سندھ اسمبلی: انتخابی فہرستوں کی درستگی میں ایک ماہ توسیع کی قرارداد منظور

22 مارچ 2012
کراچی( وقائع نگار) سندھ اسمبلی نے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی درستگی اور ان میں ووٹوں کے اندراج کی مقررہ تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کی جائے۔ یہ مطالبہ ایک قرارداد کے ذریعہ کیا گیا جو اسمبلی بدھ کو اتفاق رائے سے منظور کر لی۔ قرارداد پیپلز پارٹی کی خاتون رکن اسمبلی حمیرا علوانی نے پیش کی۔ حمیرا علوانی نے اپنی قرارداد کی تائید میں کہا کہ انتخابی فہرستوں میں بڑے پیمانے پر غلطیاں ہیں۔ سندھ کے ایک لاکھ سے زائد ووٹ بلوچستان میں درج کر دیئے گئے ہیں۔ ایک ہی شخص کے 15 ہزار انگوٹھے کے نشان موجود ہیں۔ ان لوگوں کو گرفتار کر کے پوچھا جائے کہ یہ اصل سازش کس نے کی ہے۔ سندھ کے وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن مکیش کمار چاﺅلہ نے اعتراف کیا کہ اس وقت بھی محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں 3 افسران ڈیپوٹیشن پر کام کر رہے ہیں۔ شراب کے پرمٹ سے متعلق ایک سوال پر جب ارکان نے ضمنی سوالات کئے تو ایوان میں بڑے دلچسپ مقالمے ہوئے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ شراب کا پرمٹ صرف غیر مسلم پاکستانی شہریوں کو دیا جاتا ہے اس پر پیپلز پارٹی کے اقلیتی رکن سلیم خورشید کھوکھر نے کہا کہ یہ مذہب کی تفریق نہیں ہونی چاہئے۔ جیسے پیپسی اور کوکا کولا دکانوں پر موجود ہوتی ہے، اسی طرح شراب بھی دکانوں پر رکھ دی جائے، جس کو پینی ہے وہ پیئے اور جس کو نہیں پینی وہ نہ پیئے۔ وزیر ایکسائز نے ان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو آپ شروعات اپنے گھر سے کریں۔ سلیم خورشید کھوکھر نے اس پر سخت احتجاج کیا اور کہا کہ میرے پاس کوئی وائن شاپ نہیں ہے۔ صوبائی وزیر ذاتیات پر اتر آئے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت کا کام لائسنس دینا ہے، شراب بیچنا نہیں۔