اتوار ‘14 ؍ شعبان المعظم 1437ھ‘ 22 ؍ مئی‘ 2016ء

22 مئی 2016

ارکان اسمبلی اور سینٹرز کی تنخواہیں بڑھانا کوئی گناہ نہیں، پرویز رشید
اگر گناہ ہے تو صرف اور صرف سرکاری ملازمین، محنت کشوں اور مزدوروں کی تنخواہیں بڑھانا ہے۔ جن میں اگر اضافہ ہوتا بھی ہے تو اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہوتا ہے۔ یہ بے چارے غربت و افلاس کے مارے پہلے ہی تھوڑی سی تنخواہ میں بمشکل گزر بسر کرتے ہیں۔ ان کو چھوڑ کر ’’جدی پشتی‘‘ رئیس زادوں کی آہ و فریاد پر ان کی تنخواہیں بڑھانا واقعی گناہ نہیں بلکہ گناہ کبیرہ ہے۔ذرا ہمارے سفید پوش وزیر اطلاعات کی سادہ مزاجی اور درویش صفتی دیکھئے کتنی معصومیت اور بھولے پن سے تنخواہوں میں اضافے کو گناہ ثواب کے چکر میں لپیٹ رہے ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہوں گے کہ اس وقت جو ارکان اسمبلی انہیں مظلوم نظر آ رہے ہیں ان میں سے کوئی بھی کروڑ پتی سے کم نہیں۔ ورنہ ’’کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگوا تیلی‘‘ کون لڑے الیکشن اور کون بنے رکن اسمبلی اور پھر یہ سب تو خدمت عوام کا دعویٰ کر کے اسمبلی میں آتے ہیں خادم عوام کہلاتے ہیں تو تنخواہ کس بات کی۔ اگر یہ انکے بس کا روگ نہیں اور تنخواہ کے بنا انکے گھر کا چولہا نہیں جل سکتا۔ بیوی بچے بھوکے سوتے ہیں تو بھاڑ میں جائے ایسی اسمبلی کی رکنیت یہ استعفے دیکر کوئی دوسرا کام کرلیں تاکہ گھر کا خرچہ کو نکلے۔ ظاہر ہے ایسا کچھ بھی نہیں یہ سب کھاتے پیتے لوگ ہیں بس ذرا ہر طرف سے مال سمیٹنے کا چسکا ہے کہ چین نہیں لینے دیتا۔ کیا اچھا ہوتا اگر یہ سب تنخواہ لینے سے ہی انکار کرتے اور اپنی تنخواہیں و دیگر مراعات سکولوں، ہسپتالوں اور یتیم خانوں کو دینے کا اعلان کرتے۔ یا اپنی بجائے غریب چھوٹے گریڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کا اعلان کرتے۔ ایسا صرف سوچا جا سکتا ہے۔ ہوتا نہیں ہے۔
…٭…٭…٭…٭…
بجلی کے منصوبے تو لگ رہے ہیں مگر ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن سسٹم پر کام نہیں ہو رہا، نیپرا
حکومتیں 2018ء میں ہزاروں میگا واٹ بجلی کی پیداوار میں اضافہ کی خوشخبری سنا سنا کر گرمی اور لوڈشیڈنگ کے مارے عوام کو چاہے خوشی سے ہی مار ڈالے۔ مگر 2018ء میں اگر بجلی کی پیداوار بڑھ بھی گئی تو اس کی ترسیل کیسے ہو گی ہماری ناقص بوسیدہ تاریں، پرانے بجلی گھر اور سالخوردہ ٹرانسفارمر اتنی بجلی کا لوڈ کیسے برداشت کریں گے۔ یہ تو بجلی کی پیداوار میں اضافہ اور مسلسل فراہمی کی خوشی سے خودبخود پھٹنے لگیں گے کسی معشوق کی آنکھوں کی طرح جو اپنے محبوب کا دیدار ہونے سے پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔
اب نیپرا نے درست رونا رویا ہے کہ حضور پہلے لائنوں، ٹرانسفارمروں اور بجلی گھروں کی حالت بہتر بنائیں۔ پھر بجلی کی پیداوار اور ترسیل میں اضافہ کریں۔ ورنہ 2018ء میں بھی اسی طرح آئے روز ٹرانسفارمر پھٹنے بجلی کی تاریں جلنے اور اوور لوڈنگ کے سبب بجلی گھروں کے دم توڑنے کے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔ اور لوگ اسی طرح بجلی بجلی کی دہائی دیتے نظر آئینگے۔ ہمارے موجودہ سسٹم کو بھی ہماری طرح کم مقدار میں وقفہ وقفہ سے بجلی فراہم کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ اب بھلا کیسے یکدم چھوٹ سکتی ہے۔ اس کے لئے قبل از وقت ہی تیاریاں کرنا پڑیں گی۔ ورنہ جو رونا آج ہے کل بھی رہے گا…
نیب کے گرفتار افسر کے گھر سے کروڑوں کے نوادرات بھی برآمد، غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کرواتا تھا
یہ تو کمال کی ذات شریف ہے۔ اتنے اہم عہدے پر فائز ہونے کی بدولت ان کے کارنامے بھی بے مثال سامنے آ رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کے سیکرٹری کی شکایت پر موصوف کو حراست میں لیا تو ان پر انسانی سمگلنگ کا الزام تھا۔ یہ پیر فرتوت اپنے فیض سے سینکڑوں غیر ملکی بھارتی و بنگالیوں کو پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جاری کروا کر مشرف بہ پاکستان کر چکا ہے۔ خدا جانے ان میں کتنے چور ہوں گے اور کتنے قطب۔ اس کے گھر نیب والے گئے تو وہاں سے کروڑوں روپے کی نقدی گلا پھاڑ پھاڑ کر اپنے ناجائز ہونے کا ثبوت دے رہی تھی سونا و دیگر جائیدادوں کی تفصیل علیحدہ ہے۔ مگر جوں جوں تفتیش کا دائرہ کار وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ انکے کارناموں کی فہرست بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ملزم کے گھر سے کروڑوں روپے کے نوادرات کی بھی برآمدگی ہوئی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ملزم کے ہاتھ بہت لمبے ہیں اور وہ انسانوں کے ساتھ ساتھ قیمتی تاریخی نوادرات بھی بیرون ملک سمگل کر کے خوب ڈالر کما رہا تھا۔ ذرا مزید ملزم کے شجرے کو کریدا گیا تو پتہ چلا کہ وہ تو قدیم وارداتیا ہے 1997ء میں بھی اس کے خلاف کار چوری کا مقدمہ درج ہوا تھا۔ اب معلوم نہیں ایسے ہسٹری شیٹر کو سرکاری ملازمت دی کیسے گئی۔ یہ چندے آفتاب چندے ماہتاب قسم کا لاجواب فراڈی کس طرح اتنی اہم پوسٹ تک پہنچ گیا چور سے ڈکیت پھر سمگلر تک کا یہ سفر کوئی تنہا اتنی آسانی سے طے نہیں کر سکتا ضرور اس کے سر پر بھی کسی ہمہ صفت گرو کا ہاتھ ہو گا اب اسے بھی بے نقاب ہونا چاہیے۔
…٭…٭…٭…٭…
جن نکالتے ہوئے جعلی پیر نے ڈنڈے مار مار کر خاتون کو مار ڈالا
یہ کیا بات ہوئی نکالنا جن کو ہے اور ڈنڈے مارے جا رہے ہیں انسان کو۔ یہ تو اس خاتون کے گھر والوں پر سیدھا سادہ قتل کا کیس ہونا چاہیے۔ جو اس ظلم و تشدد کو دیکھتے رہے اور اس مردود جعلی پیر کو روکا تک نہیں۔بیمار کی تو آہ سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ یہ کیسے سنگدل لوگ تھے جو اس بے چاری کے تڑپنے، رونے، چیخنے چلانے پر بھی ٹس سے مس نہیں ہوئے۔بذریعہ میڈیا اب پولیس کو اطلاع ہو چکی ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اب ذرا بنا کسی دبائو لالچ اور خوف کے اس جعلی پیر کی بھی خبر لے۔ اسے سرکاری مہمان خانے میں لے جا کر ’’آجا مورے بالما‘‘ کی زیارت کرائے اور اچھی طرح اس کی خاطر تواضح کرے۔ ہمارا کون سا تھانہ کلچر بدل گیا ہے کہ ایسے معزز ملزموں کو جی آیاں نوں کہہ کر صوفے پر بٹھائیں۔ اچھی طرح چھترول کے بعد جب اسے رات کو گرم ننگے فرش پر سونا پڑے گا تو اسے بھی پتہ چلے گا کہ صنف نازک کو بے دردی سے ڈنڈوں سے زد و کوب کرنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے۔ اس مکروہ شخص کو ایسی کڑی سزا ملنی چاہیے تاکہ دوسرے ڈبہ پیروں کو بھی پتہ چلے کہ اس گھنائونی حرکت کا انجام کیا ہوتا ہے…