بینکنگ سیکٹر سے لیے گئے حکومتی قرضے 933ارب روپے سے بھی تجاوز کر گئے

22 مارچ 2012
کراچی+لاہور (ثناءنیوز+لیڈی رپورٹر) بڑھتی ہوئی مہنگائی کو روکنے کے بجائے حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے بینکوں سے روزانہ ساڑھے3 ارب روپے سے زائد کا قرض لے رہی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق حکومت نے 2 سے 9مارچ کے عرصہ کے دوران بینکنگ سیکٹر سے مزید60 ارب روپے قرض حاصل کرلئے۔ اس دوران کمرشل بینکوں سے 69ارب روپے کے قرضے لئے گئے جبکہ مرکزی بینک کو 8 ارب کی ادائیگی کی گئی۔ اس طرح رواں مالی سال 2011-12ءکے دوران اب تک حکومت کی جانب سے مرکزی بینک سے حاصل کردہ قرضے 2 کھرب 24ارب جبکہ کمرشل بینکوں سے7 کھرب 9ارب رو پے رہے جبکہ بینکنگ سیکٹر سے لیے گئے مجموعی حکومتی قرضے 933ارب روپے سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔ سٹیٹ بنک کے مطابق حکومت نے 57 ارب روپے کے ٹی بلز نیلام کر دئیے۔ ٹی بلز 6 اور 12 ماہ کے دوران فروخت کئے گئے۔ نیلامی کے لئے 1244 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ سٹیٹ بنک کے مطابق 8 ماہ کے دوران 172 ارب 63 کروڑ روپے کے زرعی قرضے جاری کئے گئے۔ جولائی تا فروری زرعی ترقیاتی بنک نے 31 ارب 652 کروڑ روپے کے قرضے دئیے۔دریں اثنا خواتین نے سٹیٹ بنک کی طرف سے مہنگائی میںبارہ فیصد اضافے کے حوالے سے رپورٹ پر ”نوائے وقت“ سے گفتگو کے دوران شدید تنقید کرتے کہا حکمرانوں کی ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث عوام زندہ درگور ہوگئے۔گزشتہ روز نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے شادباغ کی فردوس اور عالیہ نے کہا کہ مہنگائی کے باعث لوگ خوکشیوں پر مجبور ہیں۔گڑھی شاہوکی ادیبہ، بسما اور سمن آباد کی بتول اور انعم نے کہا کہ حکمران عوام کو ناکردہ گناہوں کی سزا دینا بند کریں اور آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن کی بجائے خود اپنی عقل بھی استعمال کر لیں۔