A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

مئی 2011ءمیں منصور اعجاز سے ٹیلیفونگ گفتگو ہوئی‘ متن پر اعتراض ہے : حسین حقانی‘ میمو کمشن میں تحریری جواب داخل

22 مارچ 2012
اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + نوائے وقت رپورٹ + نوائے وقت نیوز) میمو گیٹ کے مرکزی کردار حسین حقانی نے میمو کمشن میں اپنا تحریری جواب جمع کراتے ہوئے منصور اعجاز کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا ہے تاہم انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ مئی 2011ءمیں ان کی منصور اعجاز سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی تھی تاہم عدالت میں پیش کئے گئے اس کے متن پر اعتراض ہے۔ انہوں نے منصور اعجاز کو میمو سے متعلق کوئی نوٹس نہیں لکھوائے تھے جبکہ منصور اعجاز کی جانب سے آئی آر ایم کو لکھے گئے خط اور جواب کا بھی علم نہیں‘ منصور اعجاز کے فنانشل ٹائمز کو لکھے گئے آرٹیکل کا علم ہے جبکہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک 24 مارچ کو پاکستان آئیں گے اور اپنے دورے کے دوران میمو کمشن کے سامنے بھی پیش ہونگے۔ دوسری طرف حسین حقانی امریکی عدالت میں منصور اعجاز اور دیگر کےخلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کرینگے۔ اس حوالے سے انہوں نے سٹیون اور کینلے پر مشتمل وکلاءکی ٹیم مقرر کر دی ہے۔ دریں اثناءگذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں کمشن کو حسین حقانی کی طرف سے ان کے معاون وکیل ساجد تنولی نے 25 صفحات پر مشتمل جواب جمع کروایا کہ منصور اعجاز کا 80 صفحات پر مشتمل بیان درست نہیں ہے۔ کمشن کی جانب سے بیشتر مارک کئے گئے ای میلز میں سے اکثر کی حسین حقانی نے تردید کر دی۔ انہوں نے منصور اعجاز کی جانب سے جنرل جیمز جونز کو فون کرنے کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ البتہ منصور اعجاز کی جانب سے حقانی کو مائیک مولن سے ملاقات کے نقصان کے بارے میں مطلع کرنے کے فون کو انہوں نے تسلیم کیا۔ میمو گیٹ سکینڈل کی آئندہ سماعت 26 مارچ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوگی۔ حسین حقانی کو پیش ہونے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔ ادھر نوائے وقت نیوز کے مطابق امریکی لا بیسٹ ہارلین المین نے میمو کمشن کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ منصور اعجاز ایسا شخص ہے جو سچ بول ہی نہیں سکتا۔ میمو کمشن میں میرے بارے میں منصور کا بیان جھوٹ کا پلندہ ہے، جارحانہ بیان اور جھوٹ کے ذریعے بدنام کرنے کی کوشش ہے۔
حسین حقانی/ جواب داخل