بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ میں کمی کیلئے اقدامات کریں، وزیراعظم کی وفاقی وزراءکو ہدایت

22 مارچ 2012
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے وفاقی وزیر پانی و بجلی اور وفافی وزیر پٹرولیم کو ہدایت کی ہے کہ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ میں کمی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ اس سلسلے میں ہونے والے اجلاس میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ، سیکرٹری خزانہ واجد رانا اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ دریں اثناءوزیراعظم گیلانی کی زیر صدارت کونسل کے اجلاس میں فوری انکم ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا۔ گلگت بلتستان کونسل کا تیسرا اجلاس وزیراعظم اور کونسل کے چیئرمین کی زیر صدارت ہوا جس میں وفاقی وزیر امور کشمیر گلگت بلتستان منظور وٹو‘ کونسل کے وائس چیئرمین اور گورنر گلگت بلتستان پیر کرم علی شاہ‘ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان مہدی شاہ‘ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چنگیز جمالی اور گلگت بلتستان کونسل کے ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس میں گزشتہ اجلاس کے دوران گلگت بلتستان میں انکم ٹیکس کے نفاذ کیلئے بنائی گئی خصوصی کمیٹی کی سفارشات کا جائزہ لیتے ہوئے خطہ میں فوری انکم ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان میں انکم ٹیکس کے نفاذ سے صوبہ میں سماجی ترقی ممکن ہو گی۔ وزیراعظم نے خطہ میں عوام کو گندم پر دی جانے والی سبسڈی پر اخراجات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے کر اسے جاری رکھنے ‘ دیامر بھاشا ڈیم کے متاثرین کو ان کی زمینوں کے معاوضوں کی جلد از جلد ادائیگی یقینی بنانے اور گلگت بلتستان کے عوام کی ترقی کیلئے خطہ کے وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے صوبائی حکومت اور کونسل سے کہا کہ وہ مل کر اپنی کوششوں سے خطہ میں تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے نئے باب کا آغاز کریں۔کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ کونسل کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کیلئے بنائی گئی خصوصی کمیٹی کو جو ذمہ داری دی گئی تھی اسے بخوبی پورا کیا ہے اور کمیٹی کی طرف سے تجویز کردہ بورڈز علاقے کی ترقی کیلئے اہم کردار ادا کریں گے۔ خطہ میں سیاحت‘ بجلی کی پیداوار‘ جنگلات اور معدنیات کو ترقی دے کر نہ صرف علاقہ بلکہ عوام کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ سیاحت‘ بجلی کی پیداوار ‘ جنگلات اور معدنیات جو کہ پہلے گلگت بلتستان کونسل کے دائرہ کار میں تھے تاہم اب عارضی طور پر گلگت بلتستان رولز آف بزنس 2009ءکے تحت عارضی طور پر ان کو گلگت بلتستان حکومت کے تحت کیا گیا ہے۔ میں اس موقع پر دیامر بھاشا ڈیم کا خاص طو رپر ذکر کرنا چاہوں گا جس سے ساڑھے چار ہزار میگا واٹ بجلی حاصل ہوسکے گی اور اس منصوبہ سے نہ صرف مستقبل میں آنے والے سیلابوں سے بچا جاسکے گا بلکہ ہزاروں افراد کو روزگار ملے گا اور خطے میں ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی۔