پانامہ لیکس… سیاسی طوطے اور طوطیاں

22 مئی 2016

پانامہ لیکس جب سے لیک ہوئی ہیں، پورے پاکستان میں پاجامہ لیکس بنی ہوئی ہیں۔ پانامہ لیکس کے مطابق پاکستان کی بہت سی سیاسی جماعتوں کے رہنما کاروباری شخصیات اور زرپرست افسران کے نام شامل ہیں۔ لیکن کچھ سیاست دانوں نے صرف شریف خاندان کیخلاف شور مچا رکھا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ شور مچانے والے سیاستدانوں کے قریبی ساتھیوں کے نام بھی پانامہ لیکس میں شامل ہیں۔ پاکستانی سیاست دانوں نے ایسی پانامی عینکیں لگا رکھی ہیں جن کے باریک بین شیشوں میں صرف مخالف سیاست دانوں کی ناجائز کمائی دکھائی دیتی ہے لیکن اپنے ساتھی سیاست دانوں کے چہرے اس طلسماتی پانامی عینک میں اجاگر نہیں ہوتے۔
ہے سیاسی عینکوں میں یہ طلسماتی کمال
ان سے آتا ہے نظر اپنے مخالف ہی کا مال
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بڑے بڑے عوامی جلسے کرنے، پانامائی شور مچانے یا پھر بڑے بڑے اجتماعات میں پانامائی الزامات کی صفائی دینے سے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا یا پھر یہ مسئلہ جوں کا توں رہے گا لیکن پوری پاکستانی قوم ایک نفسیاتی دبائو اور ذہنی الجھن کی بیماری میں مبتلا ہوجائیگی اور جلسے جلسوں کے ساتھ ساتھ مختلف ٹی وی چینلز پر بے نتیجہ مباحث سن سن کر اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسنے لگے گی۔ اس نفسیاتی دبائو کو کم کرنے کیلئے پاکستانیوں کی اکثریت نے بھارتی فلموں والے چینل دیکھنا شروع کردیئے ہیں۔ اس طرح بھارتی چینلوں کی مقبولیت کا مفتا لگ گیا ہے اور اس بہانے ہندو دیومالائی ثقافت نئی نسل پر اثر انداز ہونے لگی ہے۔
پک گئے ہیں کان سن سن کر مباحث بے ثمر
بھارتی فلموں کے چینلز چل پڑے ہیں گھر بہ گھر
عمران خان کو ایک جذباتی، سچا اور کھرا سیاست دان سمجھا جاتا ہے، عمران خان کی شعلہ بار تقاریر کی وجہ سے پانامہ لیکس کا معاملہ ایک بھڑکتی ہوئی آگ کی طرح ملک بھر میں پھیل گیا۔ تحریک انصاف نے انتخابات کے دوران مخالف سیاسی لیڈروں کے داخل کردہ گوشواروں میں اثاثوں کی غلط بیانی کی بنیاد پر حکومت مخالف تحریک کا آغاز کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حقائق سامنے آنے پر انکشاف ہوا کہ خود عمران خان نے بھی اپنے اثاثوں کے بارے میں غلط بیان حلفی داخل کئے تھے اور اپنی ملکیتی آف شور کمپنی کا ذکر گول کرگئے تھے۔ جب یہ راز فاش ہوا تو انہوں نے خود تسلیم کیا کہ انہوں نے ٹیکس بچانے کیلئے ایک آف شور کمپنی بنا رکھی تھی۔ عمران خان نے دوسرا کمال یہ کیا کہ پیپلز پارٹی کے ایک رہنما کو پانامہ لیکس مخالف پارلیمانی اتحاد کا رہنما تسلیم کرلیا اور اپنی حیثیت محض ایک رکن کے طور پر قبول کرلی۔ یہ وہی پیپلز پارٹی ہے جس کے رہنمائوں کو وہ نواز شریف کے ساتھ کرپشن کا بادشاہ قرار دیتے رہے ہیں۔ اور جن کے بیرون ملک اثاثوں کی ایک طویل فہرست امریکی کانگریس کی ایک ایسی رپورٹ میں موجود ہے جس میں دنیا بھر کے کرپٹ سیاست دانوں کی تفصیل درج ہے۔
محو حیرت ہیں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی
حقیقی صورت حال یہ ہے کہ تحریک انصاف سمیت تمام حکومت مخالف سیاسی جماعتوں اور حکومت کے درمیان پانامہ لیکس، قرض معافی اور حکومتی معاہدات میں خفیہ رقوم حاصل کرنیوالے تمام افراد کے خلاف تحقیقات اور کارروائی کے حوالے سے اتفاق رائے ہوچکا ہے اور طے پایا ہے کہ بارہ رکنی کمیٹی تشکیل دی جائیگی جس میں پچاس فیصد نمائندگی حزب مخالف کی ہوگی۔ یہ کمیٹی اپنی تشکیل کے بعد پندرہ دن کے اندر احتساب کا لائحہ عمل تیار کریگی اور ٹی او آرز طے کرکے پارلیمان میں پیش کریگی۔ ان تجاویز کی روشنی میں نئی قانون سازی کی ضرورت پیش آئی تو نیا قانون تشکیل دیا جائیگا۔ یہی پارلیمانی کمیٹی پانامہ لیکس کے الزامات کے صحیح یاغلط ہونے سے متعلق نظام بھی وضع کریگی۔ ان معاملات میں بدعنوانی، کمیشن، کک بیکس، رقم بیرون ملک منتقل کرنے اور آف شور کمپنیوں کے بارے میں تحقیق شامل ہوگی۔ اسکے بعد یہ ٹی او آرز سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے پاس بھیجے جائینگے اور تمام تحقیقات سپریم کورٹ کے ذریعے ہی ہوں گی۔
اس تمام پس منظر میں ہمارا ’’جاہلانہ‘‘ مشورہ یہ ہے کہ بڑے بڑے جلسے جلوس کرنے اور الزام تراشیوں کے بجائے حکومت اور حزب اختلاف دونوں کو چاہئے کہ وہ باہمی مشاورت سے مشترکہ ٹی او آرز کو حتمی شکل دیں۔ اسمبلی میں مطلوبہ قانون سازی کریں اور یہ سارا معاملہ سپریم کورٹ میں بھیج دیں۔ اس دوران ایک دوسرے کیخلاف الزام سازی اور جلسہ بازی کے بجائے دونوں فریق بین الاقوامی اور ملکی قوانین کے ماہر قانون دانوں کی خدمات حاصل کریں جو ان تمام حالات کو ضوابط اور قوانین کی روشنی میں دیکھیں۔ اپنے اپنے مؤقف کی مضبوطی کیلئے مواد جمع کریں اور دیکھیں کہ کون کون کس کس قانون کی خلاف ورزی کامرتکب ہوا ہے اور ارتکابِ جرم کیلئے کیا کیا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔ جو جو کاروباری کمپنیاں پانامہ میں بنائی گئیں، ان میں کس کس کا سیاہ پاجامہ استعمال ہوا۔ اگر مخالف سیاسی جماعتوں نے یہ تیاری نہ کی تو سپریم کورٹ کے سامنے ان کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں رہے گااور سیاسی طوطے اور طوطیاں اپنے اپنے سیاسی پنجروں میں بولتے رہ جائیں گے۔