مفاداتی ایکے میں رضا ربانی کے ضمیر کا پھر امتحان

22 مئی 2016
مفاداتی ایکے میں رضا ربانی کے ضمیر کا پھر امتحان

ہمارے دوست سرفراز سید کو اعدادوشمار کا ہیر پھیر جانچنے میں ملکہ حاصل ہے۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی کی ایک قائمہ کمیٹی کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں چار گنا اور ان کے الائونسز میں دس گنا اضافہ کی مرتب کردہ سفارشات کی قومی اسمبلی کے تمام ارکان نے بیک آواز گلا پھاڑتے ہوئے منظوری دی تو سرفراز سید صاحب کاغذ قلم لے کر اس کا حساب کتاب کرنے بیٹھ گئے۔ اس حساب کتاب کا نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ بجٹ میں قومی اسمبلی کے سالانہ اخراجات کی مد میں 52کروڑ روپے کی منظوری لی گئی تھی جبکہ اب قومی اسمبلی کے ارکان کی تنخواہوں اور الائونسز میں دس گنا تک اضافہ ہونے سے ہائوس کو فنانس بل کی منظوری کے مراحل میں قومی اسمبلی کے سالانہ اخراجات کے لئے تقریباً چار ارب روپے کی منظوری لینا ہو گی۔ سرفراز سید صاحب نے تو یہ تخمینہ صرف قومی اسمبلی کے سالانہ اخراجات کی مد میں لگایا ہے جبکہ چار گنا تنخواہیں اور دس گنا الائونسز قومی اسمبلی اور سینٹ سمیت تمام ارکان پارلیمنٹ کے بڑھائے گئے ہیں۔ وہ دوبارہ کاغذ قلم لے کر بیٹھیں اور اب لگے ہاتھوں سینٹ کے ایک سو سے تجاوز کرنے والے ارکان کی تنخواہوں اور الائونسز میں بھی اتنے ہی اضافہ کا حساب کتاب لگا کر سٹیٹ کے سالانہ اخراجات میں ہونے والے اضافہ سے بھی اس قوم کے خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے ساٹھ فیصد عوام کو آگاہ کر دیں تاکہ انہیں اس اضافے کے باعث خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والی آبادی میں اضافے پر کچھ اطمینان قلب تو حاصل ہو۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید صاحب گزشتہ روز لاہور ایڈیٹرز کلب کی نشست میں مہمان خصوصی تھے جس میں مجیب الرحمان شامی صاحب تلقین کر چکے تھے کہ یہ ایڈیٹروں کا فورم ہے اس لئے اسے پریس کانفرنس میں تبدیل کرنے کی کوشش نہ کی جائے تاہم ایڈیٹرز کلب کے صدر ضیاء شاہد صاحب مہمان خصوصی کے اظہار مافی الضمیر کے بعد تقریب کے شرکا کو مہمان خصوصی کے روبرو اپنا اپنا مافی الضمیر پیش کرنے کی دعوت دے چکے تھے سو ’’لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر، کیا کیجئے‘‘ کے مصداق سرفراز سید نے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الائونسز میں اضافہ کے حوالے سے اپنی جانب سے قومی اسمبلی کے اخراجات میں اضافہ کا لگایا گیا تخمینہ پرویز رشید صاحب کے روبرو پیش کر دیا۔ مجھ سے بھی نہ رہا گیا اور میں نے انہیں لگے ہاتھوں اس بات پر مبارکباد پیش کر دی کہ پانامہ لیکس اور نہ جانے دوسری کون کون سی بدعنوانیوں پر گلے پھاڑ کر ایک دوسرے کے پیچھے پڑنے، ایک دوسرے کے گریبان تک ہاتھ ڈالنے کی نوبت لانے اور ایک دوسرے کو ڈاکو چور کے القاب سے نوازنے والے سرکاری اور اپوزیشن بنچوں کے ارکان کو قومی اسمبلی میں کسی ایشو پر بیک آواز تو دیکھا گیا ہے۔ ہر الا بلا پر حکومتی وکالت سے عاجز نہ آنے والے پرویز رشید صاحب پہلی بار زود رنج نظر آئے۔ فرمانے لگے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافہ کوئی گناہِ کبیرہ تو نہیں اور پھر انہوں نے اس اضافے کا استدلال کیا نکالا؟ مثال پیش کر دی کہ میرے محکمہ کے تو ڈرائیوروں کی تنخواہیں بھی ایک لاکھ روپے سے تجاوز کر چکی ہیں اور پرائمری سکولوں کے اساتذہ بھی ہم سے زیادہ تنخواہیں لے رہے ہیں۔ پھر مزید استدلال یہ سامنے آیا کہ آپ لوگ ویسے تو شکوہ کرتے ہیں کہ غریب اور متوسط طبقات کے لوگوں کو منتخب ایوانوں میں آنے کا موقع ہی نہیں مل پاتا۔ آپ خود اندازہ لگائیے اگر غریب اور متوسط طبقات کے نمائندے ہائوس میں موجود ہوں اور انہیں تنخواہیں سابق فارمولے کے مطابق صرف 71ہزار روپے ماہانہ مل رہی ہوں تو کیا انہیں ان کے گھر والے کان سے کھینچ کر یہ کہتے ہوئے واپس نہیں بلا لیں گے کہ اس تنخواہ میں گھر کا بجٹ وہ خود ہی آ کر بنا لیں۔ گویا یہ اضافہ پارلیمنٹ کے منتخب ایوانوں (قومی اسمبلی اور سینٹ) میں بیٹھے ’’متوسط‘‘ طبقات کے نمائندگان کو ان کے گھر والوں کی طرف سے ان کے کان کھینچنے سے بچانے کے لئے کیا گیا ہے۔
اب اندازہ لگائیے ’’غریب اور متوسط‘‘ طبقات کے ان نمائندگان کو ایوان میں کبھی کبھار حاضری، اکثر خاموش بیٹھے رہنے، حکومتی اور پارٹی قیادتوں کے فیصلوں پر ربر سٹمپ کا کردار ادا کرتے ہوئے ہاں یا نہیں کی مہر لگانے اور راندۂ درگاہ خلقِ خدا کے حقوق و مفادات کے لئے زبان سے ایک لفظ بھی ادا نہ کرنے کا ایکا کرنے کا صلہ اب ماہانہ دو لاکھ 20ہزار تنخواہ اور الائونسز کی مد میں ماہانہ تین سے چار لاکھ روپے کی صورت میں ملا کرے گا۔ الائونسز کی مد میں اپنے دفتر کی ماہانہ آرائش و زیبائش کے لئے ایک لاکھ روپے اور اپنے انتخابی حلقے کے دورے کے لئے ماہانہ 7ہزار روپے بھی ان غریب غربا کا استحقاق بنا دیا گیا ہے۔ پھر جہازوں میں اپنے اور اہل خانہ کی مفت سیر سپاٹے، چھینک آنے پر بھی علاج معالجہ کی مد میں لاکھوں روپے اور اجلاسوں کی کارروائی کے دوران روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں روپے ٹی اے ڈی کی مد میں۔ آپ خود ہی بتا دیجئے کہ یہ سارے اللے تللے کیا غریب اور متوسط طبقات کے نمائندوں کے ہیں؟ اگر فی الواقع غریب اور متوسط طبقات کے لوگ ان منتخب ایوانوں میں موجود ہوں تو وہ اتنی تنخواہوں اور مراعات کا سن کر بے ہوش ہی ہو جائیں۔ سو یہ اضافہ تو ان منتخب ایوانوں میں غریب اور متوسط طبقات کا داخلہ مکمل طور پر بند کرنے کے لئے کیا گیا ہے کیونکہ ’’بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لئے۔‘‘ کیا ایکا ہے قومی دولت و وسائل کی لوٹ مار پر کہ جو تبدیلی اور انقلاب کے نعرے لگانے اور نئے پاکستان کے چکمے دینے سے نہیں تھکتے وہ بھی پرکشش تنخواہوں اور الائونسز کی خاطر لوٹ مار کرنے والے حکمرانوں سے اپنے اصولی اختلافات فراموش کرکے ان کے ساتھ بیک آواز ہو کر مشترکہ مفاداتی بل کی منظوری پلک جھپکنے سے بھی پہلے دے دیتے ہیں۔ بس چیئرمین سینٹ رضا ربانی کا زبانی کلامی رسمی احتجاج ضرور سامنے آیا کہ ہمیں ایسی مراعات سے پرہیز کرنا چاہئے مگر یہ بل سینٹ میں منظوری کے لئے آئے گا تو وہ پھر اپنے ضمیر پر بوجھ ڈال کر ڈبڈباتی آنکھوں کے ساتھ اس کی منظوری کے مراحل طے کرا دیں گے۔ کیا کوئی دیدہ ور یہ تصور کر سکتا ہے کہ سینٹ میں منظوری کے لئے یہ بل پیش ہونے پر رضا ربانی واک آئوٹ کرنے کے بجائے مستعفی ہو کر گھر چلے جائیں گے۔ پرویز رشید صاحب کے پاس تو یہ استدلال موجود ہے کہ ہم نے تو اپنی تنخواہیں ایک صوبائی اسمبلی کے ارکان کی تنخواہوں کے برابر کی ہیں جبکہ دوسری ایک صوبائی اسمبلی کے ارکان کی تنخواہیں اب بھی ہم سے زیادہ ہیں۔ وہ اب کم از کم اپنے متوسط گھرانے کا بجٹ بنانے کے تو اہل ہو جائیں گے مگر خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے گھرانوں کے لئے تو تنفس کا سلسلہ برقرار رکھنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ گھر کا بجٹ بنانا تو ان کے لئے ڈرائونا خواب بن گیا ہے۔ پھر یہ حضرات کہتے ہیں کہ سسٹم کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ ارے آپ پانامہ لیکس کی شورا شوری میں بھی اتنے بے دھڑک ہیں کہ اپنی تنخواہوں اور مراعات کے مشترکہ مفاداتی بل پر ایکا کئے بیٹھے ہیں تو پھر سسٹم کے تحفظ کے لئے کیا آپ اس خلق خدا سے بیک آواز ہونے کی توقع باندھیں گے جو آپ کے پیدا کردہ جبر اور استحصال کے نظام میں نانِ جویں کے ایک ٹکڑے کو ترس رہی ہے۔ حضور آپ مفاداتی ایکا کرتے ہوئے یہ بھی ضرور جان رکھئے کہ…؎
مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے
بھوک اطوار کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی