پاکستانی اپنے پاﺅں پر کھڑے ہوں ہماری طرف نہ دیکھیں : کیمرون منٹر پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ کیلئے بدستور خطرہ ہے : جنرل ایلن

22 مارچ 2012
پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ کیلئے بدستور خطرہ ہے : جنرل ایلن‘ ڈرون حملے ہماری سلامتی کیلئے انتہائی اہم ہیں : امریکی سینٹرز‘ پاکستانی اپنے پاﺅں پر کھڑے ہوں ہماری طرف نہ دیکھیں : کیمرون منٹر
واشنگٹن (آئی این پی + بی بی سی + نوائے وقت رپورٹ) افغانستان میں امریکہ و اتحادی فوج کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے بدستور خطرہ ہے۔ افغانستان میں تعینات امریکی فوج میں کمی نہ کی جائے۔ امریکی کانگرس کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں سماعت کے موقع پر بیان میں جنرل ایلن نے کہا کہ سرحد پارشدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا معاملہ حل ہونے تک پاک افغان سرحد پر زیادہ سے زیادہ تعداد میں افغان سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ان محفوظ پناہ گاہوں میں جغرافیائی اعتبار سے طالبان کے مختلف گروپ قیام پذیر ہیں۔ جنوب میں کوئٹہ شوریٰ، مشرق میں حقانی نیٹ ورک، تحریک طالبان پاکستان اور دیگر گروپ، پکتیکا میں کمانڈر نذیر گروپ اور شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک سرگرم ہے۔ اس موقع پر ایساف کمانڈر جیمز ملر نے کہا کہ افغانستان میں کامیابی کا انحصار پاکستان کے تعاون پر ہے تاہم پاکستان کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ بی بی سی کے مطابق جنرل ایلن نے کہا کہ وہ اس بات کی سفارش نہیں کریں گے کہ گرمیوں میں فوج کے جانے کے بعد افغانستان میں موجود باقی فوج میں اس سال کے آخر تک مزید کمی کی جائے۔ جنرل ایلن نے کہا وہ پر امید ہیں کہ آخری فتح امریکہ ہی کی ہو گی، تاہم افغانستان کے جنوب سے افواج کو منتقل کرنا قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تلخ واقعات کے باوجود افغان فورسز سے تعلقات مضبوط رہیں گے۔ ایلن نے کہا کہ افغانستان میں امریکی فوجی کے ہاتھوں قتل عام کی تحقیقات کے علاوہ ایک انتظامی تفتیش بھی کی جائے گی جس کا محور امریکی فوج کا یونٹ اور ہیڈ کوارٹر ہو گا۔ دریں اثنا امریکہ کی حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کے سینیٹرز جولیبرمین، لنڈسے گراہم، ڈیانے فینسٹین نے پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کی جانب سے ڈرون حملے روکنے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرون حملے امریکہ کی قومی سلامتی کیلئے انتہائی اہم ہیں، انہیں جاری رہنا چاہئے، پاکستان شمالی وزیرستان سے اہم دہشت گرد راہنماﺅں اور افغانستان میں اتحادی افواج پر حملوں کی قیادت کرنے والوں کا خاتمہ کرے ،پاکستان اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پر دہشت گردوں کو خوش آمدید نہیں کہا جائےگا ، دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک ڈرون حملے جاری رہنے چاہئیں۔ افغان ہم منصب زلمے رسول کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ہلیری کلنٹن نے کہا کہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے اب بھی دروازے کھلے ہیں۔ امریکہ افغانستان میں مسئلہ کے سیاسی حل کے لئے پرعزم ہے۔ دہشت گردی کے خلاف لڑنا پاکستان اور امریکہ کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ افغانستان سے سٹریٹجک معاہدے کیلئے امریکہ درست سمت میں ہے۔ امریکہ اور پاکستان کا دشمن مشترکہ ہے۔ امریکہ پاکستان سے تعمیری اور مفادات پر مبنی تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔ دونوں ملک مل کر مشکلات دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ترجمان پینٹاگون نے کہا ہے کہ پاکستان سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں پاکستان کے ساتھ تعلقات میں مشکلات ہیں۔ہیلری کلنٹن نے سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے حملے پر پاکستان کی جانب سے معافی مانگنے کے مطالبے پر چپ سادھ لی۔
پشاور(بیورو رپورٹ) پاکستان میں تعےنات امریکہ کے سفیرکیمرون منٹر نے کہاہے کہ سلالہ چیک پوسٹ پرحملہ ایک غلطی تھی جس کا ہمیں افسوس ہے تاہم ایسی غلطی دوبارہ نہیں دہرائی جائے گی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوںکو امریکہ قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے اور امریکہ کو اس کا احساس بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم قومی سلامتی کمےٹی کی سفارشات کا احترام کرتے ہیں اور اس کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاہم اس حوالہ سے پارلیمنٹ کے فیصلہ کا انتظار ہے۔ وہ خیبرپی کے چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری پشاورکے دورہ کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے۔کیمرون منٹر نے کہاکہ پاکستان کے ساتھ باہمی اشتراک کی بنیاد پر تعلقات رکھنا چاہتے ہیں اور ان تعلقات کو امرےکہ قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے تاہم پاکستانیوںکو امریکہ کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ اپنے پاﺅں پرکھڑا ہونے کی کوشش کرنی چاہئے جس کےلئے امریکہ پاکستان کی ہرممکن مدد کرے گا۔ پاکستان میں رہنمائی کی کمی ہے امریکہ کو مسائل کی نشاندہی کر نے کےلئے لیڈرز کی ضرورت ہے اور اسی بنا پر مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے، امریکہ تجارت کے شعبہ میں ضروری اقدامات اٹھائے گا۔ امریکہ افغانستان سے اپنی فورسزکو نکالنے کیلئے مثبت راستے تلاش کر رہا ہے، پاکستان امریکہ پر انحصار کرنے کی بجائے اپنے مسائل کا حل خود تلاش کرے، پاکستان امریکہ تعلقات کی بہتری کیلئے اقدامات کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی بات سننے کےلئے تیار ہے، پاکستان بھی بولنے کی ہمت پیدا کرے۔ کیمرون منٹر نے کہاکہ امریکہ پاکستان میں توانائی بحران کے خاتمہ کےلئے گومل زام ڈیم کی تعمیر ¾ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی ¾ مستقبل میں سیلاب کی روک تھام کیلئے اقدامات میں مدد فراہم کر رہا ہے، دہشت گردی مخالف جنگ میں پاکستان کے 30 ہزار شہری اور 3 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے خطہ کو تباہی سے بچایا امریکہ پاکستان کی ان قربانیوں کا اعتراف کرتا ہے۔