پرویز رشید ہمارے درمیان

22 مئی 2016
پرویز رشید ہمارے درمیان

میں وزیراطلاعات سے مانگنے تو کچھ اور گیا تھا مگر جب انہوں نے ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کے دفاع میں یہ کہا کہ بعض پرائمری ٹیچروں کی تنخواہ ایک لاکھ سے زائد ہوتی ہے اور بعض چپراسی پچھتر ہزار ماہوار وصول کرتے ہیں تو میںنے بے اختیار ہو کر کہا کہ مجھے کسی پرائمری سکول کا ٹیچر لگوا دیں مگر انہوں نے سنی ان سنی کر دی۔ 

پرویز رشید دفاعی معاملات میں پی ایچ ڈی کر چکے ہیں، بھلا لاہوری ایڈیٹروں کے کیا قابو آتے۔ جو بھی سوال داغا جاتے، اسے اس انداز سے ٹھس کرتے کہ اگلے بندے کو سوال درسوال کی ہمت ہی نہ ہوتی۔
پرویز رشید ضرورت سے زیادہ فریش تھے حالانکہ پانچ گھنٹے کا سفر کر کے اسلام آباد سے آئے تھے۔ یہ لاہوریوں سے ان کے عشق کا مظہر تھا۔ انہوںنے ایڈیٹروں کے ساتھ دو گھنٹے گزارے، جب وہ گئے تو ایڈیٹر مضمحل ہو چکے تھے۔
کلمات استقبالیہ میں کہا گیا کہ ہمارے مہمان وزیر اطلاعات بھی ہیں اور حکومت ا ور اپنی پارٹی کے ترجمان بھی مگر مہمان نے کہا کہ وہ ان دونوں حیثیتوں کو ایک طرف رکھ کر اپنے بھائیوں کے درمیان بیٹھے ہیں اور یہاں بے تکلفی اور دوستانہ انداز میں گفتگو ہو گی۔
وہ اگلے بیس منٹ بے تکان بولتے رہے، ان کا مدعا یہ تھا کہ ملک کو استحکام کی ضررت ہے مگر پہلے تو سوویت روس کے خلاف جہاد نے اس خواب کو پریشاں کر کے رکھ دیا، یہ جہاد ہماری جھولی میں کلاشنکوف کلچر اور ہیروئن مافیا کا تحفہ ڈال گیا، فرقہ بندی کی لعنت بھی اسی کا تحفہ تھی ا ور اب وار آف ٹیرر نے رہی سہی کسر نکال دی ہے، ہماری معیشت زیر وزبرہو گئی ہے۔ مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق، بعض سیاسی کھلاڑی میدان میں آن اترے، ان کے دھرنے کی وجہ سے ملک کئی ماہ پیچھے چلا گیا، اس سے دیر تو ہوئی مگر حکومت نے اندھیر نہیں ہونے دیا اور اپنی بہترحکمت عملی سے ا س نقصان پر قابو پا لیا۔ اب پردہ غیب سے پانامہ لیکس کا قصہ سامنے آگیا اور وہ دھول اڑائی جا رہی ہے کہ خدا کی پناہ، ہم اس سے نبٹنے کی کوشش کررہے ہیں، وزیراعظم نے کسی مطالبے کے بغیر ایک کمشن کا اعلان کیا مگر نیک نام ریٹائرڈ ججوں پر کیچڑا چھا لا گیا، وزیراعظم نے سپریم کورٹ کو خط لکھا مگر اپوزیشن نے ٹی او آرز پر اختلاف کو اس قدر اچھالا کہ سپریم کورٹ وقتی طور پر پیچھے ہٹ گئی۔اس وقت میںنہ مانوں والی ٹیم سے واسطہ پڑا ہوا ہے۔ دھرنے سے پہلے بھی وزیراعظم نے مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لئے کمشن بنا دیا تھامگر اسے تسلیم نہ کیا گیا اور ملک و قوم کے چھ ماہ ضائع کر دیئے گئے۔ اب بھی میںنہ مانوں کی تکرار جاری ہے اور حکومت اپنے انداز میں اس سے نبٹ رہی ہے۔
پرویز رشید بہت کچھ کہہ گئے تھے اور شاید درست کہہ گئے تھے، اس لئے سوالات شروع ہوئے تو بات ارکان اسمبلی کی تنخواہوںا ور مراعات میں اضافے کی طرف چلی گئی۔ وزیر موصوف نے اس سوال سے جا ن چھڑانے کی کوشش یہ کہہ کر کی کہ انہیںتو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ تنخواہوں کے مسئلے پر کوئی کمیٹی کام کر رہی ہے۔ لیکن اگر آپ لوگوں کے کچھ تحفطات ہیں تو میں اپنے پیٹی بھائیوں کا دفاع کرنے کے لئے یہاں موجود ہوں اور پھر انہوں نے ایک تقابلی جائزہ پیش کیا کہ ارکان اسمبلی کو صرف پچھتر ہزار روپے ملتے ہیںجبکہ سکول ٹیچروں اور چپراسیوں کی تنخواہیں اس سے زیادہ ہیںاور اس تنخواہ میں کوئی متوسط طبقے کا رکن اسمبلی دارالحکومت میں قیام و طعام کا بند و بست نہیں کر سکتا، چہ جائیکہ آپ اس سے یہ توقع کریں کہ وہ اپنا ایک پارلیمانی دفتر بھی چلائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ارکان قومی اسمبلی کا مطالبہ تھا کہ ان کی تنخواہ ا سی ملک کے کسی صوبے کے اراکین اسمبلی کے مطابق کر دی جائے۔ انہوں نے یہ بات راز میں رہنے دی کہ صوبوں میں ارکان اسمبلی کی تنخواہیں کیا ہیں، میں نے کہا بھی کہ آپ ہمار احق معلومات چھین رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ خود بھی کوئی تحقیق کر لیں، میرے منہ سے نکلا کہ اس ادھیڑ عمری میں ہمیں پڑھنے میں لگانا چاہتے ہیں۔
وزیر اطلاعات کی گفتگو سے ایک نیا نکتہ سامنے آیا کہ دو ہزار تیرہ کے الیکشن کے بعدحکومت سازی کا مرحلہ آیا تو ایک وسیع تر مک مکا کیا گیا۔ مسلم لیگ ن چاہتی تو خیبر پی کے اور بلوچستان مں ا پنی حکومت بنا سکتی تھی مگر ہم نے اپنا یہ حق استعمال نہیں کیا اور پشاور میں تحریک انصاف کی حکومت بننے دی ا ور یہ بھی طے کیا کہ اسے کبھی گرانے کی کوشش بھی نہیں کریں گے، اسی طرح بلوچستان میں قوم پرستوں کے ساتھ شرکت اقتدار کا فارمولہ تشکیل پایا۔ پرویز رشید کے بقول وزیراعظم کی کوشش ہے کہ ملک میں ترقی ہو، شاہراہیں بنیں، پاک چین اقتصادی کوریڈور کی تکمیل ہو، گوادر کی بندرگاہ پر پہلا جہاز لنگر انداز ہو چکا، اب بجلی کے منصوبوں پر دن رات کام جاری ہے، اگلے دو سال یا چار سال میں یہ مکمل ہو جائیں گے اور آج کی لوڈ شیڈنگ سے نجات مل جائے گی، ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ چار سال بعد کس کی حکومت ہو گی مگر ہم ملک اور اسکے عوام کے مفادات کو مقدم جانتے ہیں۔
خارجہ پالیسی کے میدان میں نئی مشکلات درپیش ہیں۔ امریکی کانگریس کے تیور بدلے بدلے سے ہیں، اس نے ہماری امداد کو مشروط کر دیا ہے مگر پرویز رشید نے توقع ظاہر کی کہ بہتر سفارت کاری سے ہم اس رکاوٹ پر قابو پا لیں گے بصورت دیگر اسلحے کی منڈیاں بڑی وسیع ہیں۔
وزیر اطلاعات کی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ حکومتی دورمیں جس قدر ترقی ہوئی اور آج جو زرمبادلہ کے ذخائر ہیں وہ ماضی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں۔ دو گھنٹے کے سوال جواب سیشن میں وزیر اطلاعات یہ نکتہ باور کرانے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ محفل کو چھوڑنے سے پہلے انہوں نے واضح کیا کہ انہیں اگلے بیس منٹوں میں ایک اور فنکشن کے لئے لبرٹی پہنچنا ہے، اس لئے یہ تہمت نہ لگا دینا کہ میدان چھوڑ کر بھا گ نکلا ہوں۔
میں دیکھتا ہی رہ گیا، خیال یہ تھا کہ دوبارہ سکول ٹیچری کی درخواست کر دوں مگر وہ.... یہ جا، وہ جا۔
یہ اجلاس تو لاہور ایڈیٹرز کلب کا تھا مگر اس کا رنگ ڈھنگ پریس کانفرنس والا تھا، اگر ایک ہی دفتر سے پانچ چھ آدمی صرف رونق بڑھانے کے لئے منگوائے جائیں گے تو پھر لاہور ایڈیٹرز کلب کے اجلاس کی تہمت تو ویسے ہی تھی۔