سعودی عرب کیخلاف امریکی سینیٹ کی قانون سازی

22 مئی 2016
سعودی عرب کیخلاف امریکی سینیٹ کی قانون سازی

امریکی سینیٹ نے منگل کو ایک قانون سازی Justice against Sponsors of Terrorism Act (JASTA) 9/11"ـکی منظوری دی ہے جسکے تحت 11 ستمبر، 2001ء کو امریکی سرزمین پرہونیوالے دہشتگرد حملوں کے متاثرین اورہلاک شدگان کے لواحقین سعودی عرب کی حکومت پر ہرجانے کا دعویٰ کرنے کے اہل ہونگے۔ یاد رہے کہ اِن دہشتگرد حملوں میں تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ان حملوں میں شامل طیاروں کے انیس ہائی جیکروں میں سے پندرہ کو بعد میں سعودی شہری کے طور پر شناخت کیا گیا تھا۔ اِن ہائی جیکروں نے نیو یارک اور واشنگٹن میں حملے کی غرض سے چار مسافر جیٹ طیاروں کو بھی ہائی جیک کیا تھا۔امریکی ایوانِ نمائندگان نے ا بھی اس اقدام کی منظوری دینی ہے، جسکے بعد صدر باراک اوباما کے دستخطوں سے یہ بل قانون بن جائیگا۔امریکی صدر اوباما نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایوانِ نمائندگان اس قانون سازی کی منظوری دیتا ہے تو وہ اسے ویٹو کردینگے اس لیے کہ انکی نظر میں اس اقدام سے بیرون ملک امریکیوں کو قانونی اور دیگر خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔سعودی عرب نے اِن حملوں میں ملوث ہونے کے امکان کویکسر مسترد کیا ہے اور یہ قانون بننے کی صورت میں امریکی معیشت سے اپنے اربوں ڈالر کا سرمایہ کھینچ لینے کی دھمکی بھی دے دی ہے۔امریکی سینیٹ کی جانب سے اس قانون سازی کے بعد، وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’’ یہ بات بعید از قیاس لگتی ہے کہ صدر اس قانون سازی پر دستخط کردینگے‘‘۔ ایسے میں جب اوباما اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ 9/11حملے کے بارے میں امریکہ کی سرکاری تفتیشی رپورٹ میں شامل اْن 28 صفحات کو عام کیا جائے جن میں سعودی عرب کے ملوث ہونے کے امکان پر بات کی گئی ہے۔رپورٹ کے اس حصے کو ابھی تک عام آدمی کیلئے مخفی رکھا گیا ہے۔امریکی خفیہ ادارے کے سربراہ جان برینین نے کہا ہے کہ ان28صفحات کو اس لیے عوام کے سامنے نہیں لایا گیاکیونکہ انکی تحقیق میں حساس ذرائع کو استعمال کیا گیا ہے۔ ’دِی نیو یارک ٹائمز‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر کانگریس کوئی ایسا اقدام کرتی ہے تو سعودی عرب امریکی اثاثہ جات کے اربوں ڈالر (750ارب ڈالر کے امریکی بونڈ،جوامریکی خزانہ کیلئے بہت بڑی سیکورٹی ہیں) فروخت کردیگا۔ ایک جانب تو امریکہ میں سعودی عرب کیخلاف اقدامات کیلئے قانون سازی کی جارہی ہے تو دوسری جانب امریکہ سعودی عرب اور خلیج فارس کے دوسرے ممالک کویت،قطر اور متحدہ عرب امارات میں بھی طویل المدتی اقتصادی اصلاحات متعارف کرا رہا ہے ۔اقتصادی اصلاحات کا یہ منصوبہ سعودی معیشت کی بحالی کی کوششوں کا حصہ ہے جو خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی سے شدید متاثر ہوئی ہے۔سعودی حکومت نے بھی اپنے طور پر اقتصادی اصلاحات کا ایک منصوبہ تشکیل دیا ہے ۔جسے ’سعودی و یژن 2030‘ کا نام دیا گیا ہے ۔اس منصوبے میں نجکاری، سبسڈی میں کمی، سعودی تیل کی کمپنی ارامکو کے پانچ فیصد حصص کی فروخت اور شہروں کی ترقی کیلئے دو ارب ڈالر کے فنڈ کا قیام شامل ہیں۔اس منصوبے پر عملدرآمد میں کئی چیلنج درپیش ہو سکتے ہیں۔ ایسے ملک میں جہاں 70 فیصد آمدن کا ذریعہ تیل ہے ۔ تیل کی پیداوار میں کمی کے اثرات سعودی معیشت پر یقینی ہیں۔شہزادہ محمد بن سلمان نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونیوالے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’اگر 2020 تک خام تیل کی فروخت بند بھی ہو گئی توسعودی معیشت پر زیادہ فرق نہیں پڑیگا‘‘
سعودی عرب کے خفیہ ادارے کے سابق سربراہ ترکی الفیصل اورا مریکہ میں سعودی عرب کے سابق سفیر اورموجودہ وزیر خارجہ عادل جبیر نے بھی امریکی صدرباراک اوباما کے بیان پر شدید تنقید کی ہے ۔اور کہا کہ: ’’اگر ہمیں محسوس ہوا کہ امریکی مالیاتی اداروں میں پڑے ہمارے سرمائے کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں تو ہم یہ رقم، یعنی (750 ارب ڈالر) واپس لے آئینگے‘‘۔خارجہ اور دفاعی امور کے ماہرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب کیخلاف کسی قسم کی قانون سازی ہوتی ہے تو امریکہ کیلئے سفارتی اور معاشی حوالے سے اسکے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔دوسری طرف ایران نے امریکہ اوراس پر مؤثر ہر لابی کو مزید بہتر تعلقات کے عملی پیغامات دینا شروع کردیئے ہیں۔ ایٹمی معاہدے کے بعد امریکہ کو 8 میٹرک ٹن بھاری پانی کی فروخت کی خبریں سامنے آچکی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے بقول: ’’ایٹمی معاہدے کے بعد امریکی بنکوں میں منجمد 55ارب ڈالر میں سے 3ارب ڈالر ایران کو واپس مل گئے ہیں‘‘۔سعودی عرب اور امریکہ کے 70سالہ تاریخی اور دوستانہ تعلقات میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ امریکی رائے عامہ اور سیاسی رہنمائوں نے کھل کر سعودی عرب کیخلاف انتہائی اقدامات کیلئے نہ صرف یہ کہ آواز بلند کی بلکہ امریکی پارلیمنٹ کے ایک ایوان نے تو بل بھی منظور کر لیا ہے۔ یہ سب اقدامات اس بات کا مظہر ہیں کہ اب امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات ایک نئی نہج اختیار کر رہے ہیں۔
ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئیے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں بھی اب پہلی سی گرم جوشی نہیں رہی۔ حال ہی میں امریکہ نے پاکستانی امداد کو حقانی گروپ کیخلاف اقدامات سے منسلک کر دیا ہے۔ چند ہفتے پہلے امریکہ نے ایف سولہ طیاروں کے حوالے سے بھی پابندیوں کا اطلاق کیا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی اور تجارتی روابط کیساتھ ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری بھی امریکہ کی آنکھوں میں کھٹک رہی ہے۔