بھارت مذاکرات کیلئے کشمیر پر اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی ترک کرے

22 مئی 2016

بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان سے جنگ کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے دنیا کو باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ امریکہ کی طرح دہشت گردوں کا پیچھا کرنے پر قادر ہونے کے باوجود بھارت مذاکرات سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے۔ بھارت نے مذاکرات کے حوالے سے ماضی میں کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور نہ اپنے طرز عمل سے مذاکرات کی راہ ہموار ہونے دی۔ مذاکرات کے نام پر ہمیشہ وقت ضائع کیا اور مسائل کو معرض التواء میں ڈال کر انہیں مزید الجھایا ہے۔ اس تناظر میں بھارتی وزیر خارجہ کا حالیہ بیان دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا نیا بھارتی حربہ ہو سکتا ہے۔ تحریک آزادی کشمیر اور حریت کانفرنس کے بزرگ رہنما سید علی گیلانی کے بقول بھارت آج بھی کشمیریوں کو بے دخل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ سرینگر کے انجینئرنگ اور میڈیکل اداروں میںبھارت کے دوسرے علاقوں کے طالب علموں کو داخلے دیکر کشمیری نوجوانوں پر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے دروازے بند کررہا ہے۔ بھارت کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کرنے کیلئے بھی تیار نہیں اور پاکستان کے چیف جسٹس کے بقول ان قرار دادوں پر عمل نہ ہونا مذاق سے کم نہیں۔ بھارت مذاکرات میں اگر واقعی مخلص اور سنجیدہ ہے تو کشمیر پر اپنی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی ترک کر دے کہ اس کے بعد ہی ہونے والے مذاکرات ہی نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں وگرنہ ماضی کی طرح وقت کے ضیاع کے سوا اور کچھ حاصل نہ ہو گا۔