چیف جسٹس کی مصالحتی ادارے کی خوشخبری

22 مئی 2016

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس اعجاز الاحسن نے گزشتہ روز عدالتی نظام میں ضلعی سطح پر ایک نئے مصالحتی ادارے کی نوید سنائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ثالثی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے اور بہت سے معاملات میں ثالثی نظام عدلیہ کا ہاتھ بٹانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس سچائی سے کس کو انکار ہے کہ مصالحتی ادارے روائتی عدالتی نظام کی قانونی پیچیدگیوں سے عام شہریوں کو بچانے کے لئے دنیا بھر میں موثر ثابت ہوئے ہیں۔ جمہوری نظام یونین کونسلوں کی سطح پر مصالحتی عدالتوں کے اختیار کے ساتھ کام کرنے والے اداروں نے ہمیشہ عدالتوں کا بوجھ بٹایا ہے اور مخلوق خدا بھی بہت سی قباحتوں سے بچ کر حصول انصاف میں کامیاب ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے بیشتر صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے باوجود ابھی تک یونین کونسلوں کا نظام ایڈمنسٹریٹروں کے سپرد ہے اور یوسی کی سطح پر مصالحت کرنے کروانے کا سلسلہ تقریباً معطل ہے۔ معاشرت تنازعوں کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جو ابتدائی نوعیت کی ایسی مصالحت کمیٹیوں کے ذریعے طے ہوسکتا ہے۔ پوری دنیا میں ایسا ہوتا ہے۔ مغرب میں خانگی اور فیملی معاملات کے لئے بھی میاں بیوی اور ایک غیر جانبدار ثالث کے ذریعے معاملات طے کروانے کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے۔ یہی فیملی مسائل اب پاکستان میں فیملی لاز کی موجودگی اور گھریلو تنازعات کو چھ ماہ کی مدت کے اندر ختم کرنے کے قوانین کی موجودگی کے باوجود تقریباً 90 فی صد مقدمات سالوں تک لٹکے نظر آتے ہیں۔ ذمہ دار عدالتیں اور وکلا اور ان کے سائلان ہیں کبھی کسی بہانے ہڑتال سے کبھی ججوں کے تبادلے اور کبھی وکلا تاخیری ہتھکنڈوں کے باعث چھ ماہ کی قانونی مدت میں طے ہونے والے کیس سالوں تک لٹکے رہتے ہیں اس دوران راشی اور لالچی ڈھانچے کی تطہیر نہ ہونے کے باعث ہر مقدمہ کے فریقین کی جیب خالی ہوتی رہتی ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کے انتظامی جج صاحبان، بار کونسلوں اور معاشرے کے حساس طبقے کو عدالتی نظام کی ساری کمزوریوں کا احساس ہے ۔ بشارت جنجوعہ ایڈووکیٹ جیسے بعض دل جلوں نے تو تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق عدالتی نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کرنے اور اصلاح احوال کے لئے کتابی محاذ بھی کھول لیا ہے۔ انصاف کی زبوں حالی کو محسوس کرتے ہوئے ہی اب چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جناب جسٹس اعجاز الاحسن نے پنجاب بھر میں ضلعی عدلیہ کی سطح پر ایک با اختیار مصالحتی ادارے کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ بار نے بھی ثالثی نظام کی اہمیت اور ضرورت کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کیا اور اختتامی اجلاس میں بار کے صدر رانا ضیا عبدالرحمان نے بطور خاص چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو خطاب کی دعوت دی۔ جناب اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ بطور ادارہ اس رو پر یقین رکھتا ہے کہ مصالحتی نظام کو نظام انصاف کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے تاکہ عام آدمی تک نظام انسان کے ثمرات پہنچ سکیں البتہ چیف جسٹس نے بار کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا اور واضح کیا کہ وکلا کے تعاون اور کوششوں سے ہی مصالحتی نظام کو کامیاب بنانا ممکن ہے۔ اس سیمینار میں بیرون ملک کے بنچ اور بار سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ ساتھ جسٹس شاہد حمید ڈار، جسٹس انوار الحق، جسٹس مامون الرشید شیخ، جسٹس فرخ عرفان خان اور جسٹس قاسم خان بھی موجود تھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ضلعی سطح پر جس مصالحتی ادارے کی نگرانی خود اعلیٰ عدلیہ کرے گی وہ یقینی طور پر ثمر بار ثابت ہوگا لیکن بات پھر وہی ہے کہ کبھی ایک ہاتھ سے خالی نہیں بچ سکتی، آج کل عدلیہ اور نظام انصاف سے مخلوق خدا کو جو شکایات ہیں اگر نئے مصالحتی ادارے کو معاملات کے تمام فریقین نے ذمہ داری سے نہ چلایا تو یہی شکایات اس ادارے کی موجودگی میں بھی بھی سنائی دینے لگیں گی۔ یہ نظام انصاف ہی ہے جس نے ماضی میں مسلم معاشرے کو باقی معاشروں پر فوقیت دلائی تھی اور یہ نظام انصاف ہی ہے جس نے آج مسلم معاشروں کو باقی دنیا کی صفوں میں پیچھے کھڑا کردیا ہے۔ چیف جسٹس نے بہت سے معاشرے کے دوسرے انصاف پسند اور حقیقت آشنا لوگوں کی طرح انصاف کے نظام کی اصلاح اور بہتری کی بات کی ہے کاش بہتری کی کوئی عملی صورت بھی سامنے آسکے۔