سپریم کورٹ،تین خواتین سےزیادتی اوراغواء کےتین محتلف مقدمات،پولیس کی ناقص کارکردگی پر اظہار برہمی،ملک میں حکومتی رٹ نظر نہیں آتی۔

22 مارچ 2012 (19:51)
جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس امیر ہانی مسلم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ثمینہ اجتماعی زیادتی،ثوبیہ اغوا اور شگفتہ زیادتی مقدمات کی سماعت کی ۔عدالت میں سی سی پی او لاہور سمیت اعلی پولیس افسران بھی موجود تھے۔عدالت نے تینوں مقدمات میں پولیس کی ناقص کارکردگی پر پولیس افسران کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہرکیس پولیس کی بے ایمانی کے متعلق چیخ چیخ کر بیان کر رہا ہے مگر نہ خدا کا خوف ہے اور نہ عاقبت اندیشی ۔ظلم میں ہم سب برابر کے شریک ہیں ۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ثوبیہ اجتماعی زیادتی کیس میں ملزم اصغر کی گرفتاری کے لیے اخبار میں اشتہار دے دیا گیا ہے جس پر عدالت نے سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کیا ملزم اشتہار پڑھ کر گرفتاری دے دے گا یہ عدالتوں کا مزاق اڑانے کے مترادف ہے۔عدالت کو مزید بتایاگیا کہ ثوبیہ اغواء کیس میں بھرپورکوشش کی جارہی ہے کہ مغویہ کو بازیاب کرایا جاسکے ۔عدالت نے تینوں کیسوں کی سماعت ستائیس مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا کہ مغویہ ثوبیہ کو بازیاب اور ثمینہ زیادتی کیس کے ملزم اصغر کو گرفتار کرکے پیش کیا جائے ۔عدالت نے تینوں کیسوں میں آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے ۔