نواز شریف، عمران خان اور پارلیمانی کمیٹی

22 مئی 2016

کالم لکھتے ہوئے معروف مصنف مولانا عبیداللہ سندھی کی ایک کہی ہوئی بات یاد آگئی وہ کہتے ہیں ’’غلام قوم کے معیار بھی عجیب ہوتے ہیں۔ شریف کو بے وقوف، مکار کو چالاک، قاتل کو بہادر اور مالدار کو بڑا آدمی سمجھتے ہیں‘‘ مولانا سندھی ویسے تو 1876ء میں ایک سکھ خاندان میں پیدا ہوئے اور لڑکپن میں ہی مشرف با اسلام ہوگئے مگر وہ ایسے مذہبی رہنما تھے جو علم، جدت پسندی اور رواداری کی مجسم تصویر ہی نہ تھے بلکہ انکی معاشرے میں موجود ان عناصر پر بھی گہری نظر تھی جو معاشرتی بگاڑ پیدا کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے۔ انکی کہی ہوئی باتوں کو آج بھی اگر ہم اپنے سیاستدانوں، عام لوگوں اور سوسائٹی میں پائی جانے والی برائیوں حتیٰ کہ مذہبی منافرت پر اپلائی کریں تو بہت سی بیماریوں سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔
اب آتے ہیں اصل ’’مسئلے‘‘ کی جانب جو ہمارے حکمرانوں کو ہمیشہ درپیش رہتا ہے۔ یا یوں کہیے کہ انہیں کسی کے آنے کا ہمیشہ سے کھٹکا لگا رہتا ہے۔ کھٹکا بھی کیوں نہ لگے ’’چور کی داڑھی میں تنکا‘‘ کے مترادف حکمران اگر اپنی صفوں میں خود صفائی کریں تو عوام بھی حکمرانوں کا ساتھ دیں ورنہ یہ ’’ڈر‘‘ تو ہمیشہ لگا ہی رہے گا!!! اب موجودہ حالات میں وزیر اعظم نوازشریف کو یہ کھٹکا لگا ہوا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ دوبارہ انکی حکومت کیخلاف محاذ کھڑا کر رہی ہے اور اس کیخلاف کوئی مہم چلائی جا رہی ہے جبکہ میری نظر میں ایسا قطعی نہیں ہے۔ نوازشریف کے ساتھ معاملات صرف یہ ہیں کہ موجودہ دور میں بین الاقوامی سطح پر اس وقت دو اہم ترین ایشوز سر اُٹھا رہے ہیں ایک یہ کہ پاک امریکا تعلقات اور دوسرا پاک چائنہ تعلقات اور میری نظر میں نوازشریف دونوں بڑی سپر پاورز کو ساتھ لے کر چلنے میں ہر سطح پر ناکام ہو چکے ہیں اور اس لیے میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ حکومت پر افواج پاکستان کا کوئی دبائو نہیں ہے۔ افواج پاکستان اپنے معاملات کو، اپنی ذمہ داریوں کو اور اپنے عزائم کو احسن طریقے سے آگے لے کر چل رہی ہے اور جہاں پر کہیں فوج اور حکومت کے درمیان کہیں تنائو نظر بھی آتا ہے تو وہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے نظر آتا ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ پنجاب حکومت یا وفاقی حکومت اس وقت آپریشن میں بظاہر فوج کا ساتھ دے رہی ہے لیکن ان کا دل ضرور بُرا ہو رہا ہوگا۔ اس حوالے سے میں کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل صادق علی کو ضرور کریڈٹ دوں گا کہ ان کا ویژن اور عزم کبھی نہیں بدلے گا، وہ نیک نیتی کیساتھ اس آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے میں سنجیدہ نظر آتے ہیں۔ اگر یہی نیک نیتی حکمرانوں میں ہوتی تو فوج کو کبھی مداخلت نہ کرنا پڑتی کور کمانڈر لاہور ہمیشہ کہتے ہیں کہ کوئی ملک دشمن نہیں بچے گا اور دہشت گردوں کیخلاف آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے جو آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، آپریشن کی کامیابی کا سہرا عوام کے سر بھی جاتا ہے۔اور رینجرز ملکی دفاع میں صف اول کا کردار ادا کر رہی ہے اور ہمارے جوان ملکی دفاع کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔ ہماری فوج کا یہی حوصلہ ہماری عوام کی امنگوں پر پورا اُترتا ہے اور رہی بات حکمرانوں کی تو اسے نہ چاہتے ہوئے بھی پاک فوج کا ساتھ دینا پڑ رہا ہے ۔ عمران خان 20سال کی جدوجہد کے بعد یہ سوچ رہے ہیں کہ ان کے پاس وقت کم رہ گیا ہے اور انہیں جلد از جلد اقتدار تک پہنچنا ہے تو اسکے نتیجے میں وہ خورشید شاہ کے بھی پیچھے جا بیٹھے ہیں۔ میں عمران خان سے محض دو سوال کرنا چاہتا ہوں… پہلا سوال یہ کہ میں 1996ء سے لے 2001ء تک انکے ساتھ رہا انہوں نے ہمیشہ یہ بات کہی کہ ہر اس شخص کے پاس اپنی آمدن سے زیادہ اخراجات ہوں اُس شخص کا احتساب ہونا چاہیے … اور دوسرا یہ کہ انہوں نے ہمیشہ یہ بات کہی کہ جو کلین مین ہوتا ہے اسکی ٹیم بھی ہمیشہ کلین ہوتی ہے۔ کیا وہ اپنی جماعت میں احتساب کر رہے ہیں ؟ اور کیا ان کی ٹیم ’’کلین‘‘ ہے۔ میرے صرف ان سے یہی دو سوال ہیں اگر وہ ان دو سوالوں سے قوم کو مطمئن کر دیں تو قوم اُن پر اعتبار بھی کریگی اور انکے ساتھ حقیقی معنوں میں ہمیشہ صدق دل سے ساتھ رہے گی۔ عوام ان کو واقعتا اپنا لیڈر مانتی ہے لیکن ابہامی کیفیت شاید عمران خان کو اگلے الیکشن سے دور کردے کہ عوام میں اتنا شعور آچکا ہے کہ وہ اصل نقل کی پہچان کر سکیں۔ اور عمران خان کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ یہ منجھے ہوئے سیاستدان بسا اوقات ان سے ہاتھ کر جاتے ہیں آپ پارلیمانی کمیٹی ہی مثال لے لیں۔
پارلیمانی کمیٹی کے 12افرا میں وہی لوگ شامل ہیں جو اکثر و بیشتر پارلیمنٹ کا حصہ رہے ہیں لہذا پانامہ لیکس خود ’’لیک‘‘ ہو گئی ہیں کیونکہ 15 ، 20دن بعد یہ کمیٹی کام کا آغاز کریگی اور پھر مہینے بعد یہ کمیٹی چیف جسٹس کو خط لکھے گی اور اس خط میں بھی ایک دو مہینے لگ جائینگے جس کے بعد عمران خان اس ’’تیز‘‘ پراسس سے اُکتا جائینگے اور یوٹرن لے لیں گے کہ ہم اس کمیٹی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں اور پھر بات وہیں کی وہیں آجائے گی اور کچھ برآمد نہیں ہوگا۔
میرے خیال میں اگر حکومت اور اپوزیشن کسی نتیجے پر پہنچنا چاہتے ہیں تو جس طرح الیکشن کمیشن کے حوالے سے 22ویں ترمیم کی گئی ہے اسی طرح 23ویں ترمیم بھی کر لیں جس میں پاکستان میں احتساب کا ایک نیا نظام وضع کریں جس سے حکومت کا کوئی تعلق نہ ہو۔ وہ ایک غیر جانبدار اور آزاد ادارہ قائم کردیں کہ انتخاب کے طریقہ کار پر متفق ہو جائیں اور وہ 23ویں ترمیم کر کے اسے فوری کام کرنے کا موقع فراہم کریں اور نیب کو ختم کر دیا جائے اور اسی ادارے کے زیر اہتمام نئے ادارے بنا دیے جائیں جو مختلف اوقات میں مختلف محکموں کی نگرانی کا کام کریں۔اور میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اس ادارے کے زیر اہتمام ہی ایسے ذیلی ادارے قائم کر دئیے جائیں جو گزشتہ حکومتوں کے مختلف ادوار کا جائزہ لیں تاکہ آنے والی حکومتوں میں کرپشن کے حوالے سے قدرے خوف محسوس ہو۔ اور یہ کام چھ ماہ یا سال کے اندر ہو جائے اور سزا یافتہ کرپٹ افراد کو اگلا الیکشن لڑنے کی اجازت نہ دی جائے ایسا کرنے پوری اسمبلی کا صفایا ہو سکتا ہے کیوں کہ اکا دکا کو چھوڑ کر اس حمام میں سب ننگے ہیں… میرے خیال میں اگر ایسا ہو جائے تو نیا الیکشن ہماری اگلی نسل لڑے گی جو موجودہ حکمرانوں سے بہتر ہی ہو گی جو کرپشن کرنے کیلئے بے شمار ترکیبوں سے واقف نہیں ہوگی !