج

22 مئی 2016
نسلوں کی بقاء کے بیج

اکبر بادشاہ نے بیربل سے کہاکہ وہ ایک ماہ کے اندر 5 احمقوں کو تلاش کر کے مابدولت کے حضور پیش کرے۔ایک مہینے کی شبانہ روز محنت اور تگ ودو کے بعد بیربل دو افراد کے ساتھ بادشاہ سلامت کی خدمت میں حاضر ہوا توبادشاہ نے اسے ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا۔ ’’ہم نے تمہیں ملک کے پانچ احمق ترین لوگوں کو لانے کیلئے کہا تھا، تم دو کو لے کے آ گئے ہو‘‘۔بیربل نے کہا۔ ’’مہاراج! مجھے ایک ایک کرکے احمقوں کو پیش کرنے کی اجازت دی جائے ۔بیربل نے پہلا شخص پیش کرتے ہوئے کہا ۔’’ یہ بڑا احمق اس لئے ہے کہ بیل گاڑی میں سوار ہونے کے باوجود اس نے سامان کی گٹھڑی اپنے سر اٹھائی ہوئی تھی ‘‘۔ دوسرے احمق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیر بل گویا ہوا۔’’اس شخص کے گھر کی چھت پر بیج پڑے تھے،وہ بیج اُگ آئے تو چھت ہری بھری ہوگئی یہ شخص اپنے بیل کو لکڑی کی سیڑھی سے چھت پر لے جانے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ بیل چھت پر چڑھ کر سبزہ چر لے‘‘۔ بادشاہ اب تیسرے احمق کو پیش کئے جانے کا منتظر تھا۔اس دوران بیر بل نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔’’مہاراج! بطور وزیر مجھے اہم امور سلطنت چلانے تھے مگر میں نے ایک مہینہ ضائع کیا اور صرف 2 احمق تلاش کرسکا۔ اس لئے تیسرا احمق میں خود ہوں‘‘۔بادشاہ نے پوچھا۔’’چوتھا احمق کون ہے اور کہاں ہے؟‘‘۔ بیربل نے نے دست بستہ ہو کر جھکتے ہوئے کہا۔’’جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔‘‘۔ بادشاہ نے جان کی امان دیدی، اس نے کہا۔’’ ظِلِ الٰہی! آپ شہنشاہِ ہندہیں ۔قابل ترین افراد کو تلاش کرنے کی بجائے آپ نے احمق ترین لوگوں کو تلاش کرنے میں نہ صرف اپنا وقت برباد کیا بلکہ ایک اہم وزیر کا وقت برباد کیا، لہٰذا چوتھے احمق آپ ہیں۔‘‘۔ میں نے بادشاہ اور اسکے مصاحب کامکالمہ یہیں تک پڑھا تھا۔۔۔ قصہ ایک طرف رکھ کے سوچنے لگا ، اُس دور میں پانچواں احمق کون ہوسکتا تھا تو اچانک ذہن میں بجلی کی سی تیزی سے خیال کوندا۔: پانچواں احمق تومیں خود ہوں اور جب مزید غور کیا تو مجھے اپنے سے بڑے اور بہت بڑے احمق نظر آئے۔ہم اور بہت کچھ تسلیم کرلیتے ہیں اپنی حماقتوں کوکبھی حماقتیں نہیں سمجھتے۔پاگل خانے میں موجو پاگل بھی خود کو پاگل نہیں سمجھتا۔ہمارے جرگوں اور پنچائتوں میں چوری کے ملزم کو آگ پر چلنے یا ابلتے تیل میں ہاتھ ڈبونے کو کہا جاتاہے۔غیرت کے نام پر لڑکیوں کو زندہ جلانے کا فیصلہ صادر کیا جاتاہے۔ملزم کے خاندان کی خواتین کو بے آبرو کرنے کا حکم سنایا جاتاہے۔جن افراد پر ایسی پنچائتیں اور جرگے مشتمل ہوتے ہیں وہ بھی اپنی جہالت کو ذہانت اور ظلم کوعدل سمجھتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر کسی نے شیئر کیا تھا۔ـ:چند افراد باجماعت عبادت کررہے تھے ۔ ایک مسافربھی ان کے ساتھ شامل ہوگیا۔ اس نے دیکھا ، سب سے آگے کھڑے شخص کے کپڑے لتھڑے ہوئے ہیں۔اس نے لوگوں سے شکوہ کیا ۔’’تم نے ایسے شخص کو سب سے آگے کھڑا کیا ہوا ہے‘‘؟ان میں سے ایک نے جواب دیا۔’’یہ شراب پیتا ہے اس لئے اسے صفائی ستھرائی کا ہوش نہیں رہتا‘‘۔اس پر اجنبی کا شکوہ شکایت میں بدل گیا تو مجمع میں سے کسی نے بتایا۔’’یہ جواء ہار جائے غم غلط کرنے کیلئے شراب کا سہارا لیتا ہے‘‘۔اب اجنبی غصے میں دکھائی دیا تو ایک اور آواز بلند ہوئی ۔’’اسے ہم پیچھے اس لئے کھڑا نہیں کرتے ، یہ جوتے اُٹھا کے بھاگ جاتاہے‘‘ یہ عبادت گزار بھی خود کو دانشور سمجھتے تھے۔ ہم نے اپنی حماقتوں سے ایسے ہی لوگوں کو لیڈر بنایا ہوا ہے۔حماقت ہے کیا: بلی کو نہلانا جانور دوستی ہے‘ نہلا کر اسے نچوڑناحماقت ہے۔ کیلا شوق سے کھائیں، چھلکے سمیت کھانا حماقت ہے۔ بچے جنت کی تتلیاں ہیں ان سے پیار کریں انکے پاتھ چاقو تھما دینا حماقت ہے۔
ہم جیسا نادان ،احمق اور جاہل کوئی کیا ہوگا! ہم اپنے سودوزیاں سے غافل ہیں۔ہمیں اپنی نسل کی بقاء کی فکر نہیںہے۔کچھ لوگ اپنی اولاد کیلئے دولت کے انبار لگا چکے اورلگارہے ہیں۔ یہ مال ، دولت ودنیا اسکے مستقبل کو تابناک اور روشن بنانے کی ضمانت نہیں۔لق دق صحرا میںبھٹکے سیاح کی لینڈروور بھی خراب ہوگئی،اسکی کلائی میں بندھی ہیرے کی گھڑی، جواہرات سے مرصع بندوق، سونے کے برتن اورڈالروں کا بیگ اسکی جان نہیں بچا سکتا، کوئی معجزہ نہ ہوتو اس سیاح کا تڑپ تڑپ کے مرنا مقدر ٹھہرتا ہے۔10 فروری 1258ء کو ہلاکو نے بغداد فتح کرکے شہر کو آگ لگاکر لاکھوں مسلمانوں کو بے دردی سے تہہ تیغ کرادیا۔ ہلاکو کے سامنے آخری عباسی خلیفہ المتعصم بااللہ کو پیش کیا گیا۔ خلیفہ فاقے سے تھا ہلاکو نے اسکے سامنے ہیرے جواہرات اور سونے کے زیورات پلیٹ میں رکھ کر کھانے کیلئے پیش کئے۔ خلیفہ نے کہا یہ میں کیسے کھا سکتا ہوں؟۔۔ ہلاکو نے طیش میں آکر کہاتو ان کو اکٹھا کرنے کے بجائے اپنا دفاع مضبوط کیا ہوتاتو آج یوں رسوااور ذلیل نہ ہوتا… اسکے ساتھ ہی اسے قالین میں لپیٹ کر زمین پر پھنکوایا اور اوپر سے گھوڑے دوڑا دئیے۔
آج ہماری دفاع کے حوالے سے متعصم باللہ والی پوزیشن نہیں ہے،ایٹمی ٹیکنالوجی نے ہمارا دفاع ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے مگر اپنی حماقتوں کی لگائی آگ سے شاید دامن نہ بچا پائیں گے۔آج جس کا بس چلتاہے ملکی وسائل پر ہاتھ صاف کررہا ہے۔اپنی نسل اورانسانیت کی بقاء کی طرف توجہ نہیں۔ جنگلات کا صفایا کیاجارہاہے۔ چیونٹی بھی سردیوں کے آغاز میں اپنی چھ ماہ کی خوراک کا بندوبست کرلیتی ہے مگر ہمیں ماحولیات سے کوئی غرض نہیں۔موسم کی شدت میں ہرسال اضافہ ہورہا ہے،ہمیں اسکی پرواء نہیں۔ہم درخت کاٹتے نہیں ان کا قتل کرتے ہیں۔اس قتل سے ہماری نسلوں کا خون بہتا ہے۔اگر ہم نے ماحولیات کا مقابلہ نہ کیا تو نئی نسل کودولت کے ڈھیر نہیں بچا سکیں گے۔کڑکتے نوٹ بھوک اور پیاس کی آگ کو نہیں بجھاپائیں گے۔عقل مندی کا تقاضا ہے،ہم نئی نسل کیلئے جہنم زارماحول کا اہتمام نہ کریں،انکی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
امریکی اخبار کیمطابق جنگلات کی کمی سے پاکستان میں ماحولیاتی استحکام خطرے میں ہے۔ پاکستان میں صرف دو فیصد رقبے پر جنگلات ہیں۔ امریکہ میں 33 فیصد، بھارت میں 23 فیصد حصے پر جنگلات ہیںجبکہ کسی بھی ملک کیلئے 25فیصد جنگلات کا ہونا ضروری ہے۔ پاکستان میں ڈیڑھ سے دو کھرب درخت لگانے کی ضرورت ہے۔ اس سے ماحول قدرے بہتر ہوسکتاہے۔
ہم پاکستان کا 25فیصد سے زیادہ رقبہ جنگلات میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ایک تو شجر کاری والے محکمے کے افسروں و اہلکاروں کا ایماندار اور اپنے چبوں کیلئے خیر خواہ ہونا ضروری ہے۔ دوسرے ہرپاکستانی کو بھی اپنا کردار اداکرنا ہے جو چنداں مشکل نہیں ہے۔ پاکستان کی دھرتی کا چپہ چپہ زرخیز ہے۔ چھتوں، دیواروں اور پختہ سڑکوں پر سبزہ اُگ آتاہے۔ سبزیاں اورفروٹ ہرگھر میں آتے ہیں۔آپ جو بھی پھل کھائیں،اسکے بیج سنبھالتے جائیں۔اگر موقع ملے تو خالی جگہ پر بکھیر دیںورنہ سڑکوں اور نہر کے کناروں پر پھنکتے جائیں۔یہ کوئی مشکل کام نہیں مگر قوم وملک اور انسانیت کی ایسی خدمت ہے جس پر آپکا کچھ خرچ نہیں آتا۔آپ اپنی حیثیت کے مطابق بیج خرید کر بھی اس کارِ خیر میں مزید اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ یہ نیکی کے بیج قیامت تک پھلتے پھولتے رہیں گے۔ یہ بہترین صدقہ جاریہ بھی ہے۔