بھارت کیلئے مستحکم ہونیوالا امریکی ہاتھ اب ہمیں جھٹک دینا چاہیے

22 مئی 2016
بھارت کیلئے مستحکم ہونیوالا امریکی ہاتھ اب ہمیں جھٹک دینا چاہیے

پاکستان کی فوجی امداد کیلئے امریکی کانگرس کی نئی کڑی شرائط اور ہمارے حکمرانوں کی خوش فہمی

امریکی ایوان نمائندگان نے وائٹ ہائوس کے اعتراضات نظرانداز کرتے ہوئے آئندہ برس کے فوجی اخراجات کی پالیسی میں پاکستان کو فوجی امداد کی فراہمی پر عائد شرائط کو مزید سخت کردیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایوان نمائندگان نے نیشنل آتھرائزیشن ایکٹ کی منظوری دی ہے جس کے تحت پاکستان کیلئے 450 ملین ڈالر کی امداد کو روک دیا گیا ہے۔ امریکی سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی نے اس ماہ کے آغاز میں پاکستان کیلئے امریکی امداد کی فراہمی پر عائد شرائط سخت کرتے ہوئے طے کیا تھا کہ جب تک امریکی دفتر خارجہ اس امر کی تصدیق نہیں کرتا کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کیخلاف مناسب کارروائی کررہا ہے‘ اسے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میںساڑھے 45 کروڑ ڈالر ادا نہیں کئے جا سکتے۔ اب ایوان نمائندگان نے پاکستان کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کیخلاف کریک ڈائون کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور پاکستان کو ساڑھے 45 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائیوں کے ساتھ مشروط کر دی ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ ایوان نمائندگان نے متعلقہ بل میں تین ترامیم متفقہ طور پر منظور کی ہیں جن میں اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے سلسلہ میں امریکہ کیلئے کام کرنیوالے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو بین الاقوامی ہیرو قرار دیا گیا ہے اور پاکستان کی فوجی امداد کو اسکی جیل سے فوری رہائی کے ساتھ بھی مشروط کر دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے پاکستان کی امداد پر مزید پابندیوں کی دھمکیوں پر پاکستان کے سفارتی حلقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ اس حوالے سے پاکستان امریکہ تعلقات پہلے ہی پیچیدہ ہیں جبکہ ایف 16 طیاروں کی ڈیل کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہوچکے ہیں۔ اس سلسلہ میں دفتر خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ امریکہ سے بگڑے ہوئے تعلقات کو بچانے کیلئے پوری سفارتی کور متحرک ہے۔
پاکستان امریکہ تعلقات کی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ برادرانہ کے بجائے ہمیشہ تحکمانہ تعلقات رہے ہیں جو اپنے ملکی مفادات کے تحت پاکستان سے تعاون حاصل کرنے کے بعد طوطاچشمی کی ضرب المثل کو عملی قالب میں ڈھالتا رہا ہے۔ اس حوالے سے ہر امریکی حکومت کا پاکستان کے ساتھ ایک جیسا ہی وطیرہ رہا ہے اور ری پبلکنز یا ڈیموکریٹس میں سے کسی کو بھی پاکستان کے ساتھ دوستی کا حق ادا کرنے کا کریڈٹ نہیں دیا جا سکتا۔ امریکہ کے ساتھ ہمارے فدویانہ تعلقات کا آغاز لیاقت علی خان کے دور سے ہی ہوگیا تھا جب وہ سوویت یونین کے دورے کی دعوت ٹھکرا کر امریکہ چلے گئے تھے چنانچہ ہمارا شمار امریکی لابی میں ہوا تو ہماری سلامتی کے درپے بھارت نے اپنا ناطہ سوویت یونین کے ساتھ مستحکم کرلیا۔ بھارت کو تو یقیناً اپنی اس خارجہ پالیسی کا فائدہ ہوا ہوگا مگر امریکی لابی میں شامل ہو کر ہم نے اپنے مفادات کے رکھوالے اس طوطاچشم سے سوائے خسارے اور اپنے نقصان کے کچھ حاصل نہیں کیا۔ حد تو یہ ہے کہ 65ء کی جنگ میں بھی امریکی بحری بیڑہ اعلان کے باوجود ہماری مدد کو نہ آیا جبکہ 71ء کی جنگ میں بھارت نے مکتی باہنی کے ذریعے پاکستان کو دولخت کردیا اور ہم بحری بیڑے کی صورت میں امریکی امداد کی راہ ہی تکتے رہے۔ اس امریکی بے وفائی کے باوجود پاکستان نے سوویت یونین کیخلاف سرد جنگ میں امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا نتیجتاً ہماری کمک سے افغان مجاہدین نے سوویت یونین کو زچ کر دیا اور بالآخر دنیا کی اس دوسری سپرپاور کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ اسکے صلہ میں ہمیں امریکہ کی جانب سے کلاشنکوف کلچر اور لاکھوں افغان مہاجرین کے بوجھ کی صورت میں جو تحائف ملے وہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔
جب سوویت یونین کے حصے بخرے ہوئے تو امریکہ کی جانب سے ہمارے ساتھ بے نیازی کو بھانپ کر ہمارے ازلی مکار دشمن نے چالاکی سے اپنا سیاسی قبلہ تبدیل کرلیا اور وہ امریکی چھتری کے نیچے آگیا۔ چنانچہ امریکہ کے ساتھ وفاداری کا جو تھوڑا بہت صلہ ہمیں مل سکتا تھا‘ اسکے راستے بھی مسدود ہوگئے۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغان جنگ میں جھونکنے کیلئے ہمیں اپنا فرنٹ لائن اتحادی تو ضرور بنایا مگر ساتھ ہی ساتھ بھارت کے ساتھ بھی اپنی لائن سیدھی کرلی۔ پاکستان تو فرنٹ لائن اتحادی کا کردار نبھاتا انتہاء پسندوں اور دہشت گردوں کے نشانے پر آگیا مگر امریکہ نے اسکے باوجود ہم پر بداعتمادی کے طومار باندھنا شروع کردیئے۔ چنانچہ امریکی فرنٹ لائن اتحادی ہونے کا صلہ ہمیں جہاں امریکی ڈومور کے تقاضوں کی صورت میں ملا وہیں بھارت کو بھی ہماری سلامتی کیخلاف سازشوں کے جال پھیلانے کا موقع مل گیا۔ اور تو اور امریکی کٹھ پتلی حامد کرزئی کو بھی ہمیں آنکھیں دکھانے اور دھمکیاں دینے کا موقع ملتا رہا ہے جس کی سرزمین افغانستان کی سلامتی کی خاطر پاکستان نے بدترین خودکش حملوں‘ دہشت گردی کی دوسری وارداتوں حتیٰ کہ امریکی ڈرون حملوں کے ذریعے بھی اپنی سرزمین کا تورابورا بنوادیا اور ہماری معیشت کو پہنچنے والے سو ارب ڈالر کے علاوہ سکیورٹی فورسز کے ارکان سمیت 60 ہزار کے قریب بے گناہ پاکستانی شہریوں کی جانیں بھی امریکی مفادات کے تحفظ کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ پاکستان کی برباد معیشت کو سہارا دینے کیلئے بش جونیئر کے دور میں امریکی کانگرس نے پاکستان کیلئے سپورٹ فنڈ قائم کرنے کی منظوری دی تھی جس کے تحت پاکستان کیلئے تقریباً سات قسطوں پر مشتمل سات آٹھ ارب ڈالر کی امداد کا اجراء ہوا مگر پہلی قسط کو ہی ’’ڈومور‘‘ کے تقاضوں کے ساتھ مشروط کر دیا گیا جس سے امریکہ کیلئے پاکستان کے کردار پر شک کی گنجائش نکلی۔ اس سپورٹ فنڈ کے تحت پاکستان کی فوجی امداد کی اونٹ کے منہ میں زیرے کے مصداق منظور ہوئی جو بش جونیئر تو کجا‘ بظاہر پاکستان کے ہمدرد اوبامہ کے دور میں بھی کڑی شرائط والی جکڑبندیوں کا شکار رہی اور آج تک یہ امداد متعینہ قسط کے مطابق نہیں مل سکی۔ اسکے برعکس کابل پر امریکی عنایات کی بھرمار رہی جبکہ بھارت کو اپنا فطری اتحادی قرار دے کر امریکہ نے اسے دفاعی ایٹمی تعاون کے معاہدوں کے ذریعے خطے کا تھانیدار بنا دیا اور یہ جان کر بھی کہ بھارت شروع دن سے ہماری سلامتی کے درپے ہے جو ہم پر تین جنگیں بھی مسلط کر چکا ہے اور ہمیں دولخت بھی کرچکا ہے‘ اسکے آنگن میں ایٹمی جنگی ہتھیاروں کے ڈھیر لگا دیئے۔ اس پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا‘ بھارتی لب و لہجہ اختیار کرکے ہمیں اپنی سرزمین بھارتی سلامتی کیخلاف استعمال نہ ہونے دینے کی تلقین بھی کی جاتی رہی۔
آج ہمارے حکمران اس گمان میں ہیں کہ اوبامہ انتظامیہ پاکستان کی ہمدرد ہے جو امریکی کانگرس کی جانب سے ہم پر عائد کی جانیوالی پابندیوں پر ناراض ہے اس لئے اوبامہ انتظامیہ کی کوششوں سے بالآخر ہمیں مطلوبہ امریکی ایف 16طیارے بھی مل جائینگے اور ہماری روکی گئی فوجی امداد بھی بحال ہوجائیگی مگر کیا یہ حقیقت ہمارے حکمرانوں کی آنکھوں سے اوجھل ہوگئی ہے کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ ایٹمی دفاعی اور اقتصادی تعاون کے 40 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدے تو باراک اوبامہ نے ہی کئے ہیں۔ اسی طرح ہماری خودمختاری کو روندتے ہوئے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کیخلاف امریکی اپریشن بھی اوبامہ انتظامیہ کی جانب سے ہی کیا گیا جس کے بعد پاکستان سے ڈومور کے تقاضے بھی بڑھا دیئے گئے جو ہنوز جاری ہیں۔ چنانچہ آج امریکی کانگرس ہماری فوجی امداد کو ہمارے قومی غدار شکیل آفریدی کی رہائی اور حقانی نیٹ ورک کیخلاف ٹھوس کارروائی سے مشروط کررہی ہے تو اوبامہ انتظامیہ سے یہ کیسے توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ امریکی کانگرس کے اس فیصلہ کو ہمارے حق میں تبدیل کرالے گی۔ اگر ہمارے حکمران اسی خوش فہمی کی بنیاد پر امریکہ کے ساتھ تعلقات کی ڈوری سے بندھے رہنا چاہتے ہیں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے امریکہ کا اعتماد بحال کرانے کیلئے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز اور معاون خصوصی طارق فاطمی کو سفارتی محاذ متحرک کرنے پر مامور کر دیا ہے تو یہ خوش فہمی ہمیں اس سراب میں ہی الجھائے رکھے گی جس کے ذریعہ ہمیں امریکہ کی جانب سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آتا دکھایا جاتا رہے گا اور درحقیقت یہ سراب ہمیں امریکی غلامی کے دلدل میں پھنسا جائیگا۔ اس تناظر میں ہمارے ملکی مفادات اور قومی غیرت کا یہی تقاضا ہے کہ طوطاچشم امریکہ کی اصلیت پہچان کر ازسرنو قومی خارجہ پالیسی مرتب کی جائے اور اپنا وزن اعلانیہ چین اور روس کے پلڑے میں ڈال دیا جائے جن کے ساتھ علاقائی ہی نہیں‘ ہماری اپنی سلامتی اور اقتصادی ترقی سے متعلق مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ حقیر امریکی اسلحہ اور اونٹ کے منہ میں زیرہ والے فنڈز کے عوض ہماری سلامتی اور قومی مفادات دائو پر لگتے ہیں تو ہمیں بہترین ملکی اور قومی مفاد میں امریکہ کا بظاہر دوستی والا ہاتھ جھٹک دینا چاہیے کیونکہ یہ ہاتھ ہمارے دشمن بھارت کیلئے زیادہ مستحکم ہوتا نظر آرہا ہے۔

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...