میرا استعفی معمول کی بات نہیں‘ توہین عدالت کیس کورٹ کے باہر حل کے حق میں نہیں‘ سپریم کورٹ سے استثنی صدر ہی مانگ سکتے ہیں : وزیراعظم

22 مارچ 2012
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + نوائے وقت نیوز + اے پی اے) وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام ہے کوئی پریشان نہ ہو، الیکشن کرانے کا فیصلہ اتحادیوں کی مشاورت سے کرینگے۔ اسمبلی توڑنے اور انتخابات کی تاریخ کا اعلان اب صدر کا اختیار نہیں۔ فوڈ سکیورٹی ورکشاپ کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ کسی فکر کی ضرورت نہیں ہے، عدلیہ اور میڈیا آزاد اور ملک میں سیاسی استحکام ہے۔ نیٹو سپلائی نہ کسی کے کہنے پر بند کی نہ کسی کے کہنے پر کھولیں گے۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ کا فیصلہ حتمی ہو گا۔ کابینہ میں ردوبدل معمول کی بات ہے تاہم میرا استعفی معمول کی بات نہیں۔ فیصلوں کے لئے پارلیمنٹ موجود ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھ سے جب سوال کیا جاتا ہے تو میں 18 کروڑ عوام کا نمائندہ ہوں جواب دینا پڑتا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ صوبائی معاملہ ہے ہم اس میں مداخلت نہیں کر سکتے، انہیں پیشرفت کرنی چاہئے۔ صدر کے لئے عدالت عظمیف سے استثنیٰ مانگنا میرا نہیں صدر کا کام ہے۔ توہین عدالت کیس کے عدالت سے باہر حل کے حق میں نہیں۔ میرا استعفی معمول کی بات نہیں ہو گی۔ سسٹم چلانا چاہتے ہیں کابینہ میں ردوبدل کا امکان ہے۔ وزیراعظم سے سوال کیا گیا تھا کہ وہ صدر آصف علی زرداری کے لئے استثنیٰ مانگنے کب عدالت عظمیٰ جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے اسے صدر کا کام قرار دیا اور کہا کہ صدر نے خود عدالت سے استثنیٰ مانگنا ہے یہ وزیراعظم کا کام نہیں۔ صدر ہی استثنیٰ مانگنے جائینگے۔ اس معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کر سکتا، وزیراعظم نے کہا کہ میں عدلیہ اور پارلیمنٹ کا موازنہ نہیں کر رہا دونوں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں نے نہیں بنائی سپیکر قومی اسمبلی نے اسے قائم کیا، سفارشات خفیہ طریقے سے تیار کی گئیں۔ ان سفارشات پرکسی کو کوئی اعتراض ہو گا تو ایوان میں اسے اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ ہم بہت پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عام انتخابات سے قبل پارٹیوں کے انتخابات ہونے چاہئیں۔ ایک صحافی نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ آپ کہتے تھے چیف جسٹس آپ کے دوست ہیں، کیا وہ اب بھی آپ کے دوست ہیں؟ وزیراعظم نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی ایک دفعہ دوست ہو اور دوسری بار نہ ہو۔ ججز کی بحالی کی تحریک میں حصہ لینے والے آج دونوں انہی کی عدالت میں ہیں۔ دریں اثنا وزیراعظم گیلانی نے فوڈ سیکیورٹی کیلئے قومی سلامتی کونسل کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کیلئے خوراک کا تحفظ یقینی بنانے حکومت پرعزم ہے۔ خوراک کی پیداوار 25 ملین ٹن کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ وزارت فوڈ سکیورٹی کی جانب سے منعقدہ ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس سال گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی، ہم گندم برآمد کر رہے ہیں۔ چینی 6.3 ملین ٹن ہوئی جس کیلئے 5 ملین ٹن کی توقع کی جارہی تھی۔ کاٹن کی 14.2 ارب بیلز پیدا ہوئیں۔ حکومت نے آم جاپان کو برآمد کئے۔ برآمدی مارکیٹ میں بہتری آئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کمشن کی طرف سے مستند انتخابی فہرستوں کی تیاری میں نمایاں پیش رفت سے شفاف انتخابات کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ وہ بدھ کو سبکدوش ہونے والے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) حامد علی مرزا اور سیکرٹری الیکشن کمشن اشتیاق احمد خان سے گفتگو کرر ہے تھے۔ وزیراعظم نے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے سبکدوش ہونے والے چیف الیکشن کمشنر کی خدمات کو سراہا۔ سبکدوش ہونے والے سیکرٹری مذہبی امور شوکت حیات درانی نے وزیراعظم گیلانی سے الوداعی ملاقات کی۔ وزیراعظم نے ان کی خدمات کو سراہا۔ پشاور کے گورنر ہاﺅس میں عہدیداروں، کارکنوں سے ملاقات میں وزیراعظم نے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ عام آدمی کے حقوق کی بات کی ہے کارکن قیمتی اور عظیم سرمایہ ہیں۔
گیلانی