بجلی کے نرخ بڑھانے سے مہنگائی بے قابو ہو جائے گی: اقتصادی ماہرین

22 مارچ 2012
لاہور (کامرس رپورٹر) اقتصادی ماہرین نے حکومت کی جانب سے بھاری قرضے حاصل کرنے اور بجلی 6.39 روپے یونٹ مہنگی کرنے پر حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے ناصرف مہنگائی بے قابو ہو جائے گی بلکہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی شرح میں جو پہلے ہی 40 فیصد سے زائد ہے مزید اضافہ ہو گا۔ انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک بنکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا کہ حکومت نے بڑے پیمانے پر ملکی اور بیرون قرضے لئے تاکہ ٹیکس چوری، بدعنوانی، ریاست اور ریاستی اداروں کے شاہانہ اخراجات اور بڑھتے ہوئے جاری حسابات کے خسارے کو پورا کیا جا سکے۔ اس کے معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے حکومت نے پھر نوٹ چھاپنا شروع کر دیئے ہیں جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔ دوسری جانب حکومت نے بنکوں سے بھی بڑے پیمانے پر قرضے لئے جن پر سود کی ادائیگی کی وجہ سے بجٹ خسارہ بڑھے گا اور حکومت کو مزید قرضے لینے پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق کئی ممالک میں غربت کی شرح کم ہوئی ہے۔ پاکستان میں غربت کی شرح کم ہونے کی بجائے 40 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ ڈاکٹر خواجہ امجد سعید نے کہا کہ حکومت گزشتہ 9 سال کے دوران گردشی قرضوں کا مسئلہ حل نہیں کر سکی اس کی بنیادی وجہ بجلی چوری، بیڈ گورننس اور امن و امان کے مسائل ہیں اگر ان کو حل کیا جائے تو گردشی قرضوں کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور حکومت کو چاہئے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرے اور اپنے اخراجات کم کرکے 20 فیصد تک لائے۔ ایسا نہ کیا گیا تو ملک میں مہنگائی کا طوفان آئے گا۔