ریلوے کی تشکیل نو کیلئے ہمسایہ ممالک کی حکمت عملی کی پیروی کی جائے:زرداری

22 مارچ 2012
اسلام آباد (سپیشل رپورٹ + نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) صدر آصف زرداری نے ریلوے کی تشکیل نو کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ نقل و حمل کے اس اہم ذریعہ کو تقویت دینے کیلئے ہمسایہ ممالک کی طرف سے اختیار کردہ کامیاب حکمت ہائے عملی کی پیروی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات بدھ کو ایوان صدر میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی جس کے دوران پاکستان ریلویز، اس کی ری سٹرکچرنگ اور اسے تقویت دینے کے منصوبے سے متعلق امور اور گل ٹرین پر ہونے والی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ترک ٹرانسپورٹ ماہرین کو اسلام آباد، تہران، استنبول، کنٹرینر ٹرین سروس (گل ٹرین) کے منصوبے میں نجی شعبے کو شامل کرنے کیلئے فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے تاکہ اسے نہ صرف پاکستان اور ترکی کے درمیان بلکہ یورپ تک منافع بخش کارگو سروس بنایا جا سکے۔ حاجی غلام بلور نے کہا انجنوں کی کمی پاکستان ریلوے کو درپیش اہم مسائل میں سے ایک ہے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ حکومت ریلوے کو مالی طور پر بیل آﺅٹ کرنے میں غور کر سکتی ہے تاکہ اس کو مستحکم ادارہ بنایا جا سکے۔ صدر نے کہا کہ پاکستان ریلوے کو تقویت دینا خطے کے اندر اور باہر رابطہ بڑھانے کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ ریلوے کو مالی مشکلات سے نکالنے کیلئے مختلف آپشنز پر غور کرے۔ اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری بھی اس موقع پر موجود تھے۔ دریں اثناء صدر نے کہا کہ پولیو کا ملک سے خاتمہ حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔ صدر نے کہا کہ انہوں نے صوبوں کے وزرائے اعلی کو خط لکھے ہیں کہ وہ اپنے صوبوں میں پولیو کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات کریں۔ یہ بات صدر نے گزشتہ روز دوسری بین الاقوامی پولیو کمیٹی کے سربراہ ربراٹ سکاٹ سے ملاقات کرتے ہوئے کی۔ حکومت پولیو کے خلاف مہم میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کرے گی۔ صدر نے کہا فاٹا کے علاقوں میں ہمیں سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے کچھ مسائل کا سامنا ہے۔ شورش زدہ علاقوں میں پاک فوج بھی حکومت کی معاونت کر رہی ہے۔ صمصام بخاری نے صدر زرداری سے ملاقات کی۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔