مسئلہ کشمیر ایک طرف رکھ کر بھارت کےساتھ تعلقات بہتر نہیں بن سکتے: یاسین آزاد

22 مارچ 2012
لاہور (وقائع نگار خصوصی + نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ بار کے صدر یاسین آزاد نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو چاہئے کہ سوئس حکام کو خط لکھ دیں۔ موجودہ حالات میں تصادم کسی صورت ملکی مفاد میں نہیں۔ اصل مسئلہ صدر کا استثنیٰ ہے سپریم کورٹ اس آئینی مسئلے کی وضاحت کر دے جبکہ سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ صدر مملکت کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں استثنیٰ حاصل ہے۔ عدلیہ اور پارلیمنٹ سمیت تمام اداروں کو آئینی حدود میں رہنا چاہئے۔ علی احمد کرد نے کہا کہ ملک میں ایک تماشا لگا ہوا ہے، وکلاءتحریک کے نتیجے میں عدلیہ اور حکومت وجود میں آئی لیکن عوام کو کچھ نہیں ملا اور وہ مایوس ہیں۔ ان خیالات کا اظہار وکلاءرہنماﺅں نے گذشتہ روز بھارت روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ یاسین آزاد نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت کو مسائل مذاکرات کی میز پر حل کرنا ہونگے۔ مسئلہ کشمیر کو ایک طرف رکھ کر تعلقات بہتر نہیں بنائے جاسکتے۔ بھارت میں کشمیر پر پاکستانی مﺅقف کی وکالت کرینگے۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ پاکستان بھارت کو اپنے مسائل آمنے سامنے بیٹھ کر حل کرنے چاہئیں۔ اس موقع پر دیگر وکلاءنے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہترین تعلقات کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہونگے۔