پاکستان کی ایٹمی صلاحیتوں کے اعتراف کی ضرورت

22 مئی 2016

پاکستان نے گزشتہ روز نیو کلیئر سپلائر گروپ کی رکنیت کیلئے باضابطہ درخواست دیدی، ویانا میں پاکستان کے سفیر نے نیوکلیئر سپلائر گروپ کے چیئرمین کے نام اپنے خط میں باور کرایا ہے کہ پاکستان ایک مسلمہ ایٹمی قوت ہے اسکی طرف سے 48 رکنی کلب میں شمولیت کی باضابطہ درخواست کا فیصلہ تباہ کن ہتھیاروں کے پھیلائو کی روک تھام کیلئے گروپ کی عالمی کوششوں میں اسکی مضبوط اور مکمل حمایت کا غماز ہے۔ پاکستان کے پاس ایٹمی مواد، مصنوعات اور سروسز کے پرامن استعمال اور فراہمی کیلئے افرادی قوت او ر مہارت کے ساتھ ساتھ ضروری انفراسٹرکچر موجود ہے اور نیوکلیئر سیفٹی اور سکیورٹی کو خصوصی اہمیت دینے کے باعث اس نے اپنے ہاں عالمی معیار کے قانونی ریگولیٹری اور انتظامی اقدامات بھی کر رکھے ہیں 48 رکنی نیوکلیئر سپلائر گروپ کا اجلاس آئندہ ماہ جون میں ہو گا اس کلب کی رکنیت کیلئے بھارت نے بھی درخواست دے رکھی ہے جبکہ پاکستان کو اس ضمن میں چین کی حمایت حاصل ہے اور چین بھارت کے ساتھ پاکستان کو بھی نیوکلیئر سپلائر گروپ کی رکنیت دینے کی شرط لگا چکا ہے۔ گروپ کی رکنیت کیلئے کسی قسم کے امتیازی سلوک کا مظاہرہ کرنے کے بجائے استحقاق رکھنے والے ملکوں کو بلا امتیاز رکنیت دی جانی چاہئے۔ وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی کو منجمد کرنے کی سازشوں کے بجائے اسکی ایٹمی صلاحیتوں کو کھلے دل سے تسلیم کیا جائے جس کیلئے اسے گروپ کی رکنیت دینا ضروری ہے۔