پنجاب حکومت اپنے وسائل سے پاور پراجیکٹس تعمیر کرکے عوام کو بجلی فراہم کرے

22 مارچ 2012
لاہور (رپورٹ: سیف اللہ سپرا) پرویز مشرف کی طرف سے کشمیریوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے سے بھارت کو پاکستانی دریا¶ں پر غیرقانونی ڈیم تعمیر کرنے کا موقع ملا۔ بھارت آبی جارحیت سے باز نہ آیا تو آئندہ پاکستان بھارت جنگ پانی کے مسئلہ پر ہو گی۔ پاکستان کو اپنے پانیوں پر سے قبضہ چھڑانے کیلئے طاقت کے استعمال کا آپشن کھلا رکھنا چاہئے۔ دریا¶ں کا رُخ موڑنا اور پانی بند کرنا دنیا کے کسی قانون میں جائز نہیں ہے۔ حکمران اقتدار کے لالچ میں خاموش نہ رہیں۔ بھارت واٹر بم کے ذریعہ پاکستان کو بغیر جنگ لڑے فتح کرنا چاہتا ہے۔ انڈیا کو ڈیموں کی تعمیر کیلئے امریکہ‘ اسرائیل اور ورلڈ بنک سبھی وسائل فراہم کر رہے ہیں۔ پنجاب حکومت اپنے وسائل سے پاور پراجیکٹس تعمیر کرکے عوام کو بجلی فراہم کرے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر زراعت و آبپاشی ملک احمد علی اولکھ‘ چیئرمین سندھ طاس واٹر کونسل حافظ ظہور الحسن ڈاہر‘ پاکستان واٹر موومنٹ کے کنوینئر حافظ سیف اللہ منصور اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ کے شعبہ ہائیڈرالک اینڈ اریگیشن کے پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے ادارہ نوائے وقت‘ دی نیشن اور وقت نیوز کے زیراہتمام حمید نظامی ہال میں ”بھارتی آبی دہشت گردی“ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نظامت کے فرائض سیف اللہ سپرا نے سرانجام دیئے۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات سندھ طاس واٹر کونسل کے سیکرٹری اطلاعات مہر طارق ڈاہر بھی موجود تھے۔ احمد علی اولکھ نے کہا کہ کالا باغ ڈیم پر کافی کام ہو چکا ہے۔ اسے جلد تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ پرویز مشرف نے لال مسجد آپریشن جیسے ناپسندیدہ فیصلے اور کشمیر کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی قرار دیا لیکن اپنے دور حکومت میں کالا باغ ڈیم‘ جس سے پوری قوم کا فائدہ ہو سکتا تھا اسے تعمیر نہیں کیا گیا باقی ڈیم بھی تعمیر ہونے چاہئیں لیکن یہ واحد منصوبہ ہے جسے فوری طور پر شروع کیا جا سکتا ہے پانی سٹوریج نہ ہونے سے پورے ملک کی زراعت اور انڈسٹری تباہ ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے اسے شروع دن سے روکا جاتا تو آج پاکستان کی معیشت یوں خطرات سے دوچار نہ ہوتی۔ عالمی قوانین کے مطابق دریا¶ں کے پانی کو نہیں روکا جا سکتا۔ حافظ ظہور الحسن ڈاہر نے کہا کہ بھارتی آبی دہشت گردی کو نہ روکا گیا تو پھر آئندہ پاکستان بھارت جنگ پانی کے مسئلہ پر ہو گی۔ بھارت واٹر بم اور قحط بم کا پلان مکمل کرنے کے قریب ہے۔ یہ اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ منظم منصوبہ بندی کے تحت بھارت کو ڈیم بنانے کی شہہ دی جا رہی ہے۔ جس طرح روس کو شکست اقتصادی جنگ سے ہوئی بھارت اسرائیل کے تعاون سے ناجائز ڈیم تعمیر کر کے بغیر جنگ لڑے پاکستان کو فتح کرنا چاہتا ہے۔ انڈیا نے پاکستانی حکومت اور عالمی برادری کی توجہ ان ڈیموں سے ہٹانے کیلئے بھرپور تحریک شروع کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت چناب‘ جہلم سندھ پر 62 ڈیم مکمل کر چکا ہے۔ 190 ڈیم مزید بنانے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ انڈیا نے جس طرح پانیوں پر قبضہ شروع کر رکھا ہے اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ وہ پاکستان کو ناکام ریاست بنانا چاہتے ہیں ملک بچانا ہے تو قوم ایک ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری‘ وزیراعظم اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس توجہ فرمائیں۔ بھارت سے دریا¶ں کا قبضہ چھڑایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران محض اقتدار کی خاطر بھارتی آبی دہشت گردی پر خاموش نہ رہیں۔ حافظ سیف اللہ منصور نے کہا کہ بے بسی کی قراردادیں پاس کرنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ بھارت نے پاکستانی دریا¶ں پر 62 ڈیم مکمل کر لئے۔ 190 ڈیم مزید بنائے جا رہے ہیں۔ اس کی آبی دہشت گردی کو بزور بازو روکنا ہو گا۔ پرویز مشرف نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی کمر میں خنجر گھونپا‘ تحریک کمزور ہوئی اور بھارت کو ہمارے پانیوں پر قبضہ کر کے ڈیم تعمیر کرنے کا موقع مل گیا۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ پانی کا مسئلہ کشمیر سے وابستہ ہے۔ یہ دونوں مسئلے ایک ساتھ حل ہوں گے۔ اسلام دشمن قوتیں اور عالمی ادارے بھارت کو ڈیموں کی تعمیر کیلئے اور پاکستان کو بنجر بنانے کیلئے سرمایہ اور وسائل فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت علی شاہ سالوں اسی سیٹ پر بیٹھ کر بھارت کی وکالت کرتا رہا اور قوم سے جھوٹ بولا گیا۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ غداروں کی ایک بیلٹ یہاں موجود ہے۔ ان کا بھی کچھ سوچنا ہو گا اور ان کے خلاف تحریک کھڑی کرنا ہو گی۔ پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ پاکستان اس وقت توانائی کے شدید بحران سے دوچار ہے۔ گھنٹوں کے حساب سے بجلی کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ یہ سب سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ کالا باغ ڈیم کا نہ بننا قوم سے بہت بڑی زیادتی ہے۔ اگر یہ ڈیم تعمیر کر لیا جاتا تو سندھ اور بلوچستان میں آنے والے سیلاب کو بہت حد تک کم کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ سمیت تمام ڈیم فی الفور تعمیر کئے جائیں۔ پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے مزید کہاکہ 18ویں ترمیم کے بعد بہت سے معاملات صوبوں کو سونپ دئیے گئے۔ اب یہ صوبوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاور جنریشن کو پہلی ترجیح پر لے آئیں۔ پنجاب میں پہلے ہی نہروں پر پاور جنریشن کے پروجیکٹ فزیبلٹی مکمل ہو چکی ہے اور تمام پروجیکٹس پر پنجاب حکومت اپنے وسائل سے کام شروع کر سکتی ہے اور مقامی سطح پر بجلی پیدا کرکے پنجاب کے عوام کو ریلیف دیا جا سکتا ہے لہٰذا پنجاب حکومت ان پروجیکٹس پر فوری عمل شروع کرے۔