طوفانِ گرد و باد!

22 مارچ 2012
پاکستان تین دن سے طوفانِ گردوباد کی زد میں ہے، گرد آلود ہواﺅں نے موسمِ خزاں اور موسمِ بہار کے درمیان ایک دیوارِ غبار کھڑی کر رکھی ہے، ہم سب منتظر ہیں کہ یہ دیوار گرے اور موسم کا حال کھلے۔
پارلیمانی روایات کے تحت سینٹ اور قومی اسمبلی کے اراکین کے مشترکہ اجلاس میں سینیٹر جناب رضا ربانی پاکستان اور امریکا کے کلاسیکی روابط ازسرِ نو ترتیب دینے کے لیے مرتبہ سفارشات پیش کر رہے تھے۔ ان سفارشات کے مطابق امریکا سے توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ وہ پاکستان میں اپنے نقوشِ قدم کا جائزہ لے گا اور پاکستانی سرزمین پر کسی بھی نوعیت کے گرم تعاقب یا بوٹس کے در آنے سے سے مکمل احتراز کیا جائے گا۔ سفارشات میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ غیر ملکی نجی سکیورٹی ٹھیکہ دار اداروں کی سرگرمیاں شفاف ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستانی قانون کے تابع رکھی جائیں۔پاکستان امریکا کے ساتھ شہری جوہری سمجھوتے کے لیے کوشش کرے، حکومت پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملے کے معاملے میں امریکا کی جانب سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کرے۔ نیز غیر ملکی افواج کی طرف سے پاکستانی اڈوں یا فضائی راستوں کا استعمال پارلیمانی منظوری کے بغیر نہیں کیا جا سکے گا۔ نیٹو رسد کے راستوں کی بحالی پر غور و فکر کا انحصار تمام قواعد و ضوابط اور شرائط پر مکمل نظرِ ثانی پر ہو گا۔ قومی سلامتی کے سلسلے میں کسی غیر ملکی حکومت کی جانب سے کسی نوع کے زبانی سمجھوتے کا حکومت، اس کی وزارتوں،محکموں اور تنظیموں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ملک میں غیر ملکی خفیہ اداروں کی موجودگی اور ان کی افرادی تعداد کا شفاف اور واضح تعین پہلے سے باقاعدہ طور پر منظور ہو جانا ضروری ہو گا۔ پاکستان میں درآمد کی جانے والی یا آگے روانہ کئے جانے والے تمام سازو سامان پر ٹیکس اور دوسرے محصولات عائد ہوں گے۔ پارلیمنٹ نے یہ بھی سفارش کی کہ پاکستان ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے منصوبے پر سرگرمی کی ساتھ آگے بڑھے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانی فضاﺅں پر چھایا دس سالہ گرد و غبار سفارشات کے سامنے آتے ہی ہوا ہو گیا کیونکہ ان سفارشات میںزبانی یقین دہانیوں کے عوض ملک گروی رکھ دینے کا دروازہ بند کر کے اس پر ایک بڑا سا تالہ بھی ڈال دیا گیا ہے، بظاہر یہ تمام نکات اپنے اندر کوئی نیا پن نہیں رکھتے مگر حقیقت یہ ہے کہ ان سفارشات کا ایک ایک لفظ صحیح معنوں میں سوچ اور سمجھ کر استعمال میں لایا گیا ہے۔یہ امریکاکے لیے بہت سی آسانیوں کے ساتھ دو مشکلات بھی پیدا کرتی نظر آ رہی ہیں۔اولاً یہ کہ جنابِ پرویز مشرف سے کی گئی زبانی یقین دہانیاں اب انہیں تحریری صورت میں لانا پڑیں گی اور ثانیاً انہیں پاکستان کی جانب سے امریکا کے ساتھ شہری جوہری سمجھوتے پر اتفاقِ رائے کی راہ ہموار کرنا پڑے گی۔یہ دونوں معاملات پاک امریکا روابط کے لیے ایک نئے تفہیمی دور کا نقطہ آغاز ثابت ہو سکیں گے جب کہ ایران اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن کا منصوبہ ایک لیور کے طور پر امریکا کی جگہ ایران کے ہاتھ آ جائے گا لہذا توقع کی جا سکتی ہے کہ اسرائیل بھی اس بدلی ہوئی صورتِ حال میں اپنے رویے میں کسی حد تک تبدیلی لانے پر مجبور ہو جائے گا۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ سفارشات مرتب ہونے میں کن کن مراحل سے گزری ہیںمگر اب جب کہ یہ ہمارے سامنے آ موجود ہوئی ہیں تو لگ رہا ہے کہ یہ سفارشات اپنے اندر ایک مکمل اتفاقِ رائے سموئے ہوئے ہیں۔کاش جنابِ پرویز مشرف عقلِ کل نہ ہوتے اور ہمیں اس اتفاقِ رائے تک پہنچنے میں دس برس نہ گنوانا پڑتے۔ ہم نہیں جانتے کہ جنابِ سید منور حسن ہاشمی ان سفارشات کے کس نکتے پر دھرنا دینا پسند فرمائیں گے کیونکہ ان سفارشات نے پاکستان میں ڈرون حملوں سے لے کر سرحدی علاقوں میں مداخلت تک کے تمام راستے بند کر دئیے ہیں۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ جنابِ عمران خان اس صورتِ حال میں کس طور سونامی کا سفر جاری رکھ سکیں گے البتہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے کسی ’سخن فہم نظر‘ کی توقع کم از کم ہمیں تو ہر گز نہیں تھی مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی صرف بابر اعوانوں پر مشتمل نہیں اس میں رضا ربانی جیسے لوگ ابھی تک شامل ہیں حالانکہ ایسے لوگوں کے راستے روکنے کے لیے ہر راستے پر کئی کئی ’کھوسے‘ گھات لگائے اور تھڑا ناپے بیٹھے ہیں۔ستم تو یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی پہل کرنے پر تیار نہیں حالانکہ شاعر بہت پہلے کہہ گئے ہیں
کیا تماشا ہے کہ ہم سے اک قدم اٹھتا نہیں
اور جتنے مرحلے باقی ہیں،آسانی کے ہیں
لوگ سو جائیں تو درودیوار باتیں کرنے لگتے ہیںابھی ہم یہ سب کچھ لکھ رہے تھے کہ درودیوار بول اٹھے کہ اب بھارت ہمارے لیے بارہ ہزار سے زائد اشیا فراہم کرنے کی سہولت سے ”فیض یاب“ ہوتا رہے گا جب کہ پاکستان بھارت کے لیے صرف ڈیڑھ ہزار کے قریب اشیا بھیجنے کی ”سعادت“ سے ”بہرہ ور“ ہو سکے گا، اسے کہتے ہیں تجارتی توازن اسے ہی کہتے ہیں تزویراتی حکمتِ عملی!!