ایک تصویر ایک کہانی

22 مئی 2016

پنجاب یونیورسٹی چوک میں 20 سالہ کاشف عرف بجلی خواجہ سرا سٹاپ پر رکنے والی گاڑیوں کو مختلف کھانے پینے کی اشیاء فروخت کر کے اپنا گزارہ کرتا ہے ۔میٹرک تعلیم کے بعد ہم خیال دوستوں میں زیادہ اٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے گھر والوں نے دور کر دیا ہے۔ ہمارے لیے زندگی گزارنا کتنا مشکل ہے۔ یہ ہم جیسے لوگ ہی جانتے ہیں۔ ہماری نہ گھر میں عزت ہے اور نہ ہی باہر۔ اب روزانہ اپنے آپ کو تیار کر کے شہر کے کسی نہ کسی بس سٹاپ کسی ٹریفک کے اشارے پر کھڑے ہو کر گاڑیوں میں بیٹھے لوگوں کو دعائیں دے کر کچھ نہ کچھ حاصل کرتے ہیں جس سے گزارہ کرتے ہیں۔ (فوٹو گل نواز)

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...