یہودی سکول پر حملے کا ملزم کئی بار پاکستان اور افغانستان گیا: فرانسیسی وزیر داخلہ

22 مارچ 2012
پیرس (نوائے وقت رپورٹ + نیوز ایجنسیاں) یہودی سکول پر حملے کے مبینہ ملزم کی گرفتاری کیلئے فرانس کے توموز شہر میں پولیس نے ایک فلیٹ کا کئی گھنٹوں سے گھیراﺅ کر رکھا ہے۔ وزیر داخلہ کلوڈ گیونیٹ نے سرکاری ٹی وی کے اس دعوے کی تردید کی کہ ملزم پکڑا گیا انہوں نے کہا ملزم مسلح ہے اور فائرنگ کے تبادلہ میں 2 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ مذاکرات جاری ہیں ملزم القاعدہ کا کارکن محمد امیرہ ہے اور وہ کئی بار پاکستان اور افغانستان جا چکا ہے۔ وہ فلسطینی بچوں کے قتل کا بدلہ اور افغانستان میں فرانسیسی فوجیوں سے انتقام لینا چاہتا تھا۔ استغاثہ کے مطابق وہ کئی اور لوگوں کو بھی قتل کرنا چاہتا تھا۔ اسے امریکی فوج نے افغانستان سے گرفتار کرکے فرانس بھیج دیا تھا۔ اس کے ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس نے اس کے بھائی اور کئی رشتہ داروں کو پکڑ لیا۔ ایک اور ذرائع کے مطابق ملزم حراست میں لے لیا گیا۔ فرانسیسی صدر سرکوزی نے کہا ملزم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتا تھا لیکن ناکام رہا۔ دہشت گردی کبھی فرانسیسی معاشرے میں دراڑ نہیں ڈال سکے گی۔ پیرس کی جامع مسجد کے امام جلیل بوبکر نے مطالبہ کیا فرانسیسی مسلمانوں پر الزام تراشی نہ کی جائے۔ اسلام پرامن مذہب ہے۔ ادھر مسلمانوں نے فرانس میں اپنے خلاف شدید ردعمل کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ دوسری طرف یورپی تجزیہ کاروں نے الزام عائد کیا پاکستان افغانستان کی سرحد بین الاقوامی دہشت گردی کی نرسری ہے۔