ہائیکورٹ کا12سال قبل کے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں اضافے کا حکم

22 مئی 2016

لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ خزانہ پنجاب کو بارہ برس قبل ریٹائر ہونیوالے سرکاری ملازمین کو بھی 40 فیصد اضافے کے ساتھ پنشن کی ادائیگی کا حکم دیدیا۔
ساری زندگی سرکار کی خدمت کرتے گزارنے کے بعد بوڑھے ریٹائر ملازمین کو اتنی قلیل پنشن ملتی ہے کہ اس سے انکی ادویات بھی پوری نہیں ہوتیں۔ بڑھاپا بذات خود ایک آزمائش ہے مگر ان لوگوں کا بڑھاپا زیادہ تکلیف دہ ہے جن کی حکومت کی طرف سے ملنے والی پنشن پرہی گزر بسر ہے۔ نجی اداروں کے ریٹائرڈ بزرگوں کی صحت، رہائش اور کفالت کیلئے حکومت نے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ سکیم شروع کی تھی لیکن گزشتہ دور حکومت میں سیاستدانوں نے اس پر بھی ہاتھ صاف کر لئے۔ مہنگائی کے اس دور میں کم از کم 10 سے 12 ہزار پنشن ہو تو ایک بوڑھے میاں بیوی کا مشکل سے گزارہ ہوتا ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کیمطابق بزرگوں کیلئے بدترین ممالک میں سے پاکستان کا تیسرا نمبر ہے۔ جبکہ بزرگوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ ہائیکورٹ نے 12 سال قبل ریٹائر ہونیوالے ملازمین کو 40 فیصد اضافی پنشن دینے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا حکومت اس حکم پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ آنیوالے بجٹ میں ای او بی آئی کے پنشنروں کا بھی خیال رکھے اور مہنگائی کے تناسب سے انکی پنشن میںبھی معقول اضافہ کیا جائے۔