بھارت کو 1209 کے سوا تمام اشیاءپاکستان بھجوانے کی باضابطہ اجازت‘ ....دسمبر تک پسندیدہ ترین ملک قرار دے دینگے : حنا ربانی

22 مارچ 2012
اسلام آباد + واشنگٹن (نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ حکومت مسئلہ کشمیر کو نظرانداز نہیں کر رہی، بھارت کے ساتھ تنازعات کے حل کیلئے راستہ تبدیل کیا ہے، سرکریک اور سیاچین جیسے مسائل حل ہو جائیں تو دونوں ملکوں اور عوام میں اعتماد بڑھے گا، بھارت کو رواں سال دسمبر تک پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دیدیا جائیگا، نیٹو سپلائی بحال کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا، پارلیمنٹ قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات کو منظور یا رد کر سکتی ہے، امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک کو خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے، امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات سے زیادہ افغانستان کے اندر بات چیت اہم ہے، پاکستان سے بین الاقوامی برادری کو حقیقت پسندانہ توقعات رکھنی چاہئیں، پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر کوئی دباو¿ قبول نہیں کرینگے نہ قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ کیا جائیگا، خارجہ پالیسی فوج کے زیر اثر ہونے کا تاثر درست نہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے دفتر خارجہ پر کوئی دباو¿ نہیں ہے۔ حکومت نے ڈرون حملے رکوانے کیلئے بھرپور کوشش کی ہے اور یہ معاملہ ہر فورم پر اٹھایا ہے، ڈرون حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، ہماری خودمختاری کیخلاف اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں نقصان دہ ہیں، اگر پارلیمنٹ کے فیصلے کے باوجود یہ حملے جاری رہتے ہیں تو پھر بھی فیصلہ پارلیمنٹ کریگی۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان نے سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو افواج کے حملے پر معافی کے لئے امریکہ سے باضابطہ طور پر نہیں کہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی 180 ممالک کو پسندیدہ کا درجہ دے چکا ہے، بھارت سے تجارتی تعلقات بتدریج بہتر ہو رہے ہیں۔ پاکستان بھارت کرکٹ بحالی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ چیئرمین پی سی بی کرکٹ کی بحالی کے لئے بھارت سے رابطے میں ہیں۔ پی سی بی چیئرمین کو ویسا بھارتی ردعمل نہیں مل رہا جیسا وہ چاہتے ہیں۔ حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ کی سطح پر پاکستان بھارت کرکٹ بحالی کی کوشش کر رہے ہیں۔ دریں اثناءامریکی ٹی وی چینل ایم ایس این بی سی کو انٹرویو میں حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ امریکہ کو م¶ثر تعلقات کے لئے پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کے ہاتھوں 27 امریکی فوجی ہلاک ہوتے تو امریکہ میں پاکستان مخالف جذبات کی سطح بہت زیادہ ہوتی۔
حنا کھر