جمعرات ‘ 28 ربیع الثانی 1433ھ22 مارچ 2012 ئ

22 مارچ 2012
لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس عمر عطا بندیال نے بلیک لسٹ کمپنی سے انجنوں کی خریداری پر حکومت اور وزارت ریلوے سے جواب طلب کرلیا۔
ریلوے خور مسٹر بلور کے بند گلے سے آواز نہیں نکلتی مگر اسکی بددیانتی کی آواز پورے ملک میں گونج رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے مغل اعظم اس لئے اپنے محل میں خاموش بیٹھے ہیں کہ یہ ریلوے خور اس پارٹی کا جزو لاینفک ہے جس کا پاکستان اور قائداعظم سے عناد ثابت ہو چکا ہے۔ اپنی کرسی کو بچانے کیلئے یہ کھلی بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے؟ وطن کے دوست یہ ہیں‘ نہ وہ‘ ایک کرسی ہے جو ڈالر کماتی اور خلق خدا کو رلاتی ہے۔
چار سال گزر گئے‘ پانچواں بھی اسی لوٹ مار اور قوم پر بار میں گزر جائیگا۔ اگر عوام نے پھر سے ان کو ہی موقع فراہم کر دیا تو پھر اپنے کئے کا علاج تو لقمان کے پاس بھی نہ تھا۔ یہ قوم بھی اگلے پانچ سال پاکستان دشمنوں کے جلو میں کاٹے گی۔ یہ ملک یہاں کے عوام کیلئے جیل بن چکا ہے....ع
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
پاکستان ریلوے Hell way بن چکی ہے اور خیبر پختونخواہ کی بلیک میلنگ پھر بھی زرداری کو سستی پڑ رہی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے بلیک لسٹ کمپنی سے انجنوں کی خریداری کا جواب طلب کیا ہے تو خریدار کو بھی طلب کرکے ایسی سزا دے کہ قانون کی روح خوش ہو جائے۔ یہ بلوور صاحب بڑے چالاک پیرا سائٹ ہیں‘ انکے حربوں سے علالت ہوشیار رہے گی تو یہ بلیک لسٹ وزیر فقیر بن سکے گا ورنہ یہ تو قارونِ جہاں بننے کی راہ پر چل کر ملک کے ایک محکمے کو ہڑپ کر جائیگا اور انجن تو کجا‘ یہاں پٹڑی بھی نظر نہیں آئیگی۔
٭....٭....٭....٭
برطانوی عدلیہ نے نقاب نہ ہٹانے پر مسلم خاتون جج کو جیوری سے نکال دیا۔ اب انکی جگہ ایک انگریز خاتون کو جج تعینات کردیا گیا ہے۔
یہ ہے وہ برطانوی عدلیہ جس پر چرچل کو بڑا ناز تھا‘ جب عدلیہ اپنے ہی مسلمان رکن کو انصاف نہیں دےگی تو پھر وہ دوسرے مسلمانوں کےساتھ کیا سلوک کریگی؟ یہ نقاب یہ حجاب جو اسلامی شعائر میں سے ہے‘ اس کیخلاف پوری مغربی دنیا میں ایک سازش روبہ عمل ہے اور اسکے پیچھے وہ صہیونی سازش کارفرما ہے جس نے اسلام مخالف کارروائیوں ہی کی خاطر نائن الیون کا ڈرامہ رچایا تھا اس کا جواب تو یہ ہے کہ کسی اسلامی ملک میں عیسائیوں کو جو یہودیوں کی پسلی سے نکلے ہیں‘ انکے مذہب شعائر سے روک دیا جائے کیونکہ Tit for tat ہی سے کام چلے گا وگرنہ ایک دن وہ بھی آئیگا جب مسلمانوں کو کوچہ¿ مغرب سے بصد سامانِ رسوائی نکال دیا جائیگا۔ یہی وہ منصوبہ ہے اسلام دشمنوں کا۔
یہ وہ اعزاز مسلم ہیں جو اسے بلندی پر پہنچا کر دھکا دیتے ہیں۔ اہل وطن اپنے ملک کو غداروں اور اسلام دشمنوں کے یاروں سے خالی کرائیں۔ اپنے وسائل بروئے کار لائیں کہ دشمن کے دروازے پر روٹی کیلئے دستک دینے کی نوبت ہی نہ آئے اور پھر اپنی سرحدوں‘ فضاﺅں کو ان کیلئے بزور بازوئے حیدر روک دیا جائے تاکہ وہ نقاب جو یہ ہٹانا چاہتے ہیں‘ انکی عقل و خرد پر پڑے۔ اور یہ جان سکیں کہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی غیرت دینی ان کو کس طرح ناکوں چنے چبواتی ہے۔
انگریز کو بھی صہیونی رنگریز نے اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے‘ اب یہ نقاب پڑا رہے گا تاکہ روسیاہ اسلام دشمنوں کے چہروں سے نقاب اٹھ جائے۔ خنزیر خوروں سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے؟
٭....٭....٭....٭
سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ فضل کریم نے کہا: امریکہ کو خدا حافظ کہنا ہی قومی مفاد کا تقاضا ہے۔
کمبل نہ چھوڑے تو ڈوبنے والا کیا کرے؟ امریکہ پاکستان کو چھوڑے تو یہود و ہنود کو کیسے چھوڑے‘ امریکہ جب خود اپنا نہیں رہا‘ تو وہ ہمارا کیا بنے گا یہ تو نیوورلڈ آرڈر ہے جو یہود نے چلا رکھا ہے۔ اس نے پہلے سپرپاور کو شکار کیا پھر اسکے ذریعے ساری مسلم دنیا کو ان غداروں پر چھوڑ دیا جو انکے لے پالک ہوئے ہیں۔
ویسے امریکہ کو خداحافظ نہیں شیطان حافظ کہنا زیادہ درست ہے اور یہ بھی ذہن میں رہے کہ امریکہ حافظوں کا تو ویسے بھی دشمن ہے اس لئے اسکے روبرو یہ لفظ تک نہ بولیں۔ صاحبزادہ فضل کریم بھی کسی زمانے میں وزیر تھے‘ مگر وہ پاکدامن ہی رہے۔ انہوں نے حج کو حج ہی سمجھا‘ پیسہ کمانے کا چج نہیں جانا۔
صاحبزادہ صاحب بہت بڑے باپ کے بیٹے ہیں‘ فیصل آباد میں مولانا سردار احمدؒ کا علم سماتا نہ تھا‘ ایک مرتبہ ہم سفر میں تھے کہ راہ میں ایک دیوار پر یہ لکھا پایا‘ جامعہ سردارالعلوم‘ ہم نے پہلی بار سردارالعلوم کی ترکیب دیکھی تو یقین آگیا کہ واقعی عرب و عجم میں کوئی فرق نہیں‘ البتہ صاحبزادہ صاحب کو فرصت ملے تو اس ترکیب کو گرامر کی رو سے ٹھیک کردیں تاکہ عربی‘ عربی اور فارسی فارسی رہے۔ اس سے بتکدہ فارس میں کوئی شعلہ نہیں بھڑکے گا کیونکہ اسے تو سید المرسلین کی ولادت باسعادت نے بجھا کر رکھ دیا تھا۔
بہرحال صاحبزادہ صاحب ہمیں عزیز ہیں‘ اس لئے یہ شعر ان کی نذر ہے....
بہر جا کہ باشی خدا یارِتو
محمد ہمیشہ نگبدار تو